جدید دور کے مالیاتی نظام میں کریڈٹ کارڈ کو سہولت کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن یہی آسانی اکثر غیر محسوس انداز میں صارفین کو زیادہ خرچ کی طرف لے جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا ڈیزائن اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہر سوائپ، ہر کلک اور ہر ’ابھی خریدیں‘ کا انتخاب دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتا ہے جو خوشی اور انعام کے احساس سے جڑے ہوتے ہیں۔
اس عمل کے دوران ڈوپامین نامی ہارمون خارج ہوتا ہے، جو فوری خوشی کا احساس دیتا ہے، جبکہ نقد رقم ادا کرنے سے جڑا وہ نفسیاتی دباؤ
محسوس نہیں ہوتا جو عموماً ہاتھ کو خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
خرچ پر قابو پانے کی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق اس رجحان پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ خریداری کے عمل میں ایسی رکاوٹ پیدا کی جائے جو فوری فیصلے کو سُست کردے اور سوچنے کا موقع فراہم کرے۔
اسی مقصد کے لیے ماہرین کچھ عملی اقدامات تجویز کرتے ہیں جو روزمرہ اخراجات کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
1۔ کارڈ کی محفوظ معلومات کو حذف کریں
براؤزرز اور موبائل ایپس میں سے کریڈٹ کارڈ کی محفوظ معلومات کو حذف کرنا پہلا مؤثر قدم ہے۔ جب صارف کو ہر بار کارڈ نمبر دستی طور پر درج کرنا پڑتا ہے تو دماغ کا وہ حصہ فعال ہو جاتا ہے جو منطقی سوچ سے متعلق ہے اور یوں خریداری سے پہلے فیصلہ دوبارہ جانچنے کا موقع ملتا ہے۔
2۔ نقد ادائیگی کو ترجیح دینا
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اختیاری اخراجات، جیسے باہر کھانا یا کپڑوں کی خریداری نقد رقم سے کی جائے کیونکہ بٹوے سے رقم کم ہوتے دیکھنا دماغ میں اس احساس کو متحرک کرتا ہے جو خرچ کے ساتھ جڑے ’درد‘ سے تعلق رکھتا ہے اور یہی احساس غیر ضروری خرچ کو قدرتی طور پر محدود کرتا ہے۔
3۔ خریداری سے پہلے اپنی کیفیت دیکھیں
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہر خریداری سے پہلے اپنی جذباتی حالت کو نوٹ کیا جائے۔ اس عمل سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کون سی کیفیات مثلاً دباؤ، بوریت یا اداسی زیادہ خرچ کی طرف مائل کرتی ہیں اور پھر ان محرکات کو خریداری کے بجائے کسی اور مثبت طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔
4۔ 24 گھنٹے کا اصول
غیر ضروری اشیا خریدنے سے پہلے کم از کم 24 گھنٹے انتظار کرنے کا اصول بھی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ یہ وقفہ فوری خواہش کو کم کرتا ہے اور صارف کو یہ سوچنے کی مہلت دیتا ہے کہ آیا خریداری واقعی ضروری ہے یا نہیں اور اکثر یہی تاخیر غیر ضروری خرچ کو روک دیتی ہے۔
5۔ ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادائیگی کے لیے ڈیبٹ کارڈ کو بنیادی انتخاب بنانا مالی نظم و ضبط میں مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے رقم براہِ راست اکاؤنٹ سے کٹتی ہے اور قرض یا سود جمع ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے جبکہ صارف کو اپنے بیلنس کا فوری اندازہ بھی رہتا ہے۔
6۔ کسی اہم ضرورت کو یاد رکھنا
رپورٹ کے مطابق غیر ضروری خریداری سے گریز کو کسی واضح مقصد سے جوڑنا بھی نہایت اہم ہے۔ مثال کے طور پر خود کو یاد دلانا کہ یہی رقم مستقبل کے سفر، ہنگامی ضرورت یا کسی اہم مقصد کے لیے محفوظ کی جا رہی ہے، مالی فیصلوں پر کنٹرول کو مضبوط بناتا ہے۔
ماہرین کے نزدیک واضح اور ٹھوس مالی اہداف ہی وہ بنیاد ہیں جو روزمرہ خواہشات اور معاشی حقیقت کے درمیان متوازن راستہ پیدا کرتے ہیں۔