قاری عبد الباسط
جدہ
اسلامی مہینوں میں رمضان المبارک مقدس و متبر ک مہینہ ہے۔
اسی طرح 4 دوسرے مہینے بھی معظم ہیں اور حرمت والے ہیں جن کا ذکر سورہ التوبہ آیت 36 میں ہے۔
وہ حرمت والے مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں۔
شعبان کا مہینہ بھی ایسے ہی مبارک و معظم مہینوں میں سے ایک ہے جن کی فضیلت و عظمت احادیث میں بیان ہوئی ہے۔
یہ مہینہ چونکہ رمضان سے پہلے آتا ہے اور رمضان کا مہینہ اسکے بالکل ساتھ متصل ہے لہذا رمضان المبارک کی تیاری کے لئے بھی یہ مہینہ گویا کہ ایک خیر مقدمی دروازہ ہے۔
امام طبرانیؒ نے معجم اوسط میں سیدنا انسؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریمﷺ رجب کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرماتے:
اے اللہ! ہمیں رجب و شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔ (المعجم الاوسط)
صحابہ کرامؓ اور تابعین و سلف صالحین کا حال یہ تھا کہ وہ سال بھر رمضان المبارک کا ذکر کرتے اور اسی فکر میں لگے رہتے تھے۔
اسی بارے میں ایک تابعی معلی بن الفضلؒ فرماتے ہیں:
صحابہ کرام و تابعینِ عظام رمضان کے آنے سے 6 ماہ پہلے ہی سے یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو رمضان تک پہنچائے پھر جب رمضان المبارک کا مہینہ گزر جاتا تو اگلے 6 مہینے یہ دعا کرتے تھے کہ جو کچھ اس مبارک مہینے میں انجام دیا ہے، اے اللہ ان نیکیوں کو قبول فرما۔
رمضان کی آمد سے 6 ما ہ قبل ہی اسکا ذکر و فکر اور استقبال ہو رہا ہے اور پھر اسکی رخصتی کے بعد اپنی نیکیوں کی قبولیت کیلئے بقیہ 6 ماہ دعاؤں میں گزاردئیے جاتے ہیں۔
شعبان کا مہینہ کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے کا مہینہ ہے اور اسی طرح کثرتِ صوم کا مہینہ ہے کہ اس مبارک مہینے میں کثرت سے روزے رکھے جائیں، صدقہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائی جائیں۔
اس مبارک مہینے کو شعبان المعظم کہا جاتا ہے۔
شعبان کہنے کی وجہ سیدنا انس ؓسے مروی ہے، فرماتے ہیں:
شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس مہینے میں روزہ دار کے لئے خیر و برکت کو خوب پھیلا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ( فیض القدیر شرح الجامع الصغیر)
شعبان کے ساتھ ’معظم‘ لگایا جاتا ہے۔
اس کی وجہ غالباً یہ حدیث ہے جس میں نبی کریمﷺ نے شعبان میں نفلی روزے کے افضل ہونے کی وجہ رمضان کی تعظیم بتلائی ہے۔
سیدنا انسؓ سے مروی ہے:
نبی کریمﷺسے پوچھاگیا :
رمضان کے بعد کونسا روزہ رکھنا افضل ہے؟
آپﷺ نے فرمایا:
شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنا، رمضان کی تعظیم کی وجہ سے۔ (ترمذی)
مبارک مہینوں میں ماہِ شعبان بھی اہم ترین مہینہ ہے۔
یہ چونکہ رمضان المبارک سے پہلے ہے اور اس سے متصل رمضان المبارک کا مہینہ ہے، لہذا گویا کہ شعبان کا مہینہ رمضان المبارک کے مہینے کی تیاری والا مہینہ ہے۔
رسول کریمﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔
سیدنا اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے کہا:
اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے دیکھا ہے کہ آپﷺ تمام مہینوں کے مقابلے میں شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھتے ہیں؟
جواب میںآپﷺنے ارشاد فرمایا:
یہ وہ مہینہ ہے جس (کی فضلیت و اہمیت اور حقیقت ) سے لوگ غافل ہیں، یہ رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی با رگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ (اس مہینے میں) جب میرا عمل پیش کیا جائے تومیں روزہ سے ہوں۔ (نسائی)
سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:
رسول کریمﷺ کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل شعبان میں روزے رکھنا تھا۔ (مجمع الزوائد، مسند امام احمد)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
میں نے رسول کریمﷺ کو شعبان میں دوسرے تمام مہینوں سے زیادہ روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (بخاری، مسلم)
بلکہ ام المؤمنین ام سلمہؓ فرماتی ہیں:
سرکار دو عالمﷺ نے کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزہ نہیں رکھا لیکن شعبان اور رمضان، ان دونوں مہینوں کو ملاتے تھے، یعنی ان دونوں مہینے روزہ سے رہتے تھے۔ (ترمذی)
ماہِ شعبان میں نبی کریمﷺکے کثرت سے نفلی روزے رکھنے کے کئی سبب اور کئی حکمتیں ہیں جن کی طرف حدیثوں میں اشارہ ملتا ہے۔
مثلاً اس مہینے میں بارگاہ الٰہی میں بندوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، اس مہینے میں پندرہویں رات کی بڑی فضیلت ہے، اسی طرح رمضان کا احترام اور تعظیم، روزہ رکھ کر رمضان کا استقبال، یہ سب اس مہینے میں روزہ رکھنے کے اسباب ہیں۔
رمضان کے استقبال میں روزہ رکھنے کی وہی حیثیت ہوگی جو فرض نمازوں سے پہلے پڑھی جانے والی نوافل اورسنتوں کی ہوتی ہے لیکن واضح رہے کہ یہ فضیلت شعبان کے نصف اول تک ہے کیونکہ 15 شعبان کے بعد بعض روایتوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے اور بعض روایتوں میں شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
جب شعبان کا آدھا مہینہ باقی رہ جائے تو تم روزہ نہ رکھو۔ (ترمذی)
اس قسم کی اور بہت سی احادیث ہیں جن میں ممانعت ہے، اس لئے فقہاء نے فرمایا ہے کہ 15 شعبان کے بعد عام نفلی روزے رکھنا ممنوع اورمکروہ ہے۔
قضاء اور واجب روزے رکھے جا سکتے ہیں۔
عام نفلی روزے رکھنا اس وجہ سے مکروہ ہیں تاکہ رمضان کے روزے رکھنے میں ضعف اور کمزوری محسوس نہ ہو۔
اگر کسی کو نفلی روزے رکھنے سے اس طرح کی کمزوری نہیں ہوتی تواس کے لئے کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح اگر کسی کا پیر، جمعرات وغیرہ کو روزہ رکھنے کا معمول ہے تو اس کے لئے بھی کوئی حرج نہیں، چاہے وہ ایام 29 اور 30 ہی کے کیوں نہ ہو۔
اس مبارک مہینہ (شعبان) میں 15 ویں شب ایک مبارک شب ہے۔
اس کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔
بعض سند کے اعتبار سے کمزور ہیں لیکن کثرتِ طرق کی وجہ سے وہ قوی ہوجاتی ہیں، لہذا اس رات کی فضیلت مسلم ہے۔
علامہ انورشاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:
یہ مبارک رات شبِ برأت ہے اور اس رات کی فضیلت میں روایات صحیح ہیں۔ (العرف الشذی)
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ شب برأت سے متعلق روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے تمام طرق کے ساتھ صحیح ہے اوراس کی صحت میں کوئی شک نہیں۔
شیخ قاسمیؒ نے اصلاح المساجد میں جو یہ نقل کیا ہے کہ شعبان کی 15 ویں رات کی فضیلت کے حوالے سے کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہوئی، ان کی یہ بات محل نظر ہے۔
اسی طرح کی بات محدث عبد الرحمن مبارکپوریؒ نے بھی لکھی ہے، فرماتے ہیں:
معلوم ہونا چاہئے کہ شعبان کی 15 ویں رات کی فضیلت کے سلسلے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔
احادیث کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فضیلت کی اصل اور بنیاد موجود ہے، لہذا جن کا یہ خیال ہے کہ پندرہویں شب کی فضیلت بے اصل ہے، یہ احادیث ان کے خلاف حجت ہیں۔(تحفۃ الاحوذی، کتاب الصوم)
الغرض اس رات کی فضیلت ثابت ہے۔
انفرادی طور پر عبادت، دعا اور نوافل وغیرہ کا اہتمام کرناچاہئے۔
بعض لوگ بڑے اہتمام سے اجتماعیت کے ساتھ بہت سے امور انجام دیتے ہیں، شریعت کی نظر میں یہ اہتمام اوریہ اجتماع مذموم ہے اور بدعت کی اقسام میں سے ہے۔
اس رات کی فضیلت اگر حاصل کرنی ہے تو انفرادیت کے ساتھ اعمال انجام دئیے جائیں۔