مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل مدنی انتقال کر گئے۔
وہ حرم مکی کی مکبریہ سے وابستہ اور خصوصاً فجر کی اذان اور امام کے پیچھے تکبیرات کے لیے معروف تھے۔
ان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی اذانوں کی پرانی ریکارڈنگز شیئر کی جا رہی ہیں۔
مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل مدنی آج پیر 21 ستمبر 2026 کو انتقال کر گئے۔
ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سعودی عرب سمیت مختلف ملکوں میں حرم مکی سے محبت رکھنے والے افراد نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
سعودی اخبارات عکاظ، المدینہ اور سبق نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شیخ ابراہیم مدنی مسجد الحرام کی مکبریہ کے ارکان میں شامل تھے۔
سوشل میڈیا پر بھی حرمین شریفین سے وابستہ افراد اور اذان سے دلچسپی رکھنے والوں نے ان کی اذان اور تکبیرات کی پرانی ریکارڈنگز شیئر کرکے انہیں یاد کیا۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
— أخبار الحج والعمرة (@Hajj_news) September 21, 2026
انتقل إلى رحمة الله تعالى اليوم مؤذن المسجد الحرام، الشيخ #إبراهيم_المدني.
نسأل الله أن يتغمده بواسع رحمته ومغفرته، وأن يسكنه فسيح جناته، وأن يجزيه خير الجزاء على ما قدّم في خدمة بيت الله الحرام.
خالص العزاء والمواساة لأسرته وذويه. pic.twitter.com/pgcgkN2tu6
مسجد الحرام کے مؤذن
شیخ ابراہیم بن عادل مدنی کا شمار مسجد الحرام کے باقاعدہ مؤذنین میں ہوتا تھا۔
حرمین شریفین انتظامیہ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود مؤذنین کی فہرست میں بھی ان کا نام درج ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTشیخ ابراہیم مدنی — اہم نکات ⌄
- ✓شیخ ابراہیم بن عادل مدنی مسجد الحرام کے مؤذن اور مکبریہ کے ارکان میں شامل تھے۔
- ✓وہ خصوصاً فجر کی اذان، تکبیرات اور امام کے پیچھے تبلیغ کے لیے معروف تھے۔
- ✓مسجد الحرام میں 24 بنیادی مؤذنین کے نظام میں وہ بھی شامل تھے۔
- ✓مؤذنین میں سے چھ روزانہ پانچ نمازوں اور فجر کی پہلی اذان کے لیے باری باری ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔
- ✓شیخ ابراہیم مدنی کے انتقال کی خبر 21 ستمبر 2026 کو سعودی ذرائع نے شائع کی۔
- ✓ان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی اذان اور تکبیرات کی ریکارڈنگز دوبارہ شیئر کی گئیں۔
مسجد الحرام میں اذان کا نظام انتہائی منظم انداز میں چلایا جاتا ہے۔
مؤذنین مقررہ نظام کے تحت نمازوں کی اذان، اقامت اور امام کے پیچھے تکبیرات کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
سعودی ذرائع کے مطابق شیخ ابراہیم مدنی بالخصوص فجر کی اذان، تکبیرات اور امام کے پیچھے تبلیغ کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔
24 مؤذنین کا نظام
سبق کے مطابق مسجد الحرام میں 24 بنیادی مؤذنین خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور ان میں سے 6 مؤذن روزانہ 5 نمازوں اور فجر کی پہلی اذان سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
حرم مکی میں اذان محض نماز کے وقت کا اعلان نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک منفرد روحانی نسبت بھی رکھتی ہے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
— عايض بن سعود H15💛 (@ASA_1927) September 21, 2026
إنتقل إلى رحمة الله مؤذن المسجد الحرام الشيخ#ابراهيم_المدني رحمه الله وغفر له وأسكنه فسيح
جناته أرتبط صوته منذ الطفوله بالحرم وشهر رمضان
وتكبيرات العيد أسأل الله ان يتغمده برحمته وغفرانه pic.twitter.com/q5IMMXhgWG
مسجد الحرام سے براہ راست نشر ہونے والی اذان دنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں افراد سنتے اور دیکھتے ہیں۔
اسی لیے حرم کے کسی معروف مؤذن کی آواز وقت کے ساتھ مسجد الحرام کی صوتی شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اذان کی ریکارڈنگز
شیخ ابراہیم مدنی کے انتقال کی اطلاع پھیلتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے نام سے متعلق پوسٹس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXشیخ ابراہیم مدنی: فیکٹ باکس ⌄
- پورا نام
- شیخ ابراہیم بن عادل مدنی
- ذمہ داری
- مؤذن مسجد الحرام
- مقام
- مسجد الحرام، مکہ مکرمہ
- وابستگی
- مکبریہ مسجد الحرام
- نمایاں شناخت
- فجر کی اذان
- دیگر خدمت
- تکبیرات اور تبلیغ خلف الامام
- مؤذنین کا نظام
- 24 بنیادی مؤذن؛ چھ مؤذن روزانہ باری باری ذمہ داری انجام دیتے ہیں
- انتقال کی خبر
- 21 ستمبر 2026
لوگوں نے ان کی مسجد الحرام میں دی گئی اذانوں، تکبیرات اور مکبریہ میں ذمہ داریاں انجام دینے کی ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز شیئر کیں۔
خصوصاً ان کی فجر کی اذان کو یاد کیا گیا، جس سے ان کی آواز سننے والے نمازیوں کی ایک بڑی تعداد مانوس تھی۔
مکبریہ کیا ہے؟
مسجد الحرام کی مکبریہ وہ مقام اور نظام ہے جہاں سے مؤذن اذان، اقامت اور نماز کے دوران امام کی تکبیرات نمازیوں تک پہنچانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔
جدید ساؤنڈ سسٹم آنے کے باوجود حرمین شریفین میں مؤذن کی یہ ذمہ داری اپنی دینی اور تاریخی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISشیخ ابراہیم مدنی کی کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
شیخ ابراہیم مدنی کی خدمت تین پہلوؤں سے یاد رکھی جائے گی:
امام جب نماز کے دوران تکبیر کہتے ہیں تو مؤذن اسے دہراتا ہے تاکہ وسیع مسجد اور مختلف حصوں میں موجود نمازی امام کی حرکات سے باخبر رہیں۔
اس عمل کو عربی میں التبلیغ خلف الإمام کہا جاتا ہے۔
شیخ ابراہیم مدنی اس ذمہ داری کی ادائیگی کے حوالے سے بھی معروف تھے۔
حرم کی آواز سے ایک خاص تعلق
مسجد الحرام کے مؤذن کا مقام عام مساجد سے کئی اعتبار سے منفرد ہے۔
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان عمرہ اور حج کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد کے ذہن میں حرم میں سنی گئی اذان زندگی بھر محفوظ رہتی ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
شیخ ابراہیم بن عادل مدنی مسجد الحرام کے مؤذن اور مکبریہ کے ارکان میں شامل تھے۔ ان کی آواز خصوصاً فجر کی اذان سے پہچانی جاتی تھی۔
وہ اذان، تکبیرات اور امام کے پیچھے تبلیغ کی ذمہ داری انجام دیتے رہے۔ مسجد الحرام کے 24 بنیادی مؤذنین میں سے چھ روزانہ باری باری نمازوں کی اذان دیتے ہیں۔
شیخ ابراہیم مدنی کے انتقال کی خبر 21 ستمبر 2026 کو سعودی ذرائع نے شائع کی۔ الدرعیہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا ہوئی، اور یوں ایک فوٹوگرافر کا سفر اسی سرزمین پر ختم ہوا جسے اس نے دہائیوں تک اپنی عدسہ میں محفوظ کیا۔
یہی وجہ ہے کہ مسجد الحرام کے معروف مؤذنین کی آوازیں نسلوں کی یادوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔
شیخ ابراہیم مدنی بھی انہی آوازوں میں شامل تھے۔
ان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل میں یہی تعلق نمایاں نظر آیا۔ متعدد افراد نے ان کی اذان کی ریکارڈنگز شیئر کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔
ایک آواز رخصت، یاد باقی
شیخ ابراہیم بن عادل مدنی کا انتقال مسجد الحرام کے اذان کے نظام سے وابستہ ایک مانوس آواز کی جدائی ہے۔
انہوں نے جس مقام سے اللہ کی کبریائی اور نماز کی دعوت بلند کی، وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مقدس ترین مقام ہے۔
ان کی آواز میں ریکارڈ ہونے والی اذانیں اور تکبیرات اب بھی محفوظ ہیں اور ان کی خدمت کی یاد دلاتی رہیں گی۔
مسجد الحرام کے صحنوں میں ان کی آواز اب براہ راست سنائی نہیں دے گی، لیکن برسوں تک حرم میں گونجنے والی ان کی اذان ان لوگوں کی یادوں میں باقی رہے گی جنہوں نے اسے مسجد الحرام میں یا دنیا کے کسی گوشے میں حرم کی نشریات کے ذریعے سنا۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
یہ کارڈز منظور شدہ قالب کو برقرار رکھتے ہوئے شیخ ابراہیم بن عادل مدنی کی رپورٹ کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔