ٹرمپ اور پوتن کے ڈیزل معاہدے کے بعد یوکرین میں توانائی جنگ بندی کا اعلان، لیکن زیلنسکی حیران۔
روس کو کیا فائدہ؟ امریکہ کا مقصد کیا؟ اور یورپ کیوں ناراض ہے؟
کیف کا اعتراض اس اصول پر مبنی ہے کہ یک طرفہ پابندی اسے کمزور کرسکتی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق یوکرین روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کو تیار ہے، بشرطیکہ ماسکو بھی یوکرینی بجلی گھروں، گیس تنصیبات اور دیگر توانائی مراکز پر حملے بند کرے اور اس عمل کی حقیقی ضمانت موجود ہو۔
اس تشویش کو 12 اکتوبر کی صورتحال نے بڑھایا، جب یوکرینی حکام نے خارکیف میں بجلی گھر سمیت توانائی تنصیبات پر نئے روسی حملوں کی اطلاع دی۔
یوں اعلان اور عملی جنگ بندی میں واضح فرق باقی رہا۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کی قیادت اور نئے انتخابات کا معاملہ بھی اٹھایا، جواباً یوکرینی صدر نے کہا کہ جنگی حالات میں انتخابات ممکن نہیں، البتہ کم ازکم ساٹھ دن کی مکمل جنگ بندی سے راستہ نکل سکتا ہے۔