ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ
مکہ مکرمہ
ماہ شعبان کی 15 ویں رات جس پر ہر سال ہر ملک میں معرکہ آزمائی ہوتی ہے، پھر یہ قول بھی بعض اہل تفسیر کا ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ وہ رات ہے جس میں ہر حکمت والا امر طے پاتا ہے اگرچہ یہ راجح قول نہیں مگر ذکر سبھی کرتے ہیں۔
احادیث کی بات آئے تو اس رات پہ لکھنے والے سبھی لوگ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بھی ذکر کرتے ہیں کہ اس ماہ مبارک میں آنحضرتﷺ اتنی کثرت سے اور لگا تار روزے رکھتے کہ ہم نے اس کے علاوہ کسی دیگر ماہ میں آپﷺکو روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اور اس روایت کو کیونکر ذکر نہ کیا جائے کہ اسے بخاری، مسلم اور ابو داؤد نے روایت فرمایا ہے۔
مزید پڑھیں
پھر ترمذی کی یہ روایت بھی کہ حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی دیگر مہینے میں آپﷺ کو لگاتار روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اگرچہ شراح حدیث نے شعبان کو رمضان کے ساتھ ذکر کرنے کی حکمت آپﷺ کا شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کو ہی کہا ہے۔
امت مسلمہ کی تاریخ میں ہر دور میں اس کے اہل علم سے اس رات کی
فضیلت پر قولاً یا عملاً منقول ہوتا چلا آرہا ہے۔
جامعین سنت نے باقاعدہ اس کی فضیلت میں باب باندھے ہیں۔
یہ بات بالکل حق ہے کہ اس رات میں عبادت، ذکر، اذکار یا تقرب الی اللہ کا مخصوص طریقہ شارع کی طرف سے مقرر نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اس رات کو بندوں پر خصوصی توجہ کی احادیث قابل توجہ ہیں جیسے کہ یہ حدیث جسے حضرت معاذ بن جبل ؓ رسول اللہﷺ سے نقل فرما رہے ہیں کہ اللہ شعبان کی پندھرویں رات کو تمام مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ تمام مخلوقات کو معاف فرما دیتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث کہ اللہ عز وجل شعبان کی 15 ویں تاریخ کی رات کو اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دو بندوں کے علاوہ اپنی تمام مخلوقات کی مغفرت فرما دیتے ہیں، ایک کینہ رکھنے والا اور دوسرا ناجائز قتل کرنے والا۔
اللہ تعالیٰ کی اس رات کو بندوں کی طرف خصوصی توجہ والی حدیث کو طبرانی، ابن حبان، بیہقی اور امام احمد نے اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے اور اس دور کے معروف نقاد حدیث شیخ البانی نے اپنی کتاب سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ میں اس کا شمار کیا ہے۔ پھر یہ بھی کہا ہے کہ الحدیث حسنٌ، یہ حدیث حسن ہے۔
ہماری اہل علم سے یہ گزارش ہے کہ اللہ جل جلالہ کا اپنے بندوں کی طرف خصوصی طور پر متوجہ ہونا پھر راوی حضرات کا صراحت سے 15 ویں شعبان کی رات کا ذکر کرنا، یقینا ایک طرف سے اللہ جل جلالہ کا فضل عظیم ہے اور دوسری طرف بندوں پر اس کی عنایت خاصہ کا ہونا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اگر اس رات کی فضیلت کا بھی اعتراف کرلیں تو کسی کا کیا جائے گا جبکہ تمام راویان حدیث، تمام ناقلان روایات رات کے لفظ کو بلا جھجھک ذکر کرتے چلے آئے ہیں۔
جب مولائے کریم اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہیں تو بندوں کو بھی اتنا شعور تو ہو کہ وہ ان کبائر سے توبہ کر کے اللہ کی پناہ میں آجائیں جنہیں وہ اس رات بھی معاف نہیں کرتا نیز اپنے دلوں کا ہر رذیلت سے تزکیہ کرلیں جن گناہوں کی شامت سے وہ اللہ کی خصوصی توجہ سے فضیلت والی رات میں محروم رہتے ہیں۔
بندے خوب اہتمام کریں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے ساتھ نہ شرک اکبر ہو نہ شرک اصغر اور چونکہ بندوں کو ملنے والی تمام نعمتیں اسی مولائے کریم کا فیض او راسی منعم حقیقی کا انعام ہیں تو اپنے دلوں سے بندوں کے لئے حسد، بغض اور کینہ کی گندگیوں کو نکال باہر پھینکیں۔
اس پر بندوں کا کیا لگے گا محض یہ کہ وہ بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں پھر اسی رات کے بارے میں امام احمد نے اپنی مسند میں اس روایت تخریج کی ہے اور امام ترمذی ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت عائشہ سے یوں نقل فرمایا کہ میں نے ایک رات جناب نبی کریمﷺ کو اپنے پاس نہیں پایا۔
میں انہیں ڈھونڈنے نکلی میں نے دیکھا کہ وہ بقیع میں سر مبارک آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔
پھر متوجہ ہوکر فرمایا کہ عائشہ کیا تو اس امر سے ڈرتی ہے کہ اللہ اور رسولﷺ تجھ پر ظلم کریں گے۔
میں نے کہا کہ یہ امر نہیں، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ دیگر زوجات میں سے کسی کی طرف تشریف لے گئے ہوں۔
پھر انہوں نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ شعبان کی 15 ویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔
اس روایت کو بھی بہت سے ناقلین سنت نے نقل فرمایا ہے، پھر بات وہی ہم کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نظر رحمت اور اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول فرمانا پھر کثرت تعداد سے بندوں کی مغفرت فرمادینا کیا اس رات کے فضیلت والی رات ہونے کے لئے کافی نہیں؟۔
بات در اصل یہ ہے کہ رات کی فضیلت سے تو کوئی اہل علم، اہل عقل اور مسلمان امت کے احوال سے واقف کار، انکار نہیں کرسکتا، نہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں بندوں کی طرف خصوصی توجہ سے کسی کو انکا ہو سکتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول سے، پھر اس بات سے بھی انکار نہیں کہ یہ تمام امور اس زمانہ کی فضیلت کے بیان کرنے والے ہیں مگر فضیلت والی اس رات میں بندوں کے لئے شارع کی طرف سے کوئی خصوصی اعمال کی تعیین ہے۔
اس بارے میں کوئی امر ثابت نہیں۔
اگر بندے رب کریم کے فضل وکرم کو طلب کریں، اس کا ذکر، اس سے استغفار کریں، گناہوں سے معافی مانگیں اور خوب رب کریم جو ان کی طرف متوجہ ہے، وہ بھی اس کی طرف متوجہ ہو جائیں پھر تو ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے مقربین اور صالحین بندوں کی بھی عادت رہی ہے۔
رجب کی پہلی رات اور شعبان کی پندھرویں رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات، اس رات کو نماز، دعا اور وعظ کے لئے مسجد میں جماعت بندی تو اہل علم کے ہاں مکروہ ہے مگر فرداً فرداً اپنے آپ کو اعمال صالحہ میں اور ذکر و اذکار میں مشغول رکھنا، کسی کے ہاں مکروہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جب ہماری طرف متوجہ ہیں تو ہمیں بھی توبہ استغفار، ذکر واذکار اور نفلی عبادات سے اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔
ہندوستان کے مشہور محدث اور ترمذی شریف کے شارح علامہ عبدالرحمن مبارک پوری ترمذی شریف کی شرح میں اس باب میں جس کا عنوان ہے: باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، یہ باب اس امر میں ہے کہ شعبان کی پندھرویں رات کی کیا فضیلت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندھرویں رات اس کو لیلۃ برأۃ یعنی شب برأت بھی کہتے ہیں۔
اس باب کو یہاں شعبان کے تذکرہ کی وجہ سے ضمناً ذکر کیا گیا ہے ورنہ کلام تو اس دن کے روزے کے بارے میں ہے، پھر علامہ مبارک پوری فرماتے ہیں: جان لو! شعبان کی پندھرویں رات کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں پھر انہوں نے اس ضمن میں حضرت عائشہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت علی رضی اللہ عنہم سے جو احادیث مروی ہیں ان سبھی کو مختصراً ذکر کیا، پھر وہ فرماتے ہیں: یہ مجموعہ احادیث ان لوگوں کے خلاف حجت ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ 15 ویں شعبان کی رات کی فضیلت میں کوئی احادیث ثابت نہیں۔
ہم نے یہ سطور محض نصیحت کے طور پر جمع کی ہیں کیونکہ ہمارا دین ہی نصیحت ہے نہ کسی کی فضیحت مطلوب ہے نہ کسی پر غلبہ پانا ہمارا ہدف۔
یہ ضرور ہے کہ رحمان و رحیم، رب کریم جب بندوں کی طرف متوجہ ہوں تو پھر ان کی طرف سے اس کی جناب میں ان کے لئے سرد مہری او ربے رخی مناسب نہیں۔