اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

کیا مصنوعی ذہانت ہماری سیکھنے کی صلاحیت کمزور کرتی ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار سیکھنے کی صلاحیت کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی دماغ کی کارکردگی کے لیے بھی بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے دنیا بھر میں تیز رفتار استعمال کو تقریباً تین سال ہو چکے ہیں جب کہ اس دوران ایک نیا اور سنجیدہ مسئلہ ماہرینِ علم و نفسیات کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جسے اصطلاحاً ’’ادراکی قرض‘‘ یا پھر ’’ذہنی بوجھ‘‘ (Cognitive Debt) کا نام دیا گیا ہے۔

محققین خبردار کر رہے ہیں کہ تحریر، سوچ اور تجزیے جیسے ذہنی کاموں میں ChatGPT اور دیگر جنریٹو اے آئی ٹولز پر حد سے زیادہ انحصار انسانی دماغ کے کام کرنے کے انداز کو بدل سکتا ہے اور سیکھنے، یاد رکھنے سمیت انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کمزور بنا سکتا ہے۔

تحقیق کے تشویش ناک نتائج

2025ء میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کی ایک تحقیق سے اس خدشے کو مزید تقویت ملی ہے۔ اس مطالعے میں محققین نے الیکٹرو اینسیفلوگرام (EEG) کے ذریعے اُن افراد کی دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جو تحریری کاموں میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتے تھے۔

ماہرین کو یہ جان کر تشویش ہوئی کہ تحقیق کے نتائج میں حیران کن طور پر اے آئی پر زیادہ انحصار کرنے والے افراد میں دماغی نیورل کنیکٹیوٹی کی سطح دیگر افراد کے مقابلے میں سب سے کم پائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں

MIT کے ماہرین کے مطابق بڑے لینگویج ماڈلز استعمال کرنے والے شرکا کی کارکردگی 4 ماہ کے مشاہدے کے دوران مسلسل اعصابی اور لسانی سطح پر کمزور رہی۔

 اس کا مطلب ہے کہ اس تحقیق کے نتائج اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ مشین یعنی مصنوعی ذہانت پر طویل انحصار کے اثرات وقتی نہیں بلکہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

ذہن کے استعمال پر اے آئی کو ترجیح دینے کا نقصان

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جب انسان ذہنی محنت سے بچنے لگتا ہے تو دماغ کے اندر موجود روابط کمزور ہونے لگتے ہیں۔ ادراکی نفسیات کے علوم کے ماہر پروفیسر برائن ڈبلیو اسٹون کے مطابق انسان کی اپنی ذہنی جدوجہد اور محنت سیکھنے، یادداشت مضبوط بنانے اور دماغی روابط کو فعال رکھنے کے بنیادی عناصر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ذہن کے استعمال پر اے آئی کو ترجیح دینے کے نقصانات بالکل واضح ہو چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کا رجحان تعلیمی حلقوں میں بھی واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک پی ایچ ڈی محقق نے ویب سائٹ SlashGear کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اس کے ذہنی کام کا بوجھ تقریباً 60 فیصد کم ہو گیا، جس کے بعد اس نے اپنی تخلیقی دلچسپی اور جوش میں نمایاں کمی محسوس کی۔

ai vs brain 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

توجہ کی تقسیم اور تعلیمی خطرات

اگرچہ مصنوعی ذہانت پیچیدہ تصورات کو آسان انداز میں سمجھانے میں معاون ثابت ہوئی ہے، تاہم یونیورسٹی آف لانکاسٹر کی ایک تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اس کا زیادہ استعمال طلبہ کو اصل تعلیمی مواد سے دُور کررہا ہے اور تعلیم کے حصول یا علم پھیلانے میں ان کی عملی شمولیت کو کم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب طالب علم براہِ راست سوچنے اور سوال کرنے کے بجائے تیار شدہ جوابات پر انحصار کرنے لگیں تو سیکھنے کا عمل اور شوق بتدریج خاتمے کی طرف جائے گا۔

اے آئی بمقاملہ انسانی رہنمائی

تعلیم اور نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ماہر انسان کی جانب سے ذاتی رہنمائی اور فیڈبیک ایک ایسی علمی برتری ہے جس کی نقل مصنوعی ذہانت فی الحال نہیں کر سکتی۔ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار مستقبل میں انسانی دماغ کی ادراکی اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کو سہولت کے بجائے متبادل سمجھ لیا گیا تو یہ ’’ادراکی قرض‘‘ یا ’’ذہنی بوجھ‘‘وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جائے گا، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو کمزور سیکھنے کی صلاحیت، محدود تخلیق اور کمزور یادداشت کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

ai vs brain 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)