اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

سعودی عرب کینسر کے مریضوں کی شرحِ بقا میں ٹاپ 10 ممالک میں شامل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سعودی ہیلتھ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کینسر کی عام اقسام میں مبتلا مریضوں کی شرحِ بقا کے لحاظ سے جی 20 کے 10 سرفہرست ممالک میں شامل ہو گئی ہے۔

یہ درجہ بندی سعودی کینسر رجسٹری کی رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہے، جو صحت کے شعبے میں پالیسی اصلاحات، ابتدائی تشخیص کے مؤثر پروگراموں اور علاج کے معیار میں بہتری کے مثبت نتائج کو ظاہر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں

عالمی یومِ کینسر  (4 فروری) کے موقع پر سعودی ہیلتھ کونسل نے مملکت میں کینسر کے مریضوں کے لیے صحت کی خدمات کو منظم اور بہتر بنانے کے لیے کی گئی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

کونسل نے تصدیق کی کہ سعودی عرب اب کینسر کی عام اقسام میں مریضوں کی بقا کی شرح کے اعتبار سے جی 20 کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں آ چکا ہے۔

کونسل کے مطابق حالیہ برسوں میں صحت سے متعلق متعدد بڑے فیصلے کیے گئے ہیں جن کا مقصد شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے لیے کینسر کے علاج کی خدمات کے معیار اور مؤثریت کو بہتر بنانا اور ان تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔

saudi cancer research 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ اقدامات ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام اور وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جن کے تحت مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے عالمی معیار کے سعودی صحت نظام کی تشکیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

سعودی ہیلتھ کونسل نے بتایا کہ کینسر کے خلاف اقدامات میں سب سے نمایاں فیصلہ نیشنل کینسر سینٹر کا قیام ہے، جو کونسل کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کینسر کے علاج سے متعلق مراکز، خدمات اور آنکولوجی شعبوں کے لیے معیار بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں شدید لیوکیمیا کے مریضوں کے لیے تمام سرکاری صحت کے شعبوں میں فوری داخلے کا خصوصی نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ مملکت میں آنکولوجی خدمات کو مزید ترقی دی جا سکے۔

کونسل کے اہم فیصلوں میں صحت کے تمام شعبوں اور اداروں کو اپنے ہاں تشخیص ہونے والے کینسر کے کیسز کی رپورٹنگ کا پابند بنانا بھی شامل ہے جبکہ ریڈیوتھراپی مشینوں، سائیکلوٹرون اور پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی جیسی جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنایا گیا ہے، جس سے بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی ہیلتھ کونسل نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں قومی سطح پر متعدد کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں جن کے اثرات خدمات کے معیار پر نمایاں طور پر مرتب ہوئے ہیں۔ ان میں صحت سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کی تیاری، نظام کی بہتری اور مریضوں کے تحفظ کو فروغ دینا شامل ہے۔

saudi cancer research 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کینسر کے شعبے میں دیگر نمایاں اقدامات میں چھاتی، رحم کے دہانے، پھیپھڑوں، بڑی آنت اور پروسٹیٹ کینسر کے ابتدائی تشخیص سے متعلق مطالعات کی رپورٹس شائع کرنا بھی شامل ہے۔

کونسل کے مطابق دیگر اہم کامیابیوں میں کینسر رجسٹری اور ڈیٹا اندراج کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام کی منظوری، مملکت میں بون میرو ٹرانسپلانٹ خدمات کی ترقی، کینسر کی بنیادی ادویات کی فہرست کو ازسرنو مرتب کرنا، کینسر کے مریضوں کے حقوق اور خدمات سے متعلق سعودی قوانین و ضوابط کی گائیڈ شائع کرنا اور کینسر کے مریضوں کی معاونت کرنے والی سعودی فلاحی تنظیموں کی رہنما فہرست جاری کرنا شامل ہے۔

عالمی سطح پر سعودی عرب کی کوششوں کے حوالے سے کونسل نے بتایا کہ مملکت عالمی ادارۂ صحت کے تحت انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی رکن بن چکی ہے جبکہ مملکت کینسر میں شرحِ بقا سے متعلق بین الاقوامی پروگرام ’کونکورڈ‘ میں بھی شرکت کر رہی ہے، جس سے عالمی تحقیقی مراکز کے ساتھ ڈیٹا اور تجربات کے تبادلے کو فروغ ملا ہے۔

کونسل نے انکشاف کیا کہ سعودی کینسر رجسٹری کی جانب سے اب تک 27 قومی رپورٹس شائع کی جا چکی ہیں، جن میں کینسر کے پھیلاؤ اور شرحِ بقا سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار شامل ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق چھاتی کے کینسر میں مریضوں کی شرحِ بقا 76 فیصد، پروسٹیٹ کینسر میں 82 فیصد اور بڑی آنت و مقعد کے کینسر میں 61 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ بلند شرحیں علاج کی معیاری خدمات اور کینسر رجسٹری کے مؤثر ڈیٹا تجزیے کا نتیجہ ہیں۔

اس کے علاوہ سعودی ہیلتھ کونسل نے کینسر سے اموات اور مریضوں کی بقا سے متعلق خصوصی قومی رپورٹس بھی شائع کی ہیں، جو بیماری کی شدت کا درست اندازہ فراہم کرتی ہیں۔ ان رپورٹس کی مدد سے علاج اور حفاظتی خدمات کی بہتر منصوبہ بندی، سائنسی تحقیق کی حمایت، عالمی تحقیقی مراکز کے ساتھ اشتراک اور بیماری و اموات کے رجحانات اور خطراتی عوامل کا تجزیہ ممکن ہو سکا ہے۔

واضح رہے کہ نیشنل کینسر سینٹر مملکت میں کینسر پر قابو پانے کے لیے قومی حکمتِ عملیوں کی تیاری، بیماری کی نگرانی، جامع خدمات کے معیار میں بہتری، علاج کے نتائج کی جانچ، تحقیق و ترقی کے فروغ اور صحت کے مختلف شعبوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔