اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال، مصر میں بچوں کے لیے قانون بنانے کی تیاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

مصر میں بچوں اور نوعمروں کو ڈیجیٹل دنیا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے حکومت نے اہم قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق نئے قانون کے پیش نظر عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب کے نمائندوں کو باضابطہ طور پر حکومتی محکموں کی جانب سے طلب کر لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو نقصان دہ مواد، ڈیجیٹل تشدد اور نفسیاتی دباؤ سے بچانا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکام نے بچوں کے لیے خطرناک سمجھی جانے والی مشہور آن لائن گیم ’روبلوکس‘ پر پابندی عائد کی اور مزید سخت اقدامات پر غور شروع کیا، جن میں بعض دیگر ایپلی کیشنز کو بند کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

egypt digital regulations 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس سلسلے میں قومی ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری ادارے، سپریم میڈیا کونسل اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں، جبکہ مصری پارلیمنٹ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ضابطے میں لانے کے لیے نئے قانون کا مسودہ تیار کر رہی ہے۔

پارلیمنٹ کی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیٹی کے چیئرمین احمد بدوی نے اس سلسلے میں بتایا کہ آئندہ ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب سمیت بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میٹنگز کا مقصد مختلف آرا سننا اور ایسا متوازن قانونی فریم ورک تیار کرنا ہے جو بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے مگر ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادی بھی برقرار رکھے۔

egypt digital regulations 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

بدوی کے مطابق مجوزہ قانون ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں کی سلامتی سے متعلق عالمی معیارات پر عمل کا پابند بنائے گا اور ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کمپنیوں کو مصر میں باقاعدہ قانونی موجودگی بھی رکھنا ہوگی تاکہ نگرانی اور احتساب ممکن بنایا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں سوشل میڈیا اور ایپس کے بڑھتے استعمال سے بچوں میں نفسیاتی دباؤ، رویوں میں بگاڑ اور ڈیجیٹل لت جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں، جس کے پیش نظر بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے جامع قانون سازی ناگزیر ہے۔