اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ریلز اور شارٹ ویڈیوز نوجوانوں کی ذہنی صحت  کے لیے سنگین خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

سوشل میڈیا پر مختصر (شارٹ) ویڈیوز اب نوجوانوں اور کم عمر افراد کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چند سیکنڈز پر مشتمل یہ ویڈیوز بظاہر بے ضرر تفریح محسوس ہوتی ہیں، مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے ان کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کیا ہے جو تشویشناک ہے۔

ایک جامع سائنسی جائزے کے مطابق مختصر ویڈیوز کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ذہنی صلاحیتوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے۔

70 مطالعات پر مبنی سائنسی جائزہ

یہ نتائج ایک تازہ اور جامع تجزیاتی سائنسی جائزے سے سامنے آئے ہیں، جس میں 70 مختلف مطالعات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

اس جائزے میں خاص طور پر یہ جانچنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مختصر ویڈیوز کا بڑھتا ہوا استعمال نوجوانوں اور بلوغت کی طرف بڑھتے ہوئے نوعمر افراد کی ذہنی صحت، نفسیاتی کیفیت، فلاح و بہبود اور ادراکی صلاحیتوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے۔

یہ رپورٹ معروف سائنسی و نفسیاتی ویب سائٹ Psychology Today میں شائع ہوئی، جس کا حوالہ عرب میڈیا نے بھی دیا ہے۔

short videos making stress 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

شارٹ ویڈیوز کیسے کام کرتی ہیں؟

شارٹ ویڈیوز چند سیکنڈ سے لے کر چند منٹ تک کے دورانیے پر مشتمل ہوتی ہیں اور انہیں مخصوص خودکار الگورتھمز کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔

ان پلیٹ فارمز میں آٹو پلے، لامتناہی اسکرول اور صارف کی پسند کے مطابق مواد کی پیشکش جیسے فیچرز شامل ہوتے ہیں، جس کے باعث صارف کو اگلی ویڈیو منتخب کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہی ڈیزائن یا خودکار سسٹم نوجوانوں کو غیر محسوس طریقے سے طویل وقت تک اسکرین سے جوڑے رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

مسلسل اسکرول کی لت اور اثرات

تحقیق کے مطابق یہ ویڈیوز خاص طور پر اس طرح تیار کی جاتی ہیں کہ دیکھنے والے کی توجہ مسلسل برقرار رہے۔ ہر نئی اسکرول پر غیر متوقع مواد سامنے آتا ہے، جو دماغ میں ایک طرح سے انعامی نظام (Reward System) کو متحرک کرتا ہے، جو رفتہ رفتہ ایسے رویوں کو جنم دیتا ہے جن میں:
• بار بار دیکھنے کی خواہش
• خود پر قابو کھونے کا احساس
• دیکھنا بند کرنے میں دشواری
جیسے مسائل شامل ہو جاتے ہیں، جو مسلسل استعمال کو صارف کی مجبوری بنا دیتے ہیں۔

short videos making stress 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ذہنی صحت پر منفی اثرات

سائنسی جائزے میں شامل مطالعات کے مطابق شارٹ ویڈیوز کا زیادہ استعمال درج ذیل ذہنی مسائل سے جڑا ہوا پایا گیا:
• ڈپریشن اور منفی مزاج میں اضافہ
• بے چینی، اضطراب اور ذہنی دباؤ
• تنہائی کے احساس میں اضافہ
• مجموعی ذہنی نشوونما میں کمی
• استعمال کرنا مجبوری بن جانا
• نیند کے دورانیے میں نمایاں کمی
یہ تمام علامات خاص طور پر بلوغت کی طرف بڑھتے نوعمروں اور نوجوانوں میں زیادہ شدت کے ساتھ دیکھی گئیں۔

مسئلہ وقت کا نہیں، استعمال کا ہے

کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں ایسٹ اونٹاریو چلڈرن ہاسپٹل کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر گیری گولڈفیلڈ کے مطابق مسئلہ صرف اسکرین پر گزارے گئے وقت کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ نوجوان یہ مواد کیوں اور کیسے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب استعمال بار بار ہو، جذبات کے زیرِ اثر ہو یا اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے، تو ذہنی صحت پر اس کے منفی اثرات کہیں زیادہ شدید ہو جاتے ہیں۔

short videos making stress 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تحقیق میں صرف ذہنی صحت ہی نہیں بلکہ ادراکی افعال (Cognitive Functions) پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں وہ صلاحیتیں شامل ہیں جو تعلیم اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

نتائج کے مطابق شارٹ ویڈیوز کا حد سے زیادہ اور لت کے طور پر استعمال نوجوانوں میں:
• توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت میں کمی
• سست اور مشکل کاموں پر توجہ دینے میں دشواری
• بوریت برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی
• فوری تسکین کی عادت
جیسے مسائل پیدا کر رہا ہے۔

ڈیجیٹل اسٹریس

محققین کے مطابق تیز رفتار اور مسلسل بدلتے مناظر پر مشتمل یہ ویڈیوز دماغ پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔ یہ کیفیت ’ڈیجیٹل اسٹریس ہائپوتھیسس‘کہلاتی ہے، جس میں دماغ کو ایک کے بعد ایک محرک ملتا رہتا ہے، جس سے طویل مدت میں ادراکی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔

نیند اور صحت مند سرگرمیوں سے محرومی

شارٹ ویڈیوز کا زیادہ استعمال نیند پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے، جبکہ بلوغت کی طرف بڑھتے نوعمروں کے لیے نیند ذہنی اور دماغی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے دیگر مثبت عوامل پیچھے رہ جاتے ہیں، جیسے جسمانی سرگرمی، دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت، فطرت سے قربت، مشاغل اور ذاتی ترقی وغیرہ۔ یہ تمام عوامل ذہنی صحت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

short videos making stress 5
(فوٹو: انٹرنیٹ)

حساس عمر میں زیادہ خطرہ

تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے نوعمروں کے لیے یہ وقت دماغی نشوونما کے لحاظ سے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر شارٹ ویڈیوز کا غیر متوازن استعمال ذہنی صحت اور ادراکی نشوونما کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔

اس سائنسی جائزے کا خلاصہ یہی ہے کہ شارٹ ویڈیوز کے پلیٹ فارمز نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ادراک کے لیے سنجیدہ خطرات رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اور ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے، نوجوانوں میں اسکرین ٹائم محدود کیا جائے، والدین، تعلیمی ادارے اور پالیسی ساز اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ کیونکہ اگر اس منفی رجحان کو نظر انداز کیا گیا تو آنے والی نسل کی ذہنی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔