اسکندریہ کے ساحل کے قریب ڈوبے ہوئے شاہی محل سے کانسی کی نایاب انگوٹھی دریافت ہوئی ہے جس پر تاریخی مینارِ اسکندریہ کی تصویر کندہ ہے۔
اس کے اصل مالک اور استعمال کا مقصد ابھی معلوم نہیں، تاہم ماہرین اسے ایک اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت قرار دے رہے ہیں۔
مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ کے ساحل کے قریب زیرِ آب کھدائی کے دوران ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو کانسی کی ایک نایاب انگوٹھی ملی ہے، جس پر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والے مینارِ اسکندریہ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
یہ محض آرائشی انگوٹھی نہیں بلکہ ایسی انگوٹھی ہے جسے ماضی میں دستاویزات پر مہر لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
🌊 انگوٹھی کہاں سے ملی؟
یہ انگوٹھی اسکندریہ کی قدیم شاہی بندرگاہ میں واقع اینٹی روڈوس نامی جزیرے کے ڈوبے ہوئے آثار سے ملی ہے۔
تقریباً دو ہزار سال پہلے یہاں محلات اور شاہی و انتظامی عمارتیں موجود تھیں؛ آج ان کے آثار سمندر کے نیچے ہیں۔
فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ فرانک گوڈیو کی زیرِ نگرانی ٹیم اس علاقے میں زیرِ آب تحقیقات کر رہی ہے۔
7 اکتوبر 2026 کو یورپی ادارے برائے زیرِ آب آثارِ قدیمہ نے اس دریافت کا اعلان کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی معلوم انگوٹھی ہے جس پر اس تاریخی مینار کی تصویر موجود ہے۔
مزید پڑھیں
انگوٹھی کہاں سے ملی؟
یہ انگوٹھی اسکندریہ کی قدیم شاہی بندرگاہ میں واقع ڈوبے ہوئے جزیرے اینٹی روڈوس سے دریافت ہوئی۔
تقریباً دو ہزار سال پہلے یہ جزیرہ اسکندریہ کے انتہائی اہم علاقوں میں شامل تھا۔
یہاں شاہی محلات، انتظامی عمارتیں اور حکمرانوں سے متعلق مختلف
تنصیبات موجود تھیں۔
فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ فرانک گوڈیو کی سربراہی میں ایک ٹیم کئی برسوں سے سمندر کے نیچے موجود تاریخی عمارتوں اور دیگر آثار کی تلاش میں مصروف ہے۔
🏛️ دنیا کے سات عجائبات میں شامل مینار
مینارِ اسکندریہ تیسری صدی قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا اور بحیرۂ روم کے جہازوں کی رہنمائی کرتا تھا۔
تاریخی اندازوں کے مطابق اس کی بلندی تقریباً 120 میٹر تھی۔
مینار کی بلند جگہ پر روشن آگ سمندری مسافروں کو بندرگاہ کا راستہ بتاتی تھی؛ بعد کے زلزلوں نے اس عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔
ماہرین کے نزدیک یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ انگوٹھی ایسے مقام سے ملی ہے جو کبھی مصر کے اقتدار اور شاہی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔
دنیا کے سات عجائبات میں شامل مینار
مینارِ اسکندریہ قدیم دنیا کی مشہور ترین عمارتوں میں شمار ہوتا تھا۔
اسے تیسری صدی قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ بحیرۂ روم میں سفر کرنے والے جہازوں کی رہنمائی کرتا تھا۔
💍 کیا یہ صرف زیور تھا؟
اسے عام زیور کے بجائے مہر والی انگوٹھی سمجھا جا رہا ہے۔ قدیم دور میں ایسی انگوٹھیاں مہر لگانے یا شناخت ظاہر کرنے میں استعمال ہوتی تھیں۔
اس پر کندہ مینار اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ مشہور عمارت اسکندریہ کی پہچان بھی تھی۔
تاہم دریافت ہونے والی اس مخصوص انگوٹھی کا اصل استعمال ابھی یقینی طور پر معلوم نہیں۔
تاریخی اندازوں کے مطابق اس کی بلندی تقریباً 120 میٹر تھی۔
اس دور میں اتنی بلند عمارت تعمیر کرنا انجینئرنگ کا غیرمعمولی کارنامہ تھا۔
مینار کی چوٹی پر روشن کی جانے والی آگ جہازوں کو بندرگاہ کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتی تھی۔
صدیوں تک قائم رہنے والی یہ عظیم عمارت متعدد زلزلوں سے متاثر ہوئی اور بالآخر تباہ ہو گئی۔
اب اس انگوٹھی پر موجود نقش سے اس تاریخی مینار کی ظاہری ساخت کے بارے میں مزید معلومات ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
کیا انگوٹھی کسی بادشاہ کی تھی؟
اس دریافت کے بعد سب سے دلچسپ سوال انگوٹھی کے اصل مالک کے بارے میں ہے۔
کیا اسے کسی شاہی افسر نے پہنا تھا؟
کیا یہ کسی بڑے تاجر کی ملکیت تھی؟
یا اس کا تعلق مینار کے انتظامی عملے سے تھا؟
فی الحال ان سوالات کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں۔
👑 بادشاہ، افسر یا تاجر — مالک کون؟
کیا یہ انگوٹھی کسی شاہی افسر کی تھی یا کسی تاجر کی؟ اب تک کسی شخص کے نام یا عہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ماہرِ تاریخ مارگریٹ مائلز نے امکان ظاہر کیا ہے کہ کوئی تاجر شہر کے معروف مینار کو اپنی شناخت کے لیے استعمال کرتا ہوگا۔
اہم بات: شاہی مقام سے انگوٹھی ملنا بذاتِ خود اس کے شاہی مالک ہونے کا ثبوت نہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ شاہی محل میں انگوٹھی کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ یہاں مینارِ اسکندریہ سے متعلق انتظامی امور انجام دیے جاتے تھے۔
تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ماہرِ تاریخ مارگریٹ مائلز نے ایک اور امکان پیش کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ کسی تاجر کی انگوٹھی بھی ہو سکتی ہے جو شہر کے مشہور مینار کی تصویر اپنی کاروباری شناخت کے طور پر استعمال کرتا تھا۔
انگوٹھی پر پراسرار نشان
انگوٹھی پر موجود تصویر میں ایک اور دلچسپ تفصیل سامنے آئی ہے۔
مینار کے بالائی حصے میں ایک غیرہموار نشان دکھائی دیتا ہے۔
محقق اینڈریو چگ کے مطابق یہ ممکنہ طور پر مینار کی چوٹی پر روشن آگ سے اٹھنے والے دھوئیں کی علامت ہو سکتا ہے۔
🔥 نقش میں چھپا ایک اور راز
انگوٹھی پر کندہ مینار کے بالائی حصے میں ایک غیرہموار نشان نے محققین کی توجہ حاصل کی ہے۔
محقق اینڈریو چگ کے مطابق یہ ممکنہ طور پر مینار کی روشنی یا آگ سے اٹھنے والے دھوئیں کی تصویر ہو سکتی ہے۔
یہ دلچسپ تاریخی تشریح ہے، لیکن اسے ابھی ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اگر یہ تشریح درست ثابت ہوئی تو اس سے مینار کے روشنی فراہم کرنے والے نظام کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں۔
تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ ابھی ایک امکان ہے، حتمی سائنسی نتیجہ نہیں۔
کیا تاریخی مینار دوبارہ دیکھا جا سکے گا؟
اسکندریہ میں جاری تحقیقات کے دوران ماہرین کو سمندر کے نیچے مینار سے منسوب بڑے پتھریلے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔
ان میں 22 دیوہیکل پتھریلے بلاکس شامل ہیں۔
🧩 گمشدہ مینار کی شکل دوبارہ سامنے آئے گی؟
زیرِ آب تحقیق میں مینارِ اسکندریہ سے منسوب پتھر کے بڑے ٹکڑے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں 22 دیوہیکل بلاکس شامل ہیں۔
محققین پتھروں، قدیم سکوں اور نئی انگوٹھی جیسے شواہد سے مینار کی ممکنہ تاریخی شکل سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کا مطلب اصل مینار کی دوبارہ تعمیر نہیں؛ اس کی ڈیجیٹل تصویر یا سہ جہتی ماڈل تیار کیا جا سکتا ہے۔
محققین ان باقیات، قدیم سکوں اور نئی انگوٹھی پر موجود تصویر کی مدد سے مینار کی ممکنہ اصل شکل سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اس عمارت کا سہ جہتی ماڈل بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔
اس سے آنے والی نسلوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ تقریباً دو ہزار سال پہلے اسکندریہ کی بندرگاہ پر کھڑا یہ عظیم مینار کیسا دکھائی دیتا تھا۔
ایک چھوٹی انگوٹھی، تاریخ کا بڑا راز
اس دریافت کی اصل اہمیت انگوٹھی کی قیمت نہیں بلکہ اس کی تاریخی معلومات ہیں۔
یہ قدیم اسکندریہ کے شہریوں کی شناخت، تجارت اور انتظامی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
✅ کیا معلوم ہے، کیا ابھی راز ہے؟
تصدیق شدہ: سمندر میں ڈوبے آثار سے کانسی کی ایک انگوٹھی ملی، جس پر مینارِ اسکندریہ کا نقش بتایا گیا ہے۔
ابھی غیر واضح: اس کا حقیقی مالک، مخصوص استعمال اور قطعی عمر۔
احتیاط: بادشاہ کی ملکیت، دھوئیں کا نقش اور انتظامی استعمال جیسے خیالات کو فی الحال امکانات کے طور پر پیش کیا جائے۔
اصل سبق: ایک چھوٹی سی چیز بھی قدیم شہر کی تاریخ کے بڑے سوالات کھول سکتی ہے۔
اگرچہ انگوٹھی کے اصل مالک، درست عمر اور استعمال کا حتمی تعین ابھی باقی ہے، لیکن ماہرین اسے ایک اہم تاریخی سراغ قرار دے رہے ہیں۔
سمندر کی تہہ سے ملنے والی یہ چھوٹی سی انگوٹھی یاد دلاتی ہے کہ ماضی کے بڑے راز کبھی کبھی معمولی دکھائی دینے والی چیزوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
IEASM / Franck Goddio — اصل تحقیقی اعلان
اسکندریہ کی قدیم بندرگاہ اور انگوٹھی کی دریافت کی تفصیلات۔
اصل رپورٹ کھولیں
Live Science — دریافت کا تجزیہ
انگوٹھی کے نقش اور ماہرین کی مختلف آرا۔
اصل رپورٹ کھولیں
Archaeology Magazine — تاریخی پس منظر
مینارِ اسکندریہ سے منسوب تاریخی انگوٹھی کی خبر۔
اصل رپورٹ کھولیں