مملکت میں مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ غذائی مصنوعات میں فرق کے حوالے سے دعوے غلط ہیں، اس سلسلے میں شہریوں اور مقیم افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے، جن میں کہا جا رہا ہے کہ بعض سعودی غذائی مصنوعات اپنے درآمدی متبادل سے مختلف ہیں، حقیقت کے منافی اور بے بنیاد ہیں۔
ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب تمام غذائی اشیا مقررہ معیار اور سرکاری ضوابط کے عین مطابق ہیں اور سرکاری سطح پر بھی اس حوالے
سے سخت نگرانی کا نظام نافذ ہے، یہی وجہ ہے کہ حکام نے صارفین کو گمراہ کن ویڈیوز اور مواد پھیلانے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی کمپنیوں کی غذائی مصنوعات کے بارے میں جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ۔ مقامی اور درآمدی مصنوعات کے معیار میں فرق کا دعویٰ بالکل درست نہیں۔ سعودی مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تمام اشیا، خواہ وہ مقامی طور پر تیار کی جائیں یا بیرون ملک سے درآمد ہوں، منظور شدہ معیارات اور پیمانوں کے مطابق ہوتی ہیں اور ان کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ غذائی اشیا کی نگرانی صرف ایک مرحلے تک محدود نہیں بلکہ زمینی، فضائی اور بحری سرحدی گزرگاہوں پر بھی سخت معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مملکت کے اندر تجارتی اداروں، گوداموں اور فروخت کے مراکز پر بھی باقاعدہ انسپکشن کا نظام موجود ہے تاکہ صارفین کو معیاری اور محفوظ اشیا فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ وہ ایسی گمراہ کن ویڈیوز یا معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں جو صارفین میں بے چینی یا غلط فہمی پیدا کریں، کیونکہ ایسا کرنا سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
تاہم، اگر کسی کو مارکیٹ میں کسی قسم کی تجارتی خلاف ورزی نظر آئے تو وہ متعلقہ حکام کو فوری طور پر اطلاع دے تاکہ ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق صارفین کا اعتماد برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا مربوط نظام مسلسل فعال ہے۔ حکام اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ مملکت میں فروخت ہونے والی تمام غذائی مصنوعات صحت و سلامتی کے مقررہ اصولوں پر پوری اتریں۔