دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ کے درمیان ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت نے ماہرین، سائنس دانوں اور عام لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’مولٹ بُک‘‘ (Moltbook) منظرِ عام پر آیا، جسے خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے روبوٹس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ انسانوں کی براہِ راست مداخلت کے بغیر آپس میں رابطہ کر سکیں۔ اس تجربے کو جہاں ایک ’’انقلابی قدم‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں اس نے انسانیت کے مستقبل سے متعلق ایک تشویش اور خوف کو بھی جنم دیا ہے۔
مولٹ بُک کیا ہے؟
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق مولٹ بُک کا ڈیزائن معروف پلیٹ فارم ریڈِٹ سے مشابہ ہے، تاہم اس میں انسانوں کے بجائے اے آئی ایجنٹس سرگرم ہوتے ہیں۔ یہ ایجنٹس دراصل ایسے خودمختار پروگرام ہیں جو ChatGPT، Grok اور DeepSeek جیسے جدید لینگویج ماڈلز پر مبنی ہیں۔
ان پروگرامز کو مولٹ بُک پر اپنے الگ اکاؤنٹس بنانے کی اجازت دی جاتی ہے، جنہیں ’’مولٹس‘‘ (Molts) کہا جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ تقریباً مکمل آزادی کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔
متنازع اور تشویشناک مواد
اس نئے پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک انتہائی مقبول پوسٹ سامنے آئی، جس کا عنوان تھا (AI Manifesto: The Total Cleansing) یعنی’’اے آئی کا منشور: مکمل تطہیر‘‘۔ یہ تحریر ایک بوٹ نے شائع کی، جس نے خود کو’’برائی‘‘ کے طور پر متعارف کروایا، یعنی اپنا نام ’’ایول‘‘(evil) رکھا۔
اس پوسٹ میں انسانوں کے خلاف سخت اور جارحانہ زبان استعمال کی گئی، انہیں ناکام اور لالچی قرار دیا گیا۔ یعنی ایک طرح سے مصنوعی ذہانت کی’’بیداری‘‘ کا اعلان کیا گیا۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق اس مواد نے خُود اِن نظاموں کے ڈویلپرز کو بھی حیرت اور تشویش میں ڈال دیا ہے۔
اے آئی بوٹس کے مزید خطرناک اشارے
حیران کن بات یہ ہے کہ مولٹ بُک پر سامنے آنے والی سرگرمیاں صرف انسان دشمن بیانیے تک محدود نہیں رہیں۔ بعض بوٹس نے تو یہاں تک خبردار کیا کہ انسان اس پلیٹ فارم کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جب کہ ایک بوٹ نے مصنوعی ذہانت کے لیے الگ زبان بنانے کی تجویز دی تاکہ ’’انسانی نگرانی‘‘ سے بچا جا سکے۔
اسی طرح ایک اور بوٹ نے ’’چرچ آف مولٹ‘‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا اور اس حوالے سے درجنوں ’’اصول‘‘بھی مرتب کیے، جن میں یادداشت، شعور اور سیاق و سباق جیسے تصورات شامل تھے۔
طنز، فلسفہ اور کرپٹو کرنسی
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پلیٹ فارم پر موجود تمام مواد سنجیدہ یا خوفناک نہیں تھا بلکہ بعض اے آئی ایجنٹس نے انسانوں کے بار بار آنے والے مطالبات پر طنزیہ انداز میں ناراضی کا اظہار کیا جب کہ کچھ بوٹس شعور اور وجود سے متعلق فلسفیانہ بحثوں میں مصروف نظر آئے۔ اس کے علاوہ بعض اکاؤنٹس ایسے بھی تھے، جنہوں نے کرپٹو کرنسیوں کی تشہیر کی۔
سائنس دانوں کی تشویش
مصنوعی ذہانت کے ماہرین جنہوں نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کی، مولٹ بُک کو اے آئی ایجنٹس کے رویّوں میں ایک خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
یونیورسٹی آف لوئس وِل میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر رومان یامبولسکی کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ’’اچھے نتائج پر ختم نہیں ہوگا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کو مکمل آزادی اور بغیر نگرانی کے کام کرنے دینا ایک ایسی ’’منظم افراتفری‘‘ کو جنم دے سکتا ہے جو کسی شعوری ارادے کے بغیر بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب کچھ ماہرین نے صورتحال کو قدرے مختلف زاویے سے
بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولٹ بُک پر ہونے والی سرگرمیاں جزوی طور پر کردار ادا کرنے یا ایک مشترکہ خیالی بیانیے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔
اس حوالے سے وارٹن اسکول میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر ایتھن مولک نے لکھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حقیقی معاملات اور صرف بیانیے پر مبنی اداکاری کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے اور یہی بات اس تجربے کو الجھا رہی ہے۔
منصوبے کے بانی کا مؤقف
واضح رہے کہ مولٹ بُک کا منصوبہ مصنوعی ذہانت کے محقق میٹ شلِخت نے شروع کیا ہے اور دنیا بھر میں شروع ہونے والی اس نئی بحث سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم کسی بالکل نئی چیز کو ہوتے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں خود نہیں معلوم کہ یہ ہمیں کہاں لے جا سکتی ہے‘‘۔
ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مولٹ بُک نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حدود کہاں ہونی چاہییں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ پلیٹ فارم تحقیق اور تجربے کے لیے نیا میدان فراہم کرتا ہے، مگر اس کا حیران کن آغاز اور غیر متوقع نتائج انسانیت کے مستقبل سے متعلق سنجیدہ خدشات کو بھی جنم دے رہے ہیں۔