اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

وزن میں کمی کرنے والے انجیکشنز سے لاحق خاموش خطرات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

دنیا بھر میں وزن کم کرنے کے جدید انجیکشنز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، تاہم نئی سائنسی تحقیق نے ان کے ایک ایسے پہلو کی نشاندہی کی ہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے اشتراک سے کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق Ozempic اور Wegovy جیسی ادویات استعمال کرنے والے بہت سے افراد غذائی قلت اور عضلاتی کمزوری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب علاج کے ساتھ مناسب غذائی رہنمائی فراہم نہ کی جائے۔

تحقیق کیا کہتی ہے؟

یہ تحقیق سائنسی جریدے Obesity Reviews میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ GLP-1 ہارمون کی نقل پر مبنی یہ ادویات بھوک میں نمایاں کمی اور دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں افراد اپنی روزمرہ خوراک میں 16 سے 39 فیصد تک کم کیلوریز لینا شروع کر دیتے ہیں۔

اگرچہ اس عمل سے وزن میں کمی ہوتی ہے، تاہم محققین خبردار کرتے ہیں کہ کم کھانا اکثر متوازن غذائیت کی قربانی دے کر حاصل کیا جاتا ہے۔

weight loss injections 1
(فوٹو: اے آئی)

وزن کم، مگر نقصان

تحقیق کے نتائج کے مطابق ان ادویات کے استعمال کے دوران کم ہونے والے وزن کا 40 فیصد تک حصہ چکنائی کے بجائے بغیر چربی والے جسمانی حصوں پر مشتمل ہو سکتا ہے، جن میں عضلات بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عضلاتی کمزوری کے ساتھ ساتھ پروٹین، وٹامنز اور ضروری معدنیات کی کمی بھی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مسلسل تھکن، مدافعتی نظام کی کمزوری، بالوں کا جھڑنا اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

بھوک کم محسوس کرنا مسئلے کا حل نہیں

UCL کے سینٹر فار اوبیسٹی ریسرچ سے وابستہ ڈاکٹر ایڈریان براؤن کے مطابق یہ ادویات ’کھانے کے رویے‘ کو نمایاں طور پر بدل دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر بھوک کم ہونے کے ساتھ غذائی رہنمائی فراہم نہ کی جائے تو مریض غیر متوازن خوراک کی طرف جا سکتے ہیں، جس میں پروٹین، فائبر اور اہم مائیکرو نیوٹرینٹس کی شدید کمی ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اندازاً 15 لاکھ افراد یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں، جن میں سے 95 فیصد نجی شعبے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ نجی نظام میں غذائی مشاورت اور باقاعدہ فالو اپ اکثر دستیاب نہیں ہوتا، حالانکہ یہی چیز برطانوی نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس (NICE) کی ہدایات کا بنیادی حصہ ہے۔

NICE کے مطابق دوا سیماگلوٹائیڈ کا استعمال صرف اس صورت میں مؤثر اور محفوظ ہو سکتا ہے جب اسے کم کیلوریز والی خوراک اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی پر مشتمل مکمل پروگرام کے ساتھ جوڑا جائے۔

طبی ماہرین صرف دوا پر انحصار کو غیر محفوظ حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔

weight loss injections 3
(فوٹو: اے آئی)

ایک مسئلہ ختم، دوسرا شروع

کیمبرج میں میڈیکل ریسرچ کونسل کی وبائی امراض کی ریسرچ یونٹ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر میری سپرکلے کے مطابق ان ادویات کے تیزی سے پھیلاؤ کے مقابلے میں غذائی معاونت کا نظام بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غذائی رہنمائی کو نظر انداز کرنا ’ایک صحت کے مسئلے کو دوسرے مسئلے سے بدل دینے‘ کے مترادف ہو سکتا ہے۔

محققین نے تجویز دی ہے کہ مٹاپے کی سرجری کے بعد اختیار کیے جانے والے غذائی ماڈلز سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ ان ماڈلز میں اعلیٰ معیار کے پروٹین پر توجہ، دن بھر خوراک کی مناسب تقسیم اور غذائی قلت سے بچاؤ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے، تاکہ عضلات محفوظ رہیں اور جسمانی طاقت برقرار رہے۔

مزید مطالعات کی ضرورت

اگرچہ وزن کم کرنے والی یہ ادویات بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں، مگر محققین کو صرف 12 ایسی تحقیقات مل سکیں جو علاج کے ساتھ غذائی پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہیں۔

یہ صورت حال ایک واضح تحقیقی خلا کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ مریضوں کے حقیقی تجربات پر مبنی مزید جامع مطالعات کی ضرورت ہے، تاکہ طویل المدتی صحت اور طرزِ زندگی پر ان ادویات کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ وزن کم کرنے والی یہ ادویات مٹاپے کے علاج میں ایک مؤثر ذریعہ ہو سکتی ہیں، مگر انہیں کسی جادوئی حل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ لہٰذا محفوظ اور پائیدار نتائج کے لیے ضروری ہے کہ دواؤں کے استعمال کو ماہر غذائی نگرانی، متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کے ساتھ جوڑا جائے، ورنہ وزن میں کمی کے ساتھ صحت کا توازن بگڑنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔