نئی طبی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ 24 گھنٹے جاگ کر گزارنے سے دماغ اور جسم کے مدافعتی نظام پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 24 گھنٹے مسلسل جاگنا محض تھکن یا اونگھنے تک کا محدود مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے جسم کو ایک ہنگامی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
نیند کی یہ کمی دماغی کارکردگی سے لے کر ہارمونز، اعصابی نظام اور قوتِ مدافعت تک پورے توازن کو تیزی سے بگاڑتی ہے، جس کے اثرات بعض اوقات فوری اور بعض اوقات دیرپا ہو سکتے ہیں۔
دماغ پر اثرات سب سے پہلے
ٹائمز ناؤ ویب سائٹ (Times Now) پر شائع طبی رپورٹ کے مطابق نیند نہ لینے کا سب سے پہلا اثر دماغ پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر دماغ کا فرنٹل لوب (پیشانی کے پیچھے، بالائی حصہ) جو فیصلہ سازی، توجہ اور سوچنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالکل عام اور سادہ کام بھی مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں جب کہ ذہنی پر بوجھ، توجہ کی شدید کمی اور سوچ میں الجھن بھی جسم اور شخصیت پر ظاہر ہونے لگتی ہے۔
ماہرین نے اس حوالے سے مائیکرو سلیپ (Microsleep) کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے، جو نیند کے بہت مختصر دورانیے ہوتے ہیں، جو چند سیکنڈ تک جاری رہتے ہیں اور انسان کو اس کا شعور بھی نہیں ہوتا۔
مسلسل جاگنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یہ کیفیت خاص طور پر ڈرائیونگ یا مشینری چلانے کے دوران جان لیوا حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
بدمزاجی اور جذباتی بگاڑ
نفسیاتی طور پر نیند کی کمی دماغ کے اُس حصے کو زیادہ متحرک کرتی ہے جو جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں موڈ میں تیزی سے تبدیلی، چڑچڑاپن اور غصہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کسی ذہنی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ دماغ کا نیند کی کمی پر فطری ردِعمل ہوتا ہے۔
ہارمونز کے نظام پر اثرات
مسلسل جاگنے کے نتیجے میں ہارمونل سطح پر بھی واضح اثرات سامنے آتے ہیں۔ نیند نہ لینے سے کورٹی سول نامی تناؤ کا ہارمون بڑھ جاتا ہے جب کہ بھوک اور پیٹ بھرنے سے متعلق ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں زیادہ چکنائی اور زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی طلب بڑھتی ہے، جو اگر بار بار ہو تو وزن بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اعصاب پر اثرات، نشے جیسی کیفیت
طبی ماہرین کے مطابق 24 گھنٹے جاگنے کے بعد اعصابی نظام کی کیفیت متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات نشے کے اثرات سے ملتی جلتی ہو جاتی ہے۔ انسانی ردِعمل سست پڑ جاتا ہے، ہاتھ پاؤں کا توازن متاثر ہوتا ہے اور جسمانی ہم آہنگی کمزور ہو جاتی ہے۔
قوتِ مدافعت کمزور
نیند کی کمی کا ایک بڑا نقصان مدافعتی نظام کو بھی پہنچتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مسلسل جاگنے سے جسم کے حفاظتی خلیات کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے اور سوزش کے اشاریے بڑھ جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صرف ایک رات کی نیند کی کمی کے بعد بھی انسان نزلہ، زکام اور کسی وائرس کا آسانی سے شکار ہو سکتا ہے۔
پورے جسم کا بریک ڈاؤن
مسلسل جاگنے کا دورانیہ 24 گھنٹے مکمل ہونے پر دماغ میں ایڈینوسین نامی مادہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے، جو شدید نیند کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اس مرحلے پر جسم بوجھل، سوچ سست اور توجہ کمزور ہو جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دراصل جسم کی طرف سے ایک سخت وارننگ ہوتی ہے کہ اب نیند ضروری ہے تاکہ مرمتی نظام دوبارہ فعال ہو سکیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کو مسلسل نظرانداز کرنا صحت، کارکردگی اور سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔ صرف ایک دن کی نیند کی کمی بھی جسم کے کئی اہم نظاموں کو متاثر کر دیتی ہے، اس لیے مناسب اور باقاعدہ نیند کو صحت مند زندگی کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔