مملکت میں اونٹوں کے پاسپورٹ جاری کرنے کا منصوبہ شروع کردیا گیا، جس کے ذریعے شناخت اور تجارت باضابطہ، قانونی اور منظم شکل اختیار کر لے گی۔
مزید پڑھیں
سعودی عرب میں اونٹوں کے شعبے کو منظم اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نائب وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر منصور ہلال المشيطی نے اونٹوں کے پاسپورٹ کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔
اس اقدام کا مقصد اونٹوں کی شناخت کو مستند بنانا، ان کی تجارت کو منظم کرنا اور مقامی و بین الاقوامی منڈیوں میں اعتماد کو فروغ دینا
ہے، جو وژن 2030ء کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
وزارت کے مطابق اونٹوں کا پاسپورٹ ایک ایسی مستند شناختی دستاویز ہے، جس میں چِپ نمبر، پاسپورٹ نمبر، اونٹ کا نام، تاریخِ پیدائش، نسل، جنس، رنگ، جائے پیدائش اور اجرا کی تاریخ شامل کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ہر اونٹ کی دائیں اور بائیں جانب سے تصاویر بھی پاسپورٹ کا حصہ ہوں گی تاکہ شناخت میں کسی قسم کا ابہام نہ رہے اور مکمل ریکارڈ محفوظ ہو۔
اونٹوں کے پاسپورٹ میں ایک مخصوص صفحہ ان کے ویکسینیشن ریکارڈ کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے، جس پر تمام حفاظتی ٹیکوں کی تفصیل درج کی جائے گی۔ یہ ریکارڈ متعلقہ ویٹرنری ڈاکٹر کے دستخط، نام اور مہر سے تصدیق شدہ ہوگا، جس سے ہر اونٹ کا قابلِ اعتماد طبی پروفائل تیار ہو سکے گا۔
اس اقدام سے وبائی امراض کی نگرانی، بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور ویٹرنری مداخلت میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔
وزارت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ اونٹوں کا پاسپورٹ خرید و فروخت، نقل و حمل اور سرکاری توثیق کے عمل کو منظم بنانے میں مدد دے گا۔ اس سے اونٹ مالکان کے حقوق محفوظ ہوں گے، ملکیت ثابت کرنا آسان ہوگا اور بازار میں لین دین کے دوران اعتماد بڑھے گا۔
تاجر حلقوں کا کہنا ہے کہ اونٹوں کے پاسپورٹ کے ذریعے ان کی مارکیٹ ویلیو کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا کیونکہ قیمت کا تعین اب درست معلومات جیسے صحت کی حالت، نسل اور نسب کی بنیاد پر ہوگا۔ اس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی نیلامیوں اور منڈیوں میں شفافیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اونٹوں کی تجارت کو نئی سمت ملے گی۔
وزارت کے مطابق یہ منصوبہ قومی سطح پر اونٹوں کی درست تعداد، جنس، عمر، نسل اور رنگ سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے میں بھی مدد دے گا۔ اس معلومات کی بنیاد پر مملکت میں مویشی وسائل کی بہتر تقسیم، افزائش نسل کی منصوبہ بندی اور مقامی نسلوں کو بہتر بنانے کے پروگرامز کو تقویت ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اونٹوں کا پاسپورٹ نہ صرف ایک انتظامی دستاویز ہے بلکہ یہ اونٹوں کے شعبے کو جدید، شفاف اور پائیدار بنانے کی سمت ایک اسٹریٹیجک قدم ہے، جو سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت زرعی اور لائیواسٹاک شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔