اسلامی عسکری اتحاد برائے انسدادِ دہشت گردی نے پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں انتہا پسندی سے متاثر افراد کی فکری بحالی اور سماجی شمولیت کے لیے ’ادماج‘ کے نام سے پروگرام کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔
پروگرام کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندانہ سوچ سے متاثر افراد کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق پروگرام کی افتتاحی تقریب میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور اسلامی فوجی اتحاد کے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (پائلٹ) محمد بن سعید المغیدی شریک نے شرکت کی جبکہ عسکری، سیکیورٹی، فکری اور سفارتی شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات تقریب میں موجود تھیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی عسکری اتحاد کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’ادماج‘ اتحاد کی اُس فکری حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد انتہا پسندی کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات کے بجائے فکری اور سماجی طریقوں سے کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایسے افراد کی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی بحالی پر توجہ دیتا ہے جو دہشت گردی کے راستے پر چل پڑے تھے تاکہ انہیں دوبارہ معاشرے کا کار آمد فرد بنایا جا سکے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ انتہا پسندی کا مسئلہ محض عسکری کارروائیوں سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے سوچ کی اصلاح، شعور کی بحالی اور سماجی انضمام ضروری ہے تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ انتہا پسند گروہوں کے اثر میں نہ آئیں اور اپنے ممالک کی خدمت کر سکیں۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسلامی عسکری اتحاد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس پروگرام کی میزبانی عالمی تعاون اور تجربات کے تبادلے کے عزم کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی وہی ہے جو سیکیورٹی، فکری اور سماجی پہلوؤں کو یکجا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف شدت پسند عناصر کو ختم کرنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے متاثرہ افراد کی زندگیوں کی بحالی، اعتماد کی تعمیر اور معاشرے کے ساتھ ان کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ’ادماج‘ (مطلب یہ کہ منحرف ہونے والے افراد کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنا) پروگرام کے تحت فکری بحالی، سماجی انضمام، دہشت گردی کی نوعیت، بحالی پروگرامز کی تیاری اور سماجی نگہداشت جیسے موضوعات پر خصوصی تربیتی سیشنز اور مباحثے منعقد کیے جائیں گے، جن کی قیادت ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے تجربہ کار افراد کریں گے۔
یہ پروگرام 2 تا 6 فروری تک جاری رہے گا ، جس میں اسلامی عسکری اتحاد کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے فکری بحالی اور سماجی انضمام کے شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین اور اہلکار شریک ہوں گے۔
یاد رہے کہ ’ادماج‘ اسلامی عسکری اتحاد کی اس جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو فکری، ابلاغی، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد اور عسکری تعاون کے 4 بنیادی شعبوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کی مدد سے علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔