قصیم کے علاقے میں موسمِ سرما کے دوران حنینی اپنی روایتی خوشبو اور غذائیت کے باعث گھروں اور سماجی محفلوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔
یہ پکوان نہ صرف قصیم کے روایتی غذائی ورثے کی پہچان ہے بلکہ موسمِ سرما میں جسم کو توانائی، حرارت اور تازگی فراہم کرنے کے باعث خاص اہمیت بھی رکھتا ہے۔
سادہ اجزا، بھرپور غذائیت
حنینی اپنے سادہ مگر قدرتی اجزا کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ یہ پکوان عام طور پر کھجور، قرصان یا پوری کی روٹی، دیسی گھی یا مکھن سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ اجزا ہی اسے غذائیت سے بھرپور اور توانائی بخش بناتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہی وجہ ہے کہ ’حنینی‘ قصیم کے علاقے میں سردیوں کے مخصوص موسم کے محبوب کھانے کے طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی واس سے گفتگو کرتے ہوئے گھریلو باورچی اُمِ سلطان نے بتایا کہ حنینی کی تیاری ایک روایتی گھریلو عمل ہے، جو انہوں نے اپنے خاندان سے سیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں اس پکوان کی تیاری میں خاصا وقت اور محنت درکار ہوتی تھی، تاہم جدید
آلات کی دستیابی سے اب اس عمل میں آسانی آ گئی ہے جبکہ ذائقہ اور روایتی پہلو آج بھی برقرار ہے۔
سردیوں میں بڑھتی مقبولیت
اُمِ سلطان کے مطابق ’حنینی‘ کی فرمائش سردیوں کے موسم میں ہر عمر کے افراد میں بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کے قدرتی اجزا جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کی تیاری کے مراحل میں سب سے پہلے روٹی تیار کر کے خشک کی جاتی ہے، پھر اسے معیاری کھجوروں کے ساتھ ملایا جاتا ہے، اُس کے بعد دیسی گھی سے اچھی طرح گوندھ کر مختلف اشکال میں پیش کیا جاتا ہے، جو گھریلو اور سماجی تقریبات کے لیے موزوں ہوتی ہیں۔
اسی حوالے سے ثقافتی سرگرمیوں میں شریک اُمِ نائف نے کہا کہ ’حنینی‘ قصیم کے روایتی غذائی ورثے کا نمائندہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روایتی میلوں اور عوامی بازاروں میں حنینی کی طلب اور پیشکش کے انداز نے اس پکوان کو مقامی ثقافتی شناخت کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
نئی نسل کی دلچسپی
اُمِ نائف کا کہنا تھا کہ حنینی کی روایتی تیاری کے طریقوں کو محفوظ رکھنا ایک چیلنج تھا، جو کامیاب ہوا اور بالآخر یہ ثقافتی ورثہ نئی نسل تک منتقل ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی ورثے کے پروگراموں اور تقریبات میں حنینی کی نمائش سے گھریلو صنعتوں کو بھی فروغ ملتا ہے، جس سے مقامی باورچی خانے کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے، جو کہ ہماری قومی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں حنینی کو مختلف میلوں میں دلچسپ اور روایتی انداز میں پیش کش کیا جاتا رہا ہے، جس سے اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی شہرت کا اندازہ عُنیزہ میں سالانہ منعقد ہونے والے ’حنینی فیسٹیول‘ سے لگایا جا سکتا ہے۔