براہ راست نشریات

بنگلہ دیش کا ’سنہری ریشہ‘: کیا جوٹ پلاسٹک کا راج ختم کرسکتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Sonali Bag

دنیا پلاسٹک کے متبادل کی تلاش میں ہے اور بنگلہ دیش کا جوٹ ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کررہا ہے۔
جوٹ سے تیار ہونے والا ’سونالی بیگ‘ پلاسٹک کے تھیلے کا ماحول دوست متبادل بن سکتا ہے، جبکہ یہی قدرتی ریشہ جیو ٹیکسٹائل، تعمیرات، گاڑیوں کے پرزوں اور جدید پیکیجنگ میں بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
تاہم بنگلہ دیش کے سامنے سب سے بڑا چیلنج خام جوٹ سے نکل کر جدید، تصدیق شدہ اور زیادہ قیمت والی مصنوعات کی عالمی صنعت قائم کرنا ہے۔

پلاسٹک کے خلاف نئی جنگ

بنگلہ دیش کا جوٹ عالمی منڈی میں پھر توجہ کا مرکز

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY ←

دنیا پلاسٹک کے ایسے متبادل کی تلاش میں ہے جو ماحول کے لیے کم نقصان دہ ہو، عام استعمال کے قابل ہو اور صنعتی پیمانے پر بھی تیار کیا جاسکے۔ 

اس تلاش نے بنگلہ دیش کی ایک پرانی فصل کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جسے کبھی اس ملک کا ’سنہری ریشہ‘ کہا جاتا تھا۔

یہ فصل جوٹ ہے۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. دنیا پلاسٹک کے ماحول دوست متبادل تلاش کررہی ہے اور بنگلہ دیش کا جوٹ دوبارہ عالمی توجہ حاصل کررہا ہے۔

2. جوٹ کے سیلولوز سے تیار ہونے والا سونالی بیگ پلاسٹک کے تھیلے کا بایوڈیگریڈیبل متبادل بن سکتا ہے۔

3. جوٹ صرف بوری یا رسی تک محدود نہیں؛ اسے پیکیجنگ، جیو ٹیکسٹائل، تعمیرات اور گاڑیوں کے کمپوزٹ مٹیریل میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

4. بنگلہ دیش کے لیے اصل چیلنج خام جوٹ کو زیادہ قیمت والی جدید مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔

رائٹرز پر 22 ستمبر کو شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق دنیا میں پلاسٹک کا استعمال کم کرنے کی کئی کوششوں کے باوجود موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2060 تک عالمی پلاسٹک پیداوار تقریباً 3 گنا ہوسکتی ہے۔ 

مسئلہ یہ ہے کہ پلاسٹک سستا، مضبوط اور استعمال میں آسان ہے، جبکہ اس کا مؤثر اور کم قیمت ماحول دوست متبادل ابھی محدود ہے۔

اسی خلا نے جوٹ کو ایک مرتبہ پھر اہم بنا دیا ہے۔

پلاسٹک جیسا بیگ، مگر مٹی میں گل جانے والا

بنگلہ دیشی سائنس دان مبارک احمد خان نے جوٹ کے سیلولوز سے ایک بایو پولیمر تیار کیا جس سے بنایا جانے والا ’سونالی بیگ‘ شکل اور استعمال میں پلاسٹک کے تھیلے جیسا ہے، مگر اسے اس طرح بنایا گیا ہے کہ مناسب حالات میں یہ قدرتی طور پر گل سکے۔

🌿 جوٹ کو ’سنہری ریشہ‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

جوٹ بنگلہ دیش کی قدیم ترین تجارتی فصلوں میں شامل ہے اور طویل عرصے تک زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ رہا۔

اسی معاشی اہمیت کی وجہ سے اسے ’’سنہری ریشہ‘‘ کہا جانے لگا۔

اب اس کی نئی اہمیت اس لیے پیدا ہورہی ہے کہ دنیا قدرتی، قابلِ تجدید اور بایوڈیگریڈیبل خام مال چاہتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی صرف خریداری کے تھیلوں تک محدود نہیں۔ 

جوٹ سے پیکیجنگ، کپڑا، زرعی مصنوعات، تعمیراتی سامان، جیو ٹیکسٹائل اور گاڑیوں کے اندر استعمال ہونے والے کمپوزٹ مٹیریل بھی تیار کئے جاسکتے ہیں۔

سونالی بیگ کی بنیادی ٹیکنالوجی 2015 میں تیار ہوگئی تھی، مگر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کی بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار شروع نہیں ہوسکی۔ 

ماہرین کے مطابق رکاوٹ سائنسی ایجاد نہیں بلکہ سرمایہ کاری، صنعتی صلاحیت، سرٹیفکیشن اور پیداواری لاگت ہے۔

جوٹ ماحول کے لیے کیوں اہم ہے؟

جوٹ تیزی سے اگنے والی قدرتی فصل ہے اور اسے ایسے علاقوں میں بھی کاشت کیا جاسکتا ہے جہاں دوسری کئی فصلیں آسانی سے کامیاب نہیں ہوتیں۔

اس کے پتے زمین پر گر کر مٹی میں نامیاتی مواد بڑھاتے ہیں، جبکہ کئی صورتوں میں اس کی کاشت میں دوسری تجارتی فصلوں کے مقابلے میں کیڑے مار ادویات کا استعمال بھی کم رہتا ہے۔

🛍️ سونالی بیگ کیا ہے؟

بنگلہ دیشی سائنس دان مبارک احمد خان نے جوٹ کے سیلولوز سے ایک بایو پولیمر تیار کیا جس سے سونالی بیگ بنایا جاسکتا ہے۔

یہ شکل اور استعمال میں پلاسٹک کے تھیلے جیسا ہے مگر مناسب حالات میں قدرتی طور پر گل سکتا ہے۔

اس ایجاد کو پلاسٹک آلودگی کے خلاف بنگلہ دیش کی سب سے نمایاں سائنسی کوششوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رائٹرز میں نقل کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق ایک ہیکٹر جوٹ اپنے بڑھنے کے موسم میں بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرسکتا ہے۔ 

تاہم مختلف مطالعات میں اس مقدار کے تخمینے مختلف ہیں، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو عالمی منڈی میں مضبوط دعویٰ کرنے کے لیے باقاعدہ اور بین الاقوامی معیار کے ماحولیاتی جائزے بھی درکار ہوں گے۔

یعنی جوٹ کی صلاحیت واضح ہے، مگر عالمی خریدار اب صرف دعووں پر نہیں بلکہ تصدیق شدہ ڈیٹا پر فیصلہ کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے لیے نئی برآمدی امید

بنگلہ دیش دنیا کے اہم جوٹ پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یہ فصل تقریباً دو صدیوں سے وہاں کی معیشت کا حصہ ہے۔

مالی سال 2025-26 میں بنگلہ دیش نے جوٹ اور جوٹ سے بنی مصنوعات کی برآمد سے تقریباً 883 ملین ڈالر کمائے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بہتری تھی، اگرچہ چند برس پہلے کی بلند سطح سے اب بھی کم ہے۔

⚠️ پھر سونالی بیگ بازار میں کیوں نہیں چھایا؟

سونالی بیگ کی بنیادی ٹیکنالوجی 2015 میں سامنے آگئی تھی، مگر بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار اب بھی محدود ہے۔

اہم رکاوٹوں میں سرمایہ کاری، بڑے صنعتی پلانٹس، پیداواری لاگت، مستقل معیار اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن شامل ہیں۔

یعنی مسئلہ ایجاد کی کمی نہیں بلکہ اسے لیبارٹری سے فیکٹری اور پھر عالمی مارکیٹ تک پہنچانے کا ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ جولائی اور اگست 2026 میں جوٹ اور جوٹ مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے یہ اشارہ ملا کہ عالمی طلب دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

اس نئی طلب کی ایک بڑی وجہ دنیا بھر میں سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف سخت ہوتے قوانین ہیں۔

یورپی یونین پیکیجنگ میں ماحول دوست متبادل تلاش کررہی ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات بڑھا رہے ہیں۔ 

اس ماحول میں جوٹ پیدا کرنے والے ممالک کے لیے نئی منڈیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

صرف بوریاں نہیں، عمارتیں اور سڑکیں بھی

ماضی میں جوٹ کو زیادہ تر بوریوں، رسی اور سادہ پیکیجنگ سے جوڑا جاتا تھا، لیکن آج اس کا استعمال کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔

جوٹ سے تیار ہونے والے جیو ٹیکسٹائل سڑکوں، پشتوں اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کے منصوبوں میں استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ 

یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں قدرتی اور بایوڈیگریڈیبل مواد کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

🌍 پلاسٹک کے بحران میں جوٹ کیوں اہم؟

دنیا میں پلاسٹک کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ سنگل یوز پلاسٹک آلودگی کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

جوٹ قدرتی، قابلِ تجدید اور بایوڈیگریڈیبل ہے، اس لیے اسے کئی ایسی مصنوعات میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں ابھی پلاسٹک غالب ہے۔

اگر قیمت اور معیار مسابقتی ہوجائیں تو جوٹ عالمی پیکیجنگ مارکیٹ میں بڑی جگہ بنا سکتا ہے۔

اسی طرح جوٹ فائبر کو دوسرے مواد کے ساتھ ملا کر ہلکا اور مضبوط کمپوزٹ مٹیریل بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا مواد گاڑیوں کے اندرونی پینلز، فرنیچر، تعمیرات اور پیکیجنگ میں استعمال ہوسکتا ہے۔

جوٹ سے کپڑے اور ویسکوز تیار کرنے کے تجربات بھی ہورہے ہیں، جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھی نئی منڈی پیدا ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین جوٹ کو صرف ایک زرعی فصل نہیں بلکہ مستقبل کی صنعتی خام مال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اصل رکاوٹ کہاں ہے؟

بنگلہ دیش کے پاس فصل، کسان اور تجربہ تو موجود ہے، مگر جوٹ کی صنعت کئی بنیادی مشکلات سے دوچار ہے۔

ملک میں استعمال ہونے والی بہت سی مشینری پرانی ہے، جدید ٹیسٹنگ سہولیات محدود ہیں، عالمی معیار کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا مہنگا ہے اور مارکیٹنگ بھی کمزور رہی ہے۔

اس کے علاوہ سستے مصنوعی فائبر اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں، کیونکہ قیمت کے معاملے میں قدرتی مصنوعات کا مقابلہ اکثر مشکل ہوجاتا ہے۔

📦 صرف بوریاں نہیں — کہاں کہاں استعمال ہوسکتا ہے؟

جوٹ سے روایتی بوریاں، رسیاں اور کپڑے تو بنتے ہی ہیں، مگر جدید استعمال اس سے کہیں وسیع ہے۔

پیکیجنگ، شاپنگ بیگ، جیو ٹیکسٹائل، فرنیچر، تعمیراتی مٹیریل اور گاڑیوں کے اندرونی پینلز نئی منڈیوں کی مثالیں ہیں۔

یہی تنوع جوٹ کو محض زرعی فصل کے بجائے جدید صنعتی خام مال بناتا ہے۔

یورپی منڈی میں داخل ہونے کے لیے ایک اور بڑی شرط سرٹیفکیشن ہے۔ کسی مصنوعات کو بایوڈیگریڈیبل یا کمپوسٹ ایبل کہہ کر فروخت کرنے کے لیے مخصوص عالمی معیار پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

چھوٹی بنگلہ دیشی فیکٹریوں کے لیے یہ ٹیسٹ اور سرٹیفکیٹ مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو اب زیادہ جوٹ اگانے سے آگے بڑھ کر زیادہ قیمت والی مصنوعات تیار کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔

خام مال سے برانڈ تک

اصل معاشی فائدہ اسی وقت ہوگا جب بنگلہ دیش خام جوٹ فروخت کرنے کے بجائے تیار مصنوعات عالمی مارکیٹ میں لے جائے۔

مثال کے طور پر اگر جوٹ سے تیار ماحول دوست پیکیجنگ، شاپنگ بیگ، جیو ٹیکسٹائل اور گاڑیوں کے پرزے بنگلہ دیش میں تیار ہوں تو اس سے فی ٹن آمدنی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

🛣️ جیو ٹیکسٹائل — سڑکوں اور زمین کے تحفظ میں جوٹ

جوٹ سے تیار جیو ٹیکسٹائل سڑکوں، پشتوں اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کے منصوبوں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

قدرتی فائبر ہونے کی وجہ سے یہ ایسے منصوبوں میں خاص دلچسپی پیدا کررہا ہے جہاں ماحول دوست مواد ترجیح بن چکا ہے۔

یہ شعبہ بنگلہ دیش کے لیے روایتی بوریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمت والی برآمدی منڈی بن سکتا ہے۔

اس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو نئی مشینری، تحقیق، سرٹیفکیشن اور عالمی مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

اسی طرح ’سونالی بیگ‘ جیسی ایجادات کو لیبارٹری سے نکال کر بڑے صنعتی پیمانے پر لانا بھی ضروری ہوگا۔

پرانی فصل، نیا عالمی موقع

جوٹ کی کہانی محض بنگلہ دیش کی ایک پرانی صنعت کی بحالی نہیں بلکہ دنیا کے پلاسٹک بحران سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

ایک طرف ممالک پلاسٹک آلودگی کم کرنے کے لیے قوانین سخت کررہے ہیں، دوسری جانب کمپنیاں قابلِ تجدید اور ماحول دوست مواد تلاش کررہی ہیں۔

اتفاق سے یہی خصوصیات جوٹ میں پہلے سے موجود ہیں۔

🚗 گاڑیوں اور تعمیرات میں جوٹ کا مستقبل

جوٹ فائبر کو دوسرے مواد کے ساتھ ملا کر ہلکے اور مضبوط کمپوزٹ تیار کئے جاسکتے ہیں۔

ایسے کمپوزٹ گاڑیوں کے اندرونی پینلز، فرنیچر اور بعض تعمیراتی اجزا میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

اس سے جوٹ کی قدر کئی گنا بڑھ سکتی ہے کیونکہ خام ریشہ کم قیمت جبکہ تیار صنعتی جزو زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ جوٹ میں صلاحیت ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بنگلہ دیش اس صلاحیت کو کتنی تیزی سے جدید صنعت میں بدل سکتا ہے۔

اگر ملک خام جوٹ اور روایتی بوریوں سے آگے بڑھ کر سونالی بیگ، جیو ٹیکسٹائل، تعمیراتی مٹیریل، کمپوزٹ اور جدید پیکیجنگ تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ فصل جو کبھی برصغیر کی برآمدی معیشت کا اہم حصہ تھی، اکیسویں صدی میں دوبارہ عالمی سطح پر بڑی اہمیت حاصل کرسکتی ہے۔

تب ’سنہری ریشہ‘ صرف ماضی کا نام نہیں رہے گا بلکہ بنگلہ دیش کی نئی سبز معیشت کی علامت بھی بن سکتا ہے۔

🔗 مصادر اور مزید مطالعہ

Reuters — 22 September 2026:
بنگلہ دیش کے جوٹ کو پلاسٹک کے ماحول دوست متبادل کے طور پر پیش کرنے والی مرکزی رپورٹ؛ سونالی بیگ، کاربن جذب، عالمی طلب اور سرٹیفکیشن کے چیلنجز کا جائزہ۔
اصل رپورٹ کھولیں


The Daily Star — 21 August 2026:
بنگلہ دیش کے جوٹ سیکٹر کی برآمدی صلاحیت، مالی سال 2025-26 کی تقریباً 883.69 ملین ڈالر آمدنی، جدید مصنوعات اور عالمی سرٹیفکیشن کی ضرورت پر تجزیہ۔
اصل تجزیہ کھولیں


The Daily Star — 15 June 2026:
بنگلہ دیشی پارلیمان میں جوٹ صنعت کے مسائل: سستے مصنوعی فائبر، پرانی مشینری، کمزور برانڈنگ اور بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ سہولیات کی کمی۔
اصل خبر کھولیں


European Commission / EUR-Lex:
بایو بیسڈ، بایوڈیگریڈیبل اور کمپوسٹ ایبل پلاسٹک، پیکیجنگ کے معیار اور یورپی ضوابط سے متعلق سرکاری معلومات۔
یورپی کمیشن کی معلومات کھولیں
EU Packaging Regulation کھولیں