امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق گھر میں خاندان کے ایک ساتھ مل کر کھانا کھانے کی روایت خصوصاً ’فیملی ڈنر‘نوعمر افراد میں منشیات کے استعمال کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق اس تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے نوجوان جو باقاعدگی سے روایتی طور پر اہل خانہ کے ساتھ کھانا کھانے میں شریک ہوتے ہیں، ان میں منشیات کے استعمال کا امکان تقریباً 30 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم یہ حفاظتی اثر اُن نوجوانوں میں کمزور یا ختم ہو جاتا ہے جو بچپن میں شدید نفسیاتی صدمات کا شکار رہے ہوں۔
میڈیکل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ٹفٹس یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے محققین نے امریکا بھر سے 12 سے 17 سال کی عمر کے 2090 نوجوانوں اور ان کے والدین پر مشتمل آن لائن سروے کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ہے۔
اس سروے میں فیملی کے اکٹھے ہوکر کھانا کھانے، گھریلو ماحول، کھانے کے دوران لطف اندوزی، ڈیجیٹل آلات کے استعمال اور دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ گزشتہ 6 ماہ کے دوران نوعمر افراد کی جانب سے الکحل، ای سگریٹ اور کینابس کے استعمال سے متعلق معلومات بھی جمع کی گئیں۔
یہ تحقیق ’جارحیت، بدسلوکی اور نفسیاتی صدمات‘ کے موضوع پر شائع ہونے والے سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ روایتی طور پر اہل خانہ کے ساتھ مل کر کھانے والے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح میں 22 سے 34 فیصد تک کمی آئی ہے جو بچپن کے منفی تجربات سے محفوظ رہے یا انہیں کم یا درمیانے درجے کے نفسیاتی دباؤ کا سامنا رہا۔
تحقیق کی سربراہ اور ٹفٹس یونیورسٹی کی پروفیسر مارگی اسکیئر کے مطابق اس معاملے میں اصل اہمیت کھانے یا وقت کی نہیں بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان تعلق اور باہمی رابطے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مل کر کھانا یا مشترکہ طور پر تھوڑے وقت کے لیے بات چیت بھی خاندان کے اندر مثبت رابطے کو فروغ دیتی ہے، جو طویل مدت میں بہتر نتائج کا باعث بنتی ہے۔
دوسری جانب تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ نوجوان جو بچپن میں شدید ذہنی دباؤ یا صدمات جیسے گھریلو تشدد، والدین میں سے کسی کے منشیات کے استعمال یا طلاق جیسے حالات سے گزرے ہوں، ان کے لیے اہل خانہ کے ساتھ مل کر کھانا اتنا مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ نتائج کے مطابق اس گروہ میں خاندان کے ساتھ مل کر کھانے کا اثر یا تو بہت محدود ہوتا ہے یا تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسے نوجوانوں کو نفسیاتی صدمات کے مطابق پیشہ ورانہ مدد اور خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ صرف خاندانی معمولات یا مل کر کھانا کھانا ان کے مسائل کے حل کے لیے کافی نہیں ہوتا۔
تحقیق میں مزید کہا گیا کہ خاندان کا مل کر کھانا کھانا اگرچہ زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک مؤثر اور آسان ذریعہ ہیں، لیکن شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار نوجوانوں کے لیے اضافی اقدامات ناگزیر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم آئندہ اس بات کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے کہ کیا خاندانی یا سماجی روابط کی دیگر صورتیں ایسے نوجوانوں کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں جو بچپن میں شدید نفسیاتی صدمات کا شکار رہے ہیں۔