اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

اللیث میں پانی، ہوا اور پتھر سے تشکیل شدہ کھلا میوزیم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
چٹانوں پر یہ تشکیل ہزاروں سالوں میں موسم اور کٹاؤ کے عوامل کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں ( فوٹو: واس)

اللیث کمشنری میں رَزان نامی علاقہ منفرد نمونہ پیش کرتا ہے، جہاں چٹانی ڈھانچے اپنی اعلیٰ جیولوجیکل اہمیت کے ساتھ ہزاروں سالوں میں موسم اور کٹاؤ کے عوامل کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔

آج یہ ایک قدرتی کھلی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے ہیں جو مقام کی کہانی بیان کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق الرزان نامی علاقہ اللیث کمشنری، مکہ مکرمہ ریجن کے شمال میں نسبتاً بلند صخرہ جاتی بلاک پر واقع ہے جو شمال مغرب میں وادی سَعیا اور جنوب مشرق میں وادی مِركوب سے گھرا ہوا ہے۔ 

اس قدرتی محل وقوع نے اسے ایک قسم کی جیومیورفولوجیکل تنہائی اور تحفظ فراہم کیا جس نے اس کے خام قدرتی مناظر کو محفوظ رکھا۔

الرزان کے چٹانی ڈھانچے مختلف شکلوں میں پھیلے ہوئے ہیں: متراکم پتھریلے بلاکس، درج دار چٹانیں اور قدرتی چھتیں جو موسمی ندیوں نے تراشی ہیں۔ 

5446
فوٹو: واس)

یہ منظر ناظرین کے لیے بلند اور ڈھلوانی سطحوں کے درمیان شدید تضاد پیدا کرتا ہے اور پانی اور پتھر کے طویل مدتی تعامل کی داستان کو ظاہر کرتا ہے جہاں باریک نہریں اور پانی کے بہاؤ کے آثار سطحوں پر نظر آتے ہیں جو جیولوجیکل حرکت کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس مقام پر قدرتی چٹانی حوض بھی نمایاں ہیں جو پانی کے تراشی عمل کے نتیجے میں بنے اور موسمی بارش کے پانی کو جمع کرنے والے ذخائر کے طور پر کام کرتے تھے۔

 یہ صرف جمالیاتی عنصر نہیں بلکہ ایک عملی عنصر بھی تھے، جسے قدیم مقامی آبادی قریبی کنوؤں، خاص طور پر بئر خضراء، کے اضافی پانی کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ صخرہ جاتی ڈھانچے جدید انجینئرنگ حل کے آغاز سے پہلے قدرتی بنیادی ڈھانچے کا کام دیتے تھے۔

89745 1
فوٹو: واس

آج الرزان نہ صرف قدرتی ورثہ ہے بلکہ اسے ترقیاتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے جیولوجیکل سیاحت اور نیچر ٹورزم کیونکہ اس میں بصری یگانگت، علمی اہمیت اور تاریخی داستانیں پوشیدہ ہیں۔