مولانا عبد الحفیظ مکیؒ
مکہ مکرمہ
تمام عبادات میں سے ’روزہ‘ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کے جزء کو باری تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ خاص فرمایا ہے۔
بخاری ومسلم کی روایت ہے: روزہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کی جزا دوں گا۔
رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش کی طرح برستی ہے۔
موقع بموقع اللہ کریم اپنے روزے دار بندوں کو مختلف انعامات سے سرفراز فرماتے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بخشش فرماتے ہیں اور اس مغفرت کے لئے رمضان المبارک سے بہتر کوئی اور زمانہ نہیں چنانچہ اس شخص کی بد بختی اورشقاوت میں کوئی شک نہیں جسے رمضان کا مہینہ ملا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت اور بخشش نہ کروائی ہو۔
ترمذی کی روایت ہے:
رسوا ہو جائے وہ شخص جس پر رمضان آیا اور گزر گیا اور اس نے اس
میں اپنی مغفرت نہ کرائی۔
اسی لئے حضور اکرمﷺ سے مختلف احادیث میں اس مبارک مہینہ کے بے شمار فضائل ثابت ہیں۔
خود رسولِ رحمتﷺ اس مبارک مہینہ کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔
ایک حدیث میں نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہو جائے۔
اس سے بڑھ کر کیا ہے کہ بخاری و مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح بخاری و مسلم نے ہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل فرمائی ہے کہ جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں کو قیام ’تراویح‘ کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
روزے اور تراویح کا رمضان کے دنوں اور راتوں میں اہتمام کرنا ہی بنیادی طور پر اس مبارک مہینہ کا حق ہے۔
رمضان المبارک کے دو متوازی پروگرام، دن کا روزہ اور رات کا قیام ہے چنانچہ یہ صیام و قیام لازم وملزوم ہیں اور ان دونوں کے لئے ایک جیسے الفاظ اور صیغوں کا استعمال ’صام‘ اور ’قام‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔
قیامت کے دن یہی دونوں ’روزہ‘ اور ’قرآن‘ اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس بندۂ مؤمن کی شفاعت کی حجت کریں گے اور ان کی یہ شفاعت اور سفارش قبول ہونے کی بھی نوید سنائی گئی ہے۔
جن احادیت میں قیام کا ذکر ہے، اس سے اصل ہدف اور غایت بھی یہی ہے کہ رمضان کی راتیں یا ان کا زیادہ سے زیادہ حصہ قرآن مجید کے ساتھ بسر کی جائیں۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رمضان میں بہترین عمل بھی یہی ہے کہ انسان قرآن کے ساتھ خود کو جوڑ لے۔
ہم اگر صیام وقیام کے الفاظ پر ہی غور کریں تو نظر آتا ہے کہ یہ متوازی الفاظ یہ تقاضا کرتے ہیں کہ جس طرح دن روزے کی حالت میں گزرے، اسی طرح رات قرآن کے ساتھ بسر ہو۔
قرآن کی تلاوت قیام یعنی صلاۃ کے ساتھ افضل ترین ہے جبکہ اس کا بیٹھ کر پڑھنا اور اس کا مطالعہ اور اس کی آیات میں تدبر بھی با برکت ہے۔
یہی اس ماہِ مبارک سے استفادہ کا صحیح طریقہ ہے۔
ہاں البتہ اللہ تعالیٰ نے یہ نرمی رکھی ہے کہ قیام کو فرض نہیں فرمایا۔
رمضان المبارک کے روزوں کا خصوصاً بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔
ان میں کسی قسم کی کوتاہی بڑی محرومی ہوگی۔
گرمی، مشقت و صعوبت بھی ہو تو اسے ہمت کر کے برداشت کرنا چاہئے۔
امام احمد، ترمذی اور ابو داؤد وغیرہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
جو شخص ’قصداً‘ بلا کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کے روزہ کو افطار کر دے تو غیر رمضان کا روزہ چاہے تمام عمر کے روزے رکھے، اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔
تراویح کا بھی ہمت اور خوشدلی سے اہتمام کرنا چاہئے۔
جمہور علماء کے نزدیک 20 رکعت تراویح اور 3 وتر اداکرنا سنت ہے البتہ مالکیہ حضرات فرماتے ہیں کہ 36 رکعت تراویح اور 3 وتر افضل ومسنون ہیں۔
جمہور علماء وائمہ ثلاثہ، ابوحنیفہ، شافعی واحمد بن حنبل رحمہم اللہ 20 رکعت کو ہی راجح قرار دیتے ہیں کہ حضورﷺ سے بھی یہ مروی ہے اور خلفائے ثلاثہ حضراتِ عمر و عثمان و علی اور اکابر صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے بھی یہی ثابت ہے، اسی لئے اسی کے مطابق حرمین شریفین میں بھی اسی کا اہتمام ہوتا ہے۔
بہر حال ہمت اور خوشدلی اور رغبت سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور اپنے گناہوں کی مغفرت کی امید پر تراویح کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔
اسکے علاوہ بقیہ رات کا حصہ بھی اللہ کی کسی نہ کسی عبادت، نوافل، تلاوت، ذکر، درود اور دعاؤں میں ہی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ رمضان کے مبارک لمحات ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی وقت ضائع نہ ہو۔
امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اور دیگر حضرات نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرمائی ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے۔
بہت مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات ہے ’شب قدر‘ جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے کو فرض فرمایا اوراس کے رات کے قیام ’یعنی تراویح‘ کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔
جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے، ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے، وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں 70 فرض ادا کرے۔
یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
جو شخص کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے اس کیلئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہوگا مگر اس روزے دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔
صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے، تو آپﷺ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ جل شانہ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلادے اس پر بھی مرحمت فرمادیتے ہیں۔
یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔
جوشخص اس مہینہ میں ہلکا کردے اپنے غلام اور خادم کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں۔
اور 4 چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو۔ جن میں سے دو چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ نہیں۔
پہلی دو چیزیں جن سے تم ا پنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔
جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ قیامت کے دن میری حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔
سبحان اللہ! اندازہ کیجئے کہ رمضان المبارک کا پورا مہینہ کتنی خیر و برکتوں والا ہے۔
اسکے ایک ایک منٹ کی قدر کرنی چاہئے۔
خاص طور سے ہر قسم کے گناہ ومعصیت اور فضولیات و لغویات سے ان مبارک دنوں اور راتوں میں بہت زیادہ اہتمام سے بچنا چاہئے اور اس کی ہر گھڑی اور لمحہ کو غنیمت جان کر اللہ تعالیٰ کی عبادت و تلاوت، صدقہ و خیرات اور ذکر و درود اور دعاؤں کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ بابرکت مہینہ بھی گزر جائے اور ہماری بخشش ومغفرت نہ ہو۔