گولڈ ایک بار پھر 5 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح سے نیچے آ گیا۔
ایک ہفتے کے شدید اتار چڑھاؤ اور تاریخی گراوٹ کے بعد مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے کسی نئے محرک کی عدم موجودگی اور تاجروں کے منافع سمیٹنے کے رجحان نے قیمتوں پر دباؤ بر قرار رکھا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق سونے کی قیمت اب بھی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح سے ایک ہزار ڈالر سے زائد کم ہے جو اس نے 29 جنوری کو ریکارڈ کی تھی تاہم سال کے آغاز سے اب تک اس میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ برقرار ہے۔
ٹریڈنگ سیشن کے دوران سونے کی بسکٹ کی قیمتوں میں 1.2 فیصد تک کمی آئی اور وہ 4888.19 ڈالر فی اونس تک گر گئیں جس کی ایک
بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی رہی۔
اس سے قبل قیمتوں میں 2.9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا اور وہ نئے خریداروں کی آمد کے ساتھ 5 ہزار ڈالر کی حد عبور کر گئی تھیں۔
اسی دوران چاندی نے بھی اپنی بعض سابقہ بڑھت کو محدود کر لیا۔
آئی این جی بینک میں کموڈیٹیز اسٹریٹجی کی تجزیہ کار ایوا مانتھی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اتار چڑھاؤ قریبی مدت میں جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار اپنی پوزیشنز میں رد و بدل کرتے رہیں گے تاہم آئندہ نقل و حرکت گزشتہ چند ہفتوں کے مقابلے میں کم شدت کی ہو گی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سونے کو جزوی سہارا فراہم کیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات بدستور جاری ہیں۔