اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

سعودیہ سمیت 5 عرب ممالک کا سلووینیا کی ہم منصب کے ساتھ اجلاس

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: سبق)

سعودی عرب، اُردن، مصر، بحرین اور قطر کے وزرائے خارجہ نے سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے ساتھ ایک وسیع البنیاد سفارتی اجلاس میں شرکت کی۔

مزید پڑھیں

اس اہم اجلاس میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال، علاقائی و عالمی سلامتی، فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت، خطے کی تازہ پیش رفت اور روس یوکرین بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ، اُردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و امورِ تارکین وطن ایمن الصفدی، مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی، بحرین کے وزیر خارجہ 

عبداللطیف الزیانی اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور سلطان المریخی شریک ہوئے جبکہ سلووینیا کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و یورپی امور تانیا فاجون نے میزبان وفد کی قیادت کی۔

گفتگو کے دوران وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا، جن میں سرفہرست غزہ کی موجودہ صورتحال تھی۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد، اس کی تمام شقوں کی پاسداری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مناسب اور مسلسل امداد کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیا۔

faisal bin farhan bin abdullah 2
(فوٹو: سبق)

وزرا نے امن کے لیے جاری کوششوں کو کامیاب بنانے اور ایک واضح سیاسی سمت کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا، جس کے تحت جون 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے، جس کا دارالحکومت القدس ہو اور یہ تمام عمل دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہو۔

اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جہاں وزرا نے اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مقبوضہ القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات حالات کو مزید بگاڑنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔

عرب وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں سلووینیا کے مؤقف کو سراہا اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو مثبت اور اہم قدم قرار دیا۔

مذاکرات کے دوران خطے میں مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات و مکالمے کے کردار اور روس یوکرین بحران کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔