اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

وال اسٹریٹ میں ایک ٹریلین ڈالر ’غائب‘ اے آئی ٹول نے ہلا کر رکھ دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: انٹرنٹ)

مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس سے صرف 7 دنوں کے دوران وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قدر میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق گزشتہ 3 برس میں چیٹ جی پی ٹی کے وسیع استعمال کے بعد مصنوعی ذہانت سے جڑی فروخت کے کئی رجحانات دیکھے گئے، تاہم حالیہ ہفتے میں اسٹاک اور کریڈٹ مارکیٹس میں آنے والی گراوٹ غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹس کے مطابق صرف  2 دنوں کے اندر سلیکون ویلی کی بڑی اور چھوٹی کمپنیوں کے حصص، بانڈز اور قرضوں کی مالیت سے سیکڑوں ارب ڈالر ختم ہو گئے، جبکہ سافٹ ویئر کمپنیوں کے شیئرز اس مندی کے مرکز میں رہے۔

بلومبرگ کے مطابق iShares ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ میں شامل کمپنیوں کی مجموعی قدر گزشتہ 7 دنوں میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کم ہوئی ہے، 

جس نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار مندی کی وجہ کوئی روایتی معاشی خوف نہیں بلکہ یہ خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت بہت سی کمپنیوں کے کاروباری ماڈلز کو تیزی سے بدل سکتی ہے۔

wallstreet 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

جونز ٹریڈنگ کے چیف مارکیٹ اسٹریٹجسٹ مائیکل اورورک کے مطابق یہ ردعمل غیر ضروری نہیں بلکہ گزشتہ 2 برس سے مصنوعی ذہانت کے دنیا بدلنے کے امکانات پر بات ہو رہی تھی اور اب اس کے عملی آثار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس غیر معمولی گراوٹ کی ابتدائی وجہ بظاہر ایک نئے مصنوعی ذہانت ٹول کا اجرا تھا، جسے اسٹارٹ اپ کمپنی اینتھروپک نے قانونی شعبے کے لیے متعارف کرایا۔ اگرچہ اس پراڈکٹ کو فوری طور پر انقلابی نہیں سمجھا گیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی مستقبل میں سیلز، مارکیٹنگ اور فنانس سمیت کئی شعبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

بینکنگ کے تجزیہ کار جیکسن ایڈر کے مطابق آج یہ ٹیکنالوجی قانونی میدان میں استعمال ہو رہی ہے لیکن کل یہ کاروبار کے دیگر شعبوں میں بھی داخل ہو سکتی ہے۔

wallstreet 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

حالیہ دنوں میں سرمایہ کاروں کی پریشانی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے والی بڑی کمپنیوں میں بھی دباؤ کے آثار سامنے آئے۔ الفابیٹ نے اپنے مالیاتی نتائج میں بتایا کہ مصنوعی ذہانت پر سرمایہ توقع سے زیادہ خرچ ہوگا، جبکہ آرم ہولڈنگز نے آمدنی کی کمزور پیش گوئی جاری کی، جس کے بعد دونوں کمپنیوں کے شیئرز آفٹر آورز ٹریڈنگ میں گر گئے۔

ڈی اے ڈیوڈسن کے منیجنگ ڈائریکٹر گل لوریا کے مطابق ابتدا میں صرف سافٹ ویئر کمپنیوں میں فروخت دیکھنے میں آئی، لیکن اب مندی کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے اور ایک منفی رجحان خود بخود مزید فروخت کو جنم دے رہا ہے۔

یہ مندی صرف امریکی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ برطانیہ کی لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ، بھارت کی ٹاٹا کنسلٹنسی اور انفوسس سمیت کئی عالمی کمپنیوں کے حصص بھی متاثر ہوئے۔

اسی طرح وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی سیکٹر کے قرض دہندگان اور نجی سرمایہ کار بھی دباؤ میں آ گئے، جبکہ امریکی ٹیک کمپنیوں کے 17.7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قرضے حالیہ ہفتوں میں کم سطح پر ٹریڈ ہوتے رہے۔

wallstreet 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایشیا میں بھی اس کے اثرات نمایاں رہے جہاں سام سنگ الیکٹرانکس کے شیئرز میں کمی کے باعث عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والا اسٹاک انڈیکس نیچے آ گیا، جبکہ تائیوان کی ٹیکنالوجی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی۔ جاپان میں آرم کی فروخت سے متعلق انتباہ کے بعد اس کی بڑی سرمایہ کار کمپنی سوفٹ بینک گروپ کے شیئرز بھی گر گئے۔

اگرچہ کچھ خدشات اب بھی موجود ہیں اور بڑی سافٹ ویئر کمپنیاں سیلز فورس اور سروس ناؤ توقع سے کم منافع ظاہر نہیں کر رہیں، تاہم مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات نے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ برسوں میں کئی کمپنیوں نے اپنی اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنے پر توجہ دی، لیکن کچھ کو توقع کے مطابق نتائج نہیں مل سکے۔ مائیکروسافٹ نے حال ہی میں بتایا کہ اس کے اے آئی ٹول کوپائلٹ کے 15 ملین بامعاوضہ صارفین ہیں، جو اس کے مجموعی صارفین کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں نئی کمپنیاں روایتی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر سبقت لے جا سکتی ہیں۔

ایس ایل سی مینجمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈک مولارکی کے مطابق موجودہ صورتحال دراصل اس عمل کی ابتدائی جھلک ہے جس میں یہ طے ہو رہا ہے کہ مستقبل میں کون سی کمپنیاں کامیاب رہیں گی اور کون سی زیادہ خطرے سے دوچار ہوں گی۔