سربرآوردہ علما بورڈ کے رکن ایوان شاہی کے مشیر شیخ عبداللہ بن سلیمان المنیع نے شعبان اور رمضان 1447ھ کے آغاز اور اختتام سے متعلق نہایت دقیق فلکیاتی تفصیلات جاری کی ہیں۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مہینوں کے داخل ہونے کا حتمی فیصلہ متعلقہ مجاز ادارے کی منظور شدہ شرعی رؤیت ہی کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق شیخ المنیع نے وضاحت کی کہ رواں سال شعبان کے دن 29 ہوں گے۔
شعبان کا آغاز منگل 20 جنوری 2026ء کو ہوا کیونکہ رجب 30 دن مکمل کر کے پیر 19 جنوری 2026ء کو ختم ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اتوار 18 جنوری 2026ء رجب کی 29 تاریخ تھی، جس دن مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق چاند شام 5:42 پر غروب ہو گیا
جبکہ سورج 6:02 پر غروب ہوا۔
اس بنا پر پیر کا دن رجب کا 30 واں اور مکمل کرنے والا دن قرار پایا اور منگل 20 جنوری 2026ء شعبان کی پہلی تاریخ بنی۔
شیخ المنیع نے مزید کہا کہ فلکیاتی حساب کے مطابق شعبان کا اختتام منگل 29 شعبان بمطابق 17 فروری 2026ء کو ہوگا۔
اس روز مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق سورج شام 6:20 پر غروب ہوگا جبکہ چاند سورج کے بعد شام 6:22 پر غروب ہوگا یعنی سورج کے غروب ہونے کے صرف دو منٹ بعد۔
انہوں نے اس معمولی زمانی فرق جو صرف دو منٹ ہے،کے اثر پر سوال اٹھایا کہ آیا اس سے رمضان کے ہلال کی رؤیت ممکن ہو سکے گی یا نہیں۔
تاہم فلکیاتی حسابات کے مطابق اگلا دن، بدھ 18 فروری 2026ء، ماہِ رمضان المبارک کا پہلا دن قرار پاتا ہے، اس کے ساتھ یہ بات بھی دہرائی گئی کہ شرعی فیصلہ بہرحال متعلقہ مجاز شرعی ادارہ ہی کرے گا۔
شیخ المنیع نے وضاحت کی کہ ماہِ شوال کے دن بھی 29 ہوں گے اور ان حسابات کے مطابق شوال کا آغاز جمعہ 20 مارچ 2026ء کو ہوگا اور اختتام جمعہ 17 اپریل 2026ء کو، یوں جمعہ 20 مارچ 2026ء عیدالفطر کا دن ہوگا بشرطیکہ شرعی طور پر اس کی تصدیق ہو جائے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کیا کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ رمضان کا پہلا دن بدھ 18 فروری 2026ء ہے تو بدھ 29 رمضان کو سورج شام 6:32 پر غروب ہوگا جبکہ چاند اس سے پہلے شام 6:02 پر غروب ہو جائے گا، یعنی سورج سے 30 منٹ قبل۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جمعرات کا دن رمضان کے 30 دن پورے کرنے والا اور آخری دن ہوگا اور عیدالفطر جمعہ 20 مارچ 2026ء کو ہوگی۔
آخر میں شیخ عبد اللہ بن سلیمان المنیع نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام تفصیلات فلکیاتی حسابات پر مبنی ہیں جبکہ رمضان اور شوال کے آغاز و اختتام کا حتمی فیصلہ ہمیشہ کی طرح متعلقہ سرکاری شرعی رؤیت کے اعلان کے مطابق ہی ہوگا۔