اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

وادی رہاط میں عین النبی چشمہ، تاریخی حقیقت یا عوامی نام؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
’’عین النبی‘‘ کی یہ تسمیہ عوامی روایت کا حصہ ہے (فوٹو: ایکس)
Picture of جاوید راہو

جاوید راہو

مکہ مکرمہ

مکہ مکرمہ کے شمال میں 130 کلو میٹر دور واقع وادی رہاط میں عین النبی نامی علاقہ معروف قدرتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

یہاں ایک قدرتی چشمہ ہے جسے ’عین النبی‘ یعنی نبی کریمﷺ سے منسوب کیا جاتا ہے تاہم اس نسبت کی تاریخی اور شرعی حیثیت پر سوالات موجود ہیں۔

معتبر اسلامی کتبِ سیرت اور تاریخی حوالہ جات کے مطابق ایسا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ رسول اکرمﷺ اس مقام سے گزرے ہوں، یہاں دعا فرمائی ہو یا یہ چشمہ کسی ثابت شدہ معجزے کے نتیجے میں جاری ہوا ہو البتہ عوام الناس میں جو روایت رائج ہے ہم اسے یہاں نقل کر رہے ہیں۔

4545656 1

عوامی روایت یوں کہ راشد بن عبدربہ السلمی نامی صحابی نے فتح مکہ کے بعد رسول کریمﷺ سے کاشتکاری کی غرض سے زمین طلب کی جو انہیں رہاط کے مقام پر دی گئی۔

روایت ہے کہ اس مقام پر پانی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں تھا، رسول اللہﷺ انہیں مشکیزے کے پانی میں اپنا لعاب دہن ڈال کر دیا اور اسے پہاڑی ٹیلے پر بہانے کو کہا جس سے ایک چشمہ پھوٹا اور یوں صحرا میں نخلستان بن گیا۔

4564646 1

عوام الناس میں رائج یہ روایت اپنی جگہ تاہم محققین کے نزدیک ’عین النبی‘ کی یہ تسمیہ ان عوامی روایت کا حصہ ہے جو عام طور پر اسلامی دنیا کے کئی علاقوں میں قدرتی مقامات کو محض عقیدت اور احترام کے اظہار کے طور پر بغیر کسی تاریخی سند نام دے دیئے جاتے ہیں۔

 

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے