ایران پر امریکا کے ممکنہ فوجی حملے کا سوال ایک بار پھر عالمی سیاست، ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں اور توانائی منڈیوں میں زیر بحث آچکا ہے۔
مزید پڑھیں
’الشرق‘ ویب سائٹ کے مطابق اگرچہ خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کے نزدیک یہ حملہ خارج از امکان نہیں، تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مستقل اور شدید اضافہ لازمی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ممکنہ حملے کے بعد ایران کا ری ایکشن کیا ہوگا اور یہ ردعمل تیل کی پیداوار و ترسیل کو متاثر کرتا ہے یا نہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دارومدار
ماہرین کے مطابق امریکی حملے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے لیے 3 بنیادی مراحل کا پورا ہونا ضروری ہے:
اول: ایرانی حکومت ابتدائی حملے کے بعد برقرار رہتی ہے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کھو نہیں دیتی۔
دوم: ایران محض علامتی کارروائی کے بجائے ایسا ردعمل دیتا ہے جو عملی طور پر اثر رکھتا ہو۔
سوم: ایرانی جوابی کارروائیاں امریکی یا اسرائیلی اہداف تک محدود رہنے کے بجائے تیل کے انفرااسٹرکچر یا شپنگ روٹس کو نشانہ بنائیں۔
ان تینوں مراحل کے نتائج طے کریں گے کہ عالمی تیل منڈی کا مستقبل مستحکم رہے گا یا خدشات کے مطابق شدید دباؤ میں آ سکتا ہے۔
ایسے حالات جو تیل کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں
خطے کی صورت حال کے تناظر میں کچھ منظرنامے ایسے بھی ہیں جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایران میں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور اقتدار کا خلا پیدا ہوتا ہے تو تیل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ایک کم امکان مگر اہم صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امریکا براہِ راست حملوں کے بجائے ایرانی تیل بردار جہازوں کو روکنے یا ضبط کرنے کی حکمت عملی اپنائے، جس سے سپلائی میں کمی آ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ قدم وسیع جنگ یا علاقائی تصادم کے بغیر مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ایسے حالات جو تیل منڈی کو بچا سکتے ہیں
یہ بات بھی اہم ہے کہ حالات کے تمام منظرنامے تیل کی قیمتوں میں بحران ہی پیدا نہیں کرتے۔ ایران یہ بھی اختیار کر سکتا ہے کہ وہ محض علامتی ردعمل دے یا اس کی جوابی صلاحیت محدود ہو جائے۔
اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ شدید فوجی کشیدگی کے باوجود تیل کی تنصیبات اور شپنگ روٹس کو دانستہ طور پر نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایسی صورت میں زمینی سطح پر تیل کی سپلائی برقرار رہتی ہے اور مارکیٹ کا ردعمل محدود اور عارضی رہتا ہے۔
امریکی حکمت عملی اور خطے میں کشیدگی
اگرچہ حالیہ دنوں میں بیانات کی شدت میں کمی اور بات چیت کے امکانات کی بات کی جا رہی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارت کاری ایسی وقتی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جو زیادہ دیر نہ چلے کیوں کہ ہو سکتا ہے امریکی مطالبات ایران کے لیے ناقابلِ قبول ہوں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ طرزِ عمل کو دیکھا جائے تو وہ اکثر دھمکیوں کو عملی شکل دینے سے گریز نہیں کرتے۔
حملے کی صورت میں ایران کا سیاسی مستقبل
ایران پر امریکی حملے کی صورت میں ایسے واقعات تسلسل سے پیدا ہو سکتے ہیں جو بالآخر ایرانی ریاست کے کمزور یا منہدم ہونے پر منتج ہوں۔ اس کے بعد مختلف سیاسی راستے سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جمہوری نظام کے قیام کا امکان بہت کمزور ہے جبکہ مضبوط آمرانہ نظام زیادہ متوقع ہے۔ البتہ بدترین صورت میں انتشار اور بے امنی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف بے امنی ہی تیل کی سپلائی کے لیے خطرہ بنتی ہے اور یہ بھی یقینی نہیں ہے۔ عراق کی مثال سامنے ہے جہاں 2003 کے بعد شدید تشدد کے باوجود وقت کے ساتھ تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
کیا صرف حملے سے ایرانی نظام گر سکتا ہے؟
صرف فضائی یا محدود فوجی کارروائیاں کسی بھی ریاست کو گرانے کی ضمانت نہیں ہوتیں، خاص طور پر جب زمینی افواج شامل نہ ہوں۔ ایران ابتدائی حملے کو برداشت کر سکتا ہے، یا محدود ردعمل دے کر صورتحال کو مذاکرات کی طرف موڑ سکتا ہے۔
ایسی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اگر اضافہ ہوتا بھی ہے تو وہ وقتی اور محدود ہوگا۔
بدترین منظرنامہ کیا ہو سکتا ہے؟
اگر ایرانی قیادت اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے فیصلہ سازی میں متحد رہے تو وہ علاقائی جنگ کا راستہ بھی اپنا سکتی ہے۔
خلیج یا عراق میں تیل کے ذخائر پر حملے یا اہم بحری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانا تیل کی سپلائی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ سب سے خطرناک قدم آبنائے ہرمز کی بندش ہوگا، جو عالمی تیل منڈی کے لیے سب سے بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک اور منظرنامہ: ایران-اسرائیل جنگ
جون میں ہونے والی ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اس بات کی مثال ہے کہ شدید فوجی تصادم کے باوجود تیل کی سپلائی محفوظ رہ سکتی ہے۔ دونوں جانب سے سخت حملے ہوئے مگر توانائی کے انفرااسٹرکچر کو بڑی حد تک نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اسی طرح اکتوبر 2023 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا کہ عسکری کشیدگی کے نتیجے میں لازمی طور پر تیل کی قیمتوں میں بحران پیدا نہیں ہوا۔
سات ممکنہ منظرنامے اور تیل کی منڈی
ماہرین نے امریکی حملے کے بعد سات ممکنہ منظرنامے بیان کیے ہیں۔ ان میں سے 4 ایسے ہیں جو تیل کی قیمتوں میں شدید اور طویل اضافے کا باعث نہیں بنیں گے جبکہ 2 منظرنامے ایسے ہیں جن میں اگر ایران خلیجی شپنگ لائنز یا پڑوسی ممالک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو قیمتوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اسی طرح ایک منظرنامہ یعنی ایران کے اندرونی انتشار کی صورت بھی ہے، جو وقتی طور پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔