مصنوعی ذہانت اب موبائل اور کمپیوٹر سے نکل کر اسمارٹ چشموں تک پہنچ رہی ہے۔
AI چشمے سامنے موجود چیزوں کو دیکھ، سن اور سمجھ کر فوری معلومات، ترجمہ، تصاویر اور رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔
لیکن یہی صلاحیت پرائیویسی کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے کیونکہ سامنے موجود شخص کو یہ معلوم نہ بھی ہو کہ اسے ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
میٹا، سامسنگ اور دوسری کمپنیاں اس نئی مارکیٹ میں سرگرم ہیں جبکہ صنعت ایسے طریقوں کی تلاش میں ہے جن سے AI کی سہولت برقرار رہے اور صارفین کی نجی زندگی بھی محفوظ ہو۔
یہ مقابلہ صرف میٹا تک محدود نہیں۔
سامسنگ بھی اسمارٹ گلاس مارکیٹ میں آنے کی تیاری کررہا ہے اور مختلف فیشن و آئی ویئر کمپنیوں کے ساتھ کام کررہا ہے۔
اگرچہ سامسنگ فی الحال ایسے چشموں کو اسمارٹ فون کا مکمل متبادل قرار نہیں دے رہا، لیکن صنعت کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں موبائل فون کے کئی کام آہستہ آہستہ پہننے والی AI ڈیوائسز منتقل کرسکتی ہیں۔
پرائیویسی کے مسئلے کا ایک اہم حل یہ ہوسکتا ہے کہ AI processing کا زیادہ حصہ خود ڈیوائس پر کیا جائے اور ہر چیز انٹرنیٹ یا cloud servers پر نہ بھیجی جائے۔
OpenAI کے سربراہ Sam Altman بھی ایسے مستقبل کی بات کرچکے ہیں جس میں AI صارف کے ماحول کو سمجھے، لیکن ہر چیز کو مسلسل بیرونی سرورز تک نہ پہنچائے۔
اگر AI چشمہ صارف کی پوری روزمرہ زندگی دیکھ اور سن رہا ہو تو زیادہ تر لوگ یقیناً نہیں چاہیں گے کہ یہ تمام معلومات کسی کمپنی کے ڈیٹا سینٹر میں محفوظ ہوتی رہیں۔