براہ راست نشریات

ٹرمپ اور پوتن کی مفاہمت: یوکرین کے لیے امن کا راستہ یا نیا دباؤ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Trump Putin Diesel Deal

ٹرمپ اور پوتن کے ڈیزل معاہدے کے بعد یوکرین میں توانائی جنگ بندی کا اعلان، لیکن زیلنسکی حیران۔
روس کو کیا فائدہ؟ امریکہ کا مقصد کیا؟ اور یورپ کیوں ناراض ہے؟

روس کو ڈیزل کی فراہمی کی اجازت اور یوکرین میں توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے امریکی اعلان نے نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔

 صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے قیمتیں کم کرنے اور جنگ محدود کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، مگر ولودیمیر زیلنسکی کہتے ہیں کہ انہیں جنگ بندی کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ 

سوال یہ ہے کہ واشنگٹن اقتصادی تعاون سے امن لائے گا یا کیف پر دباؤ بڑھے گا؟

دو اعلانات، دو الگ حقیقتیں

9 اکتوبر کو ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے گفتگو کے بعد اعلان کیا کہ روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں میں فراہم کرے گا۔ 

مزید 5 لاکھ ٹن نومبر میں اور 10 لاکھ ٹن بعد میں فراہم کرنے کی بات کی گئی۔ 

اسی روز امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کی تجارت کے لیے عمومی اجازت نامہ 135 جاری کیا۔ یہ پابندیوں کا مکمل خاتمہ نہیں، محدود استثنا ہے۔

11 اکتوبر کو ٹرمپ نے اچانک کہا کہ روس اور یوکرین توانائی کے مراکز پر حملے فوراً روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ مگر ماسکو کی جانب سے باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی، جبکہ زیلنسکی نے بتایا کہ انہیں معاہدے کی خبر ذرائع ابلاغ سے ملی۔ 

اس لیے تجارتی اجازت کو تصدیق شدہ فیصلہ اور جنگ بندی کو اب تک غیرتصدیق شدہ امریکی اعلان سمجھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

امریکہ کو ڈیزل کی فکر کیوں ہے؟

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی تیل، بحری ترسیل اور ایندھن کی منڈیوں کو غیرمستحکم کردیا ہے۔ 

ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں، ٹرک، زرعی مشینری، صنعت اور رسد کے بڑے حصے کا انحصار اسی پر ہے۔ 

اس کی مہنگائی سے اشیائے ضرورت بھی مہنگی ہوتی ہیں۔

 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات قریب ہیں، اس لیے قیمتوں میں کمی ٹرمپ کے لیے اہم داخلی سیاسی مسئلہ بن گئی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وعدہ شدہ روسی ترسیل عالمی ضرورت کے مقابلے میں محدود ہے اور روسی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث فراہمی یقینی نہیں۔ 

12 اکتوبر کو اضافی رسد کی امید پر عالمی تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ضرور دیکھی گئی، لیکن مستقل سستی کا نتیجہ اخذ کرنا قبل ازوقت ہوگا۔

روس کو کیا مل سکتا ہے؟

ماسکو کے لیے اصل اہمیت ڈیزل سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدن ہی نہیں بلکہ امریکی پابندیوں میں نرمی کا سیاسی اشارہ بھی ہے۔ 

یوکرین روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا کر ایندھن کی پیداوار، فوجی رسد اور جنگی اخراجات پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔ 

اگر یہ حملے رک جائیں تو روس کی توانائی صنعت کو وقتی سہولت مل سکتی ہے۔

تاہم محدود تجارت سے روس کی جنگی صلاحیت میں بڑی تبدیلی ثابت نہیں۔ 

اثر حقیقی ترسیل، قیمتوں اور پابندیوں پر منحصر ہوگا۔ بعض رپورٹس میں منجمد روسی اثاثوں اور توانائی کمپنیوں سے متعلق مزید رعایتوں کی تجاویز کا ذکر ہے، مگر انہیں طے شدہ معاہدے کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

زیلنسکی دوطرفہ
جنگ بندی کے
حامی ہیں
یک طرفہ حملے
روکنے کے نہیں

زیلنسکی کے تحفظات اور میدان کی حقیقت

کیف کا اعتراض اس اصول پر مبنی ہے کہ یک طرفہ پابندی اسے کمزور کرسکتی ہے۔ 
زیلنسکی کے مطابق یوکرین روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کو تیار ہے، بشرطیکہ ماسکو بھی یوکرینی بجلی گھروں، گیس تنصیبات اور دیگر توانائی مراکز پر حملے بند کرے اور اس عمل کی حقیقی ضمانت موجود ہو۔
اس تشویش کو 12 اکتوبر کی صورتحال نے بڑھایا، جب یوکرینی حکام نے خارکیف میں بجلی گھر سمیت توانائی تنصیبات پر نئے روسی حملوں کی اطلاع دی۔
یوں اعلان اور عملی جنگ بندی میں واضح فرق باقی رہا۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کی قیادت اور نئے انتخابات کا معاملہ بھی اٹھایا، جواباً یوکرینی صدر نے کہا کہ جنگی حالات میں انتخابات ممکن نہیں، البتہ کم ازکم ساٹھ دن کی مکمل جنگ بندی سے راستہ نکل سکتا ہے۔

یورپ امریکہ سے کیوں اختلاف کررہا ہے؟

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے توانائی جنگ بندی کے تصور کا خیرمقدم کیا، مگر کہا کہ روس کے اس پر عمل کا ثبوت نہیں۔ 

ان کے نزدیک صرف ریفائنریوں کو بچانے والی جنگ بندی، انسانی جانوں کے تحفظ کے بغیر، نامکمل ہوگی۔ یورپی ممالک اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ روسی ڈیزل پر نرمی ماسکو کے خلاف مشترکہ اقتصادی دباؤ کو کمزور کرسکتی ہے۔

فنانشل ٹائمز اور رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے یوکرین کی جانب سے روسی توانائی مراکز پر حملے نہ روکنے کی صورت میں انٹیلی جنس تعاون اور یورپی خریداری سے فراہم کردہ امریکی ہتھیاروں کے نظام پر اثرانداز ہونے کا اشارہ دیا۔ 

یہ رپورٹ شدہ دباؤ ہے، حتمی امریکی فیصلہ نہیں۔

آگے فیصلہ کس چیز سے ہوگا؟

اس معاملے کا اصل امتحان 3 چیزیں ہوں گی: 

کیا ماسکو باقاعدہ جنگ بندی قبول کرتا ہے، کیا دونوں ملک حملے عملاً روکتے ہیں، اور کیا نگرانی و خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا قابلِ اعتبار طریقہ طے ہوتا ہے؟ 

اگر جواب مثبت ہوا تو سردیوں سے پہلے شہریوں کے لیے کچھ ریلیف ممکن ہے۔ 

بصورتِ دیگر ڈیزل کی تجارت الگ جاری رہ سکتی ہے اور جنگ بھی۔

نتیجہ یہ ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی اقتصادی مفاہمت ایک حقیقی پیش رفت ہے، لیکن یوکرین میں امن ابھی اعلان سے آگے نہیں بڑھا۔