ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مرد دِل کی بیماریوں کا 10 سال پہلے شکار ہو جاتے ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنسی جریدے میں شائع نتائج کے مطابق ایک طویل المدتی امریکی طبی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ مردوں میں دِل اور خون کی نالیوں سے متعلق بیماریاں خواتین کے مقابلے میں کئی برس پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ فرق ابھی پیدا نہیں ہوا بلکہ دہائیوں سے جاری رجحان کا تسلسل ہے، جو آج بھی واضح طور پر نمایاں ہے۔
تحقیق کا پس منظر
طبی ویب سائٹ نیوز میڈیکل کی رپورٹ کے مطابق اس مطالعے میں خاص طور پر کورونری آرٹری ڈیزیز (دل کی شریانوں کی بیماری) اور دیگر قلبی امراض پر توجہ دی گئی ہے۔
تحقیق کی بنیاد ’’کورونری آرٹری رسک ڈیولپمنٹ ان ینگ ایڈلٹس‘‘ نامی طویل المدتی منصوبے پر رکھی گئی، جس میں ایسے امریکی افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں تحقیق کے آغاز پر 18 سے 30 سال کے درمیان تھیں۔ اس تحقیق کا آغاز 1985ء اور 1986ء میں ہوا اور فالو اپ اگست 2020ء تک جاری رہا، جس سے نوجوانی سے درمیانی عمر تک دل کی صحت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
5 ہزار سے زائد افراد کی 34 سال تک نگرانی
مطالعے میں مجموعی طور پر 5112 افراد شامل تھے، جن میں 54.5 فی صد خواتین جب کہ 51.6 فی صد افریقی نژاد امریکی تھے۔ تحقیق کے آغاز پر شرکا کی اوسط عمر 24.8 سال تھی جب کہ فالو اپ کی اوسط مدت 34.1 سال رہی۔
تحقیق کے دوران سامنے آیا کہ مردوں میں دِل اور شریانوں کی بیماریوں کی مجموعی شرح خواتین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ خاص طور پر کورونری آرٹری ڈیزیز اور دل کی کمزوری (ہارٹ فیلیئر) کے کیسز مردوں میں زیادہ ریکارڈ ہوئے۔
دلچسپ بات ہے کہ اسی دورانیے میں فالج (یعنی اسٹروک) کے حوالے سے مردوں اور خواتین کے درمیان کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔
حیران کن اعداد و شمار
نتائج کے مطابق مردوں میں دِل اور شریانوں کی بیماریوں کی 5 فیصد مجموعی شرح خواتین کے مقابلے میں تقریباً 7 سال پہلے ظاہر ہوئی۔ یعنی مردوں میں یہ شرح اوسطاً 50.5 سال کی عمر میں دیکھی گئی جب کہ خواتین میں یہی سطح 57.5 سال کی عمر میں سامنے آئی۔
اسی طرح کورونری آرٹری ڈیزیز کی 2 فیصد شرح مردوں میں خواتین کے مقابلے میں 10 سال سے بھی زیادہ پہلے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب فالج کی 2 فیصد اور دِل کی کمزوری کی ایک فیصد شرح کے معاملے میں دونوں جنسوں (مردوں اور عورتوں) کے درمیان عمر کے لحاظ سے کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔
یہ فرق کب شروع ہوتا ہے؟
محققین کے مطابق مردوں اور خواتین کے درمیان دِل کی بیماریوں کا یہ فرق چوتھی دہائی یعنی 30 سال کی عمر کے بعد نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور روایتی قلبی صحت کے عوامل کو مدِنظر رکھنے کے باوجود برقرار رہتا ہے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ الیکسا فریڈمین، جو نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے فائن برگ اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ دِل کی بیماریوں کا خواتین اور مردوں میں فرق 35 سال کی عمر تک واضح ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی یعنی جواں عمری ہی میں خطرات کا جائزہ اور حفاظتی حکمتِ عملی اپنانا مردوں اور خواتین دونوں کے لیے دِل کی صحت کو طویل مدتی طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔
ہارمونز اور حیاتیاتی عوامل
تحقیق کے نتائج میں پتا چلا ہے کہ مردوں اور خواتین میں دل کے امراض سے متعلق اس فرق کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ یہ حیاتیاتی، ہارمونل اور طرزِ زندگی کے عوامل کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہے۔
خواتین میں ایسٹروجن ہارمون( خاص طور پر ماہواری بند ہونے سے پہلے) دِل کی شریانوں کے لیے ایک حد تک حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون شریانوں کی لچک بہتر بنانے، چکنائی کی سطح کو منظم رکھنے اور سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دوسری طرف مرد اس قدرتی حفاظتی اثر سے محروم ہوتے ہیں، جس کے باعث ان میں شریانوں کی سختی کم عمری میں شروع ہو جاتی ہے۔ خواتین میں سنِ یاس (حیض کے بند ہو جانے) کے بعد ایسٹروجن کی سطح کم ہونے سے یہ فرق بھی بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق مردوں میں عموماً پیٹ کے اندرونی حصے کی چربی زیادہ جمع ہوتی ہے، جو بلند فشارِ خون اور کولیسٹرول کی خرابیوں سے جُڑی ہے۔ اس کے مقابلے میں تولیدی عمر کی خواتین میں زیادہ تر جلد کے نیچے والی چربی پائی جاتی ہے، جو نسبتاً کم خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
طرزِ زندگی اور ذہنی دباؤ
ماہرین کے مطابق مردوں میں سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور پُرخطر عادات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ طبی معائنے میں تاخیر اور بروقت علاج نہ کروانا بھی دِل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
علاوہ ازیں ذہنی دباؤ، معاشی ذمے داریاں اور بعض اوقات سخت یا دباؤ (سٹریس) والی ملازمتیں بھی کم عمری میں دِل کے امراض کا باعث بن سکتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مردوں اور خواتین میں دِل کی بیماریوں سے متعلق جینیاتی اور جسمانی ردعمل مختلف ہو سکتا ہے، جس میں سوزش اور شریانوں کی اندرونی تہ کا کردار شامل ہے۔