اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

روضۃ خریم نے سبز چادر اوڑھ لی، قدرتی حسن نے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

مملکت کے محفوظ اور فطرت کے عکاس سمجھے جانے والے علاقوں میں شامل امام عبدالعزیز بن محمد رائل ریزرو کے اندر واقع روضۃ خریم ایک بار پھر سبزہ زاروں اور قدرتی حسن کا بھرپور منظر پیش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے نمایاں قدرتی مقامات میں ممتاز حیثیت کا حامل روضۃ خریم  حالیہ بارشوں کے بعد سرسبز ہو گیا ہے۔

جہاں بارش کا پانی ہضبہ العرمۃ کی بلندیوں سے بہتے  اور وادی الثمامة اور وادی غیلانہ سے گزرتے ہوئے گھاس کے میدانوں اور باغات کو سیراب کرتے ہوئے روضۃ خریم تک پہنچتا ہے۔ 

بارش کا یہ پانی اس قدرتی مقام کو ایسی نئی زندگی بخشتا ہے، جس سے مختلف وادیاں اور میدان سرسبز مناظر میں ڈھل جاتے ہیں۔

روضۃ خریم کا کل رقبہ تقریباً 52.3 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کے تقریباً 77 فیصد حصے پر نباتاتی حسن نمایاں ہے۔ یہی خصوصیت اسے موسمِ سرما اور بہار کے دوران ایک مقبول سیاحتی اور تفریحی مقام بناتی ہے، جہاں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں سے آنے والے سیاح بھی فطرت کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

rauda khareem2
(فوٹو: واس)

دلکش قدرتی مناظر

یہاں بارشوں کے بعد اِردگرد کی وادیاں اور ہموار زمینیں سرسبز میدانوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سبز گھاس، رنگ برنگے جنگلی پودے اور خوشبو بکھیرتی نباتات پورے علاقے کو قدرت کے ایک دلکش باغ کا روپ دیتی ہیں۔

اس دوران یہاں طلح، سلم اور سدر کے درخت خاص طور پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں، جو روضۃ خریم کے قدرتی حسن میں چار چاند لگاتے ہیں۔

روضۃ خریم میں پائی جانے والی پھول دار جنگلی نباتات شہد کی مکھیوں کے لیے ایک اہم قدرتی ذریعہ ہیں۔ یہ نباتات نہ صرف شہد اور پولن کی پیداوار کو فروغ دیتی ہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جس سے قدرتی توازن برقرار رہتا ہے۔

rauda khareem3
(فوٹو: واس)

ماحولیاتی توازن

محمیہ امام عبدالعزیز بن محمد الملکیہ کے اندر روضۃ خریم کو قدرت کے ایک ایسے شاہکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں ماحول کے تمام عناصر ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ برس ہا برس یہاں نباتات، جنگلی جانور، پرندے، آبی حیات اور قدرتی وسائل کے درمیان توازن واضح طور پر نظر آتا ہے، جو روضۃ خریم کو ایک پائیدار ماحولیاتی ماڈل بناتا ہے۔

ماہرین کے مطابق روضۃ خریم نہ صرف قدرتی حسن کا مظہر ہے بلکہ یہ مملکت میں ماحولیاتی تنوع اور فطری دولت کی ایک نمایاں علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک اہم ماحولیاتی اور سیاحتی مقام کے طور پر خصوصی توجہ حاصل ہو رہی ہے، جہاں فطرت اپنی اصل صورت میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔

rauda khareem4
(فوٹو: واس)