براہ راست نشریات

پاکستانی خدماتی برآمدات نے رفتار پکڑ لی، دو ماہ میں 1.81 ارب ڈالر آ گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan Services Exports

پاکستان کی خدماتی برآمدات رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں 28.89 فیصد بڑھ کر 1.81 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ آئی ٹی، ٹریول، ٹرانسپورٹ اور کاروباری خدمات نمایاں شعبے رہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے برآمدات کے محاذ سے ایک حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ جولائی اور اگست میں پاکستان کی خدمات کی برآمدات 28.89 فیصد بڑھ کر 1.81 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم تقریباً 1.41 ارب ڈالر تھا۔

📊 اہم اعداد — دو ماہ کی تصویر

1.81 ارب ڈالر: جولائی اور اگست 2026 میں خدماتی برآمدات۔

28.89 فیصد: گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ۔

873.01 ملین ڈالر: صرف اگست 2026 کی خدماتی برآمدات۔

676.91 ملین ڈالر: اگست 2025 میں خدماتی برآمدات۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشیا کی برآمدات میں اتار چڑھاؤ کے باوجود خدمات کا شعبہ مسلسل بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ 

اس اضافے میں سب سے اہم کردار انفارمیشن ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سروسز، کاروباری خدمات، ٹرانسپورٹ اور ٹریول سروسز نے ادا کیا ہے۔

صرف اگست میں 87 کروڑ ڈالر سے زیادہ

اعدادوشمار کے مطابق اگست 2026 میں پاکستان نے خدمات کی برآمدات سے 873.01 ملین ڈالر کمائے۔ گزشتہ سال اگست میں یہ رقم 676.91 ملین ڈالر تھی، یعنی ایک سال میں تقریباً 28.97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

💻 آئی ٹی — سب سے بڑا ستون

ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات جولائی اور اگست میں 811 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم تقریباً 691 ملین ڈالر تھی، یعنی اضافہ تقریباً 17.36 فیصد رہا۔

اس شعبے میں سافٹ ویئر، فری لانسنگ، کال سینٹرز، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات شامل ہیں۔

یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اپنی روایتی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ اب ایسے شعبوں سے بھی زیادہ ڈالر حاصل کر رہا ہے جن میں بھاری خام مال یا بڑے صنعتی پلانٹس کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

آئی ٹی سب سے بڑا ستون

خدماتی برآمدات میں سب سے نمایاں حصہ ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کا رہا۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران ان خدمات کی برآمدات 811 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے 691 ملین ڈالر کے مقابلے میں 17.36 فیصد زیادہ ہیں۔ 

اس طرح صرف آئی ٹی اور متعلقہ خدمات نے مجموعی خدماتی برآمدات کا تقریباً 45 فیصد فراہم کیا۔

🏢 کاروباری خدمات میں تیز رفتار اضافہ

دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات 303 ملین ڈالر سے بڑھ کر 420 ملین ڈالر ہوگئیں۔

یہ تقریباً 38.62 فیصد سالانہ اضافہ بنتا ہے۔

پروفیشنل، تکنیکی اور آؤٹ سورس کاروباری خدمات پاکستان کے لیے تیزی سے اہم زرمبادلہ کمانے والا شعبہ بن رہی ہیں۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ، کال سینٹرز، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ اور ڈیجیٹل خدمات کو ڈالر کمانے کے اہم ذریعے کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ 

نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ اب ملکی برآمدی ڈھانچے کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔

کاروباری خدمات میں بھی 39 فیصد اضافہ

رپورٹ کا ایک اور اہم پہلو دیگر کاروباری خدمات میں تیز رفتار اضافہ ہے۔

جولائی اور اگست میں اس شعبے کی برآمدات 303 ملین ڈالر سے بڑھ کر 420 ملین ڈالر ہوگئیں، یعنی تقریباً 38.62 فیصد اضافہ۔

✈️ ٹریول سروسز میں 147 فیصد چھلانگ

ٹریول سروسز کی برآمدات گزشتہ سال کے تقریباً 90 ملین ڈالر سے بڑھ کر 222 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اس شعبے میں سالانہ اضافہ تقریباً 146.66 فیصد رہا، جو تمام بڑے شعبوں میں نمایاں ترین شرحوں میں شامل ہے۔

ان خدمات میں مختلف قسم کی پروفیشنل، تکنیکی اور کاروباری سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر کمپنیوں کی جانب سے کام آؤٹ سورس کیے جانے کے رجحان نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس شعبے میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

ٹریول سروسز میں حیران کن 147 فیصد چھلانگ

سب سے تیز شرح نمو ٹریول سروسز میں دیکھی گئی۔

جولائی اور اگست 2025 میں پاکستان کی ٹریول سروسز کی برآمدات تقریباً 90 ملین ڈالر تھیں، جو رواں مالی سال کے انہی دو مہینوں میں بڑھ کر 222 ملین ڈالر ہوگئیں۔

🚚 ٹرانسپورٹ سروسز نے بھی رفتار پکڑی

ٹرانسپورٹ سروسز کی برآمدات 131 ملین ڈالر سے بڑھ کر 178 ملین ڈالر ہوگئیں۔

یہ تقریباً 35.87 فیصد اضافہ ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ خدماتی برآمدات کی نمو صرف آئی ٹی تک محدود نہیں رہی۔

اس طرح ایک سال میں اس شعبے میں 146.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح ٹرانسپورٹ سروسز کی برآمدات 131 ملین ڈالر سے بڑھ کر 178 ملین ڈالر ہوگئیں، جو تقریباً 35.87 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

گزشتہ پورے سال پاکستان نے 10 ارب ڈالر کمائے تھے

یہ تازہ اعدادوشمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان کا خدماتی شعبہ پہلے ہی تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔

مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی مجموعی خدماتی برآمدات 18.81 فیصد بڑھ کر 10.04 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تقریباً 8.45 ارب ڈالر تھیں۔

📈 گزشتہ پورے سال کیا ہوا تھا؟

مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی مجموعی خدماتی برآمدات 10.04 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

ایک سال پہلے یہ حجم تقریباً 8.45 ارب ڈالر تھا، یعنی سالانہ اضافہ 18.81 فیصد رہا۔

اسی سال آئی ٹی اور متعلقہ خدمات کی برآمدات تقریباً 4.60 ارب ڈالر تک پہنچیں۔

گزشتہ مالی سال میں بھی آئی ٹی سب سے نمایاں شعبہ رہا تھا اور ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات تقریباً 4.60 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے

خدماتی برآمدات میں تیز اضافہ خوش آئند ہے، تاہم پاکستان ابھی خدمات کے شعبے میں تجارتی سرپلس حاصل نہیں کرسکا۔

رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں خدمات کی درآمدات 9.77 فیصد بڑھ کر 2.37 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2.16 ارب ڈالر تھیں۔

⚠️ برآمدات بڑھیں، مگر خسارہ اب بھی باقی

پہلے دو ماہ میں خدمات کی درآمدات تقریباً 2.37 ارب ڈالر رہیں، جبکہ برآمدات 1.81 ارب ڈالر تھیں۔

اس طرح خدمات کا تجارتی خسارہ تقریباً 560 ملین ڈالر رہا۔

تاہم گزشتہ سال اسی مدت میں یہ فرق تقریباً 750 ملین ڈالر تھا، یعنی خسارہ کم ہونے کا رجحان دکھائی دے رہا ہے۔

اس حساب سے پاکستان نے دو ماہ میں 1.81 ارب ڈالر کی خدمات برآمد کیں لیکن تقریباً 2.37 ارب ڈالر کی خدمات درآمد بھی کیں۔ یوں خدمات کا تجارتی خسارہ تقریباً 560 ملین ڈالر رہا۔

البتہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ فرق تقریباً 750 ملین ڈالر تھا، جس کا مطلب ہے کہ برآمدات کی تیز رفتار نمو خدمات کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان جیسے ملک کے لیے خدماتی برآمدات صرف ایک نیا کاروباری شعبہ نہیں بلکہ زرمبادلہ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔

خصوصاً آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے لیے تیل، مشینری اور صنعتی خام مال کی بھاری درآمدات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 

💡 پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

خدماتی برآمدات پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کا ایسا ذریعہ ہیں جن میں بھاری خام مال یا بڑی صنعتی درآمدات کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے۔

آئی ٹی، فری لانسنگ، بزنس آؤٹ سورسنگ اور ڈیجیٹل خدمات کی ترقی سے پاکستان روایتی ٹیکسٹائل برآمدات پر انحصار کم کر سکتا ہے۔

اصل اشارہ: مستقبل کی برآمدی نمو میں سروسز اور ڈیجیٹل اکانومی کا وزن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اگر پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے مزید جوڑ سکے، فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ادائیگیوں اور کاروباری ماحول کو آسان بنائے اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھائے تو خدماتی برآمدات مستقبل میں روایتی برآمدات پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

ابتدائی دو ماہ کے اعدادوشمار یہی اشارہ دے رہے ہیں کہ پاکستان کی اگلی بڑی برآمدی کہانی صرف ٹیکسٹائل نہیں بلکہ آئی ٹی اور خدمات کا شعبہ بھی ہوسکتا ہے۔

🔗 اصل ذریعہ اور مزید مطالعہ

Dawn — 6 اکتوبر 2026
رپورٹ: Services exports surge 29pc
پاکستان کی خدماتی برآمدات، آئی ٹی، ٹریول، ٹرانسپورٹ اور کاروباری خدمات کے تازہ اعدادوشمار۔
اصل رپورٹ کھولیں


بنیادی ڈیٹا:
Pakistan Bureau of Statistics (PBS) اور State Bank of Pakistan (SBP)