ماہرین نفسیات نے ایک نئی تحقیق کے نتائج سے اخذ کیا ہے کہ جو افراد بہت زیادہ خاموش سمجھے جاتے ہیں، وہ دراصل کمزور نہیں بلکہ مضبوط شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شور شرابہ اور زیادہ بولنے والی شخصیات کو ترجیح دینے والے معاشرے میں خاموش افراد کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے حالانکہ ان کی خاموشی کے پیچھے گہری سوچ اور اندرونی طاقت موجود ہوتی ہے۔
خاموش افراد غلط کیوں سمجھے جاتے ہیں؟
ویب سائٹ YourTango پر شائع ہونے والی اس تحقیق کو نفسیات اور سماجی تعلقات کی ماہر زائیدہ سلابیکورن نے تحریر کیا ہے، جس کے مطابق جدید معاشرتی رویے زیادہ بولنے، خود کو نمایاں کرنے اور ہر وقت بات کرنے کو اعتماد کی علامت سمجھتے ہیں، جس کے باعث خاموش افراد کو اکثر سماجی طور پر کمزور سمجھ لیا جاتا ہے۔
خاموشی کمزوری نہیں
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خاموش افراد اکثر شرم یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ شعوری طور پر خاموشی اختیار کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ذہنی توانائی محفوظ رکھ سکیں، بہتر انداز میں سوچ سکیں اور حالات کو سمجھ سکیں۔ یہی رویہ انہیں ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں زیادہ باخبر اور متوازن بناتا ہے۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق زیادہ خاموش رہنے والے افراد اپنی ذات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔
یورپی جرنل آف سائیکالوجی میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد اپنے جذبات اور رویوں کو خود بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر زیادہ دانش مندانہ فیصلے کرتے ہیں۔
ماحول اور لوگوں کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت
خاموش افراد عموماً وہ چیزیں محسوس کر لیتے ہیں جو دوسروں کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ سماجی اشاروں، جسمانی زبان اور ماحول کی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، خاص طور پر ایسی محفلوں میں جہاں زیادہ بولنے والے افراد گفتگو پر حاوی ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خاموش افراد سماجی طور پر غیر فعال نہیں ہوتے بلکہ وہ غیر ضروری باتوں سے گریز کرتے ہیں۔ جب وہ بولتے ہیں تو ان کی بات میں وزن ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلے سوچتے ہیں اور پھر گفتگو کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خاموش افراد بہترین سامع ہوتے ہیں۔ وہ سامنے والے کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے، جس سے اعتماد بڑھتا ہے اور بات چیت زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
خاموشی بطور طاقت
رپورٹ کے مطابق خاموشی ان افراد کے لیے کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت ہے۔ وہ خاموش لمحات سے گھبراتے نہیں بلکہ انہیں سوچنے اور بہتر فیصلے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خاموش افراد تنہائی میں زیادہ تخلیقی ہوتے ہیں۔ یہی وقت ان کے تخیل کو تقویت دیتا ہے اور انہیں فن، تحریر اور سوچ کے میدان میں منفرد بناتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خاموش افراد اندرونی طور پر نسبتاً پُرسکون ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کی توثیق پر کم انحصار کرتے ہیں اور اپنی ذہنی توانائی کو بہتر طریقے سے سنبھالتے ہیں۔
فطری تجسس
Personality and Individual Differences نامی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق خاموش افراد نئی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر حد سے زیادہ جوش یا نمائش کے بغیر، جس سے ان کا تجسس متوازن رہتا ہے۔
معروف مصنفہ سوزن کین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خاموش افراد اکثر گفتگو کے دوران خاموش اس لیے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ بات کو اندرونی طور پر پراسیس کر رہے ہوتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ وہ گفتگو میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
تحقیق کے مطابق خاموش افراد تعلقات میں بھی محتاط ہوتے ہیں۔ وہ کم لوگوں سے جڑتے ہیں مگر ان تعلقات کو گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ نبھاتے ہیں۔
ازدواجی اور خاندانی معالج بلیک گرفن ایڈورڈز کے مطابق خاموش افراد کی خود اعتمادی کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اسے غرور یا بے رخی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ یہ اندرونی اعتماد اور توازن کی علامت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ ایک مختلف انداز کی طاقت ہے، جو انسان کو زیادہ باشعور، متوازن اور مضبوط بناتی ہے۔