اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

بحیرۂ احمر میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جِلدی پشت والا کچھوا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
یہ کچھوا اپنی خوراک، خصوصاً جیلی فِش کی تلاش میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتا ہے (فوٹو: اے آئی)

بحیرۂ احمر میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جِلدی پشت والے کچھوے کا ایک نایاب منظر دیکھا گیا ہے۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق قومی مرکز برائے فروغِ جنگلی حیات نے بحیرۂ احمر میں ایک انتہائی نایاب اور غیر معمولی منظر ریکارڈ کیا، جہاں جِلدی پشت والے سمندری کچھوے (Leatherback Turtle) کو دیکھا گیا ہے، جو عالمی سطح پر معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار انواع میں شمار ہوتا ہے۔

یہ مشاہدہ القنفذہ گورنریٹ سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع محمیہ الثقوب الزرقا البحریہ کے قریب کیا گیا، جسے حال ہی میں بحری محفوظ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

turtle1
(فوٹو: واس)

بحیرۂ احمر میں انتہائی کم نظر آنے والا جاندار

قومی مرکز برائے فروغِ جنگلی حیات کے مطابق یہ منظر بحیرۂ احمر میں اس نوع کے چند گنے چنے واقعات میں سے ایک ہے۔ جِلدی پشت والے سمندری کچھوے کو دنیا کا سب سے بڑا سمندری کچھوا سمجھا جاتا ہے، جس کا وزن 900 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔

اس کچھوے کی نمایاں خصوصیات میں سیاہ رنگ، چمڑے جیسی سخت جلد، پشت پر کئی ابھار اور 1000 میٹر سے زیادہ گہرائی تک غوطہ لگانے کی غیر معمولی صلاحیت شامل ہے۔

ہزاروں کلومیٹر کا سفر

مرکز سے وابستہ ماہرین نے اس حوالے سے مزید وضاحت کی ہے کہ یہ کچھوا اپنی خوراک، خصوصاً جیلی فِش کی تلاش میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

اس کے قریبی قدرتی مسکنوں میں جنوبی افریقا کے قریب بحرِ ہند شامل ہے، جو بحیرۂ احمر سے 7000 سے 8000 کلومیٹر دُور واقع ہے جبکہ سری لنکا تقریباً 5000 کلومیٹر اور جزائر انڈمان  میں اس کے گھونسلے پائے جاتے ہیں، جو لگ بھگ 6500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ بحیرۂ احمر میں کچھوے کی اس نوع کے انڈے دینے کے مقامات موجود نہیں ہیں، جس بنیاد پر یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ 

یہ کچھوا آبنائے باب المندب کے ذریعے خوراک کی تلاش میں بحیرۂ احمر میں داخل ہوا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اتنا طویل اور پیچیدہ سفر اس نوع کی غیر معمولی نیویگیشن صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔

عالمی درجہ بندی اور ڈیٹا کی کمی

بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ فطرت (IUCN) کی ریڈ لسٹ کے مطابق بحرِ ہند میں جِلدی پشت والے سمندری کچھوے شدید خطرے سے دوچار (Critically Endangered) ہیں جبکہ بحیرۂ احمر اور خلیج عرب کے علاقے میں اسے ناکافی معلومات (Data Deficient) کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اس خطے میں مشاہدات اور تحقیقی ڈیٹا کی کمی ہے۔

مرکز کے مطابق اس خطے میں کچھوے کی اِس نوع کا آخری مستند ریکارڈ دسمبر 2025ء میں اُردن میں سامنے آیا تھا، جہاں ایک کم عمر کچھوے کو ماہی گیروں کے جال سے آزاد کرایا گیا تھا۔ اُس سے قبل دسمبر 2019ء میں جبوتی کے ساحل کے قریب بھی ایک کم عمر کچھوا دیکھا گیا تھا۔

قومی مرکز برائے فروغِ جنگلی حیات نے زور دیا ہے کہ ایسے نایاب مشاہدات بحیرۂ احمر میں اس نوع کے پھیلاؤ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ فطرت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے نایاب مشاہدات نہ صرف سائنسی تحقیق کو تقویت دیتے ہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ سعودی عرب کے بحری محفوظ علاقے عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔