محمد منیر قمر
الخبر
15 شعبان کے دن کا بڑے اہتمام کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے اور رات کو قیام کیا جاتا ہے۔
اس رات کو ’شبِ برأت‘ یا ’شبِ قدر‘ کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ احادیث میں اور فقہا و محدثین کی تصریحات میں اس رات کے بارے میں شبِ برأت یا شبِ قدر کے الفاظ کا کہیں ذکر نہیں اور نہ ہی آج تک عربوں میں ایسے ناموں سے یہ معروف ہے۔
یہ نام صرف برصغیر تک ہی ہیں اور جن بعض روایات میں اس رات کا ذکر آیا ہے، وہ بھی نصف شعبان کی رات کے حوالے سے آیا ہے۔
ویسے بھی شبِ قدر یا شبِ برأت سے مراد دراصل وہ لیلۃ القدر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل کر کے اِس اُمت کے لئے نظامِ زندگی مہیا کیا اور جادہ حق کی طرف رہنمائی فرمائی تھی لہٰذا یہ تعین کرنا ہوگا کہ نزولِ قرآن کی رات کون سی اور کب ہے؟
مزید پڑھیں
اُس رات کی صراحت خود قرآنِ کریم میں موجود ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو راہ بتلاتا ہے لوگوں کو اور اس میں کھلی دلیلیں ہیں ہدایت کی اور حق کو ناحق سے پہچاننے کی۔ (البقرہ 185)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نزولِ قرآن کے مہینے کی تعین فرمادی ہے جو کہ
رمضان المبارک ہے۔ پھر یہ کس رات میں نازل کیا گیا؟ اس کا ذکر سورہ القدر میں موجود ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا۔
پھر یہ شبِ قدر صحیح احادیث کی رو سے ماہِ رمضان المبارک کی آخری 10 راتوں اور پھر اُن میں سے بھی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔
نزولِ قرآن کی اس رات کو سورۃ الدخان میں شبِ مبارک کہا گیا ہے جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
حٰمٓ، قسم ہے اِس کتابِ مبین کی، ہم نے اِسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے اور ہم لوگوں کو (اپنے عذاب سے) متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اسی رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم لے کر۔ ( آیت 1 تا 5)
یعنی سال بھر میں جو بڑے بڑے کام سر انجام پانے ہوتے ہیں، اُن کا آخری فیصلہ اللہ کے حکم سے کردیا جاتا ہے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ پیدائش و اموات، خوشی و غمی اور رزق و فقر کے جو بھی فیصلے ہوتے ہیں، وہ اُسی مبارک شب میں ہوتے ہیں جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔
وہ شبِ مبارک، شبِ قدر، رمضان میں ہے نہ کہ ماہِ شعبان میں۔
یہ نام اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات کو دیا ہے۔
سورۃ الدخان کی مذکورہ آیت میں جو ’لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں، ان سے بعض لوگوں نے 15 شعبان کی رات مراد لی ہے لہٰذا بہتر معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الدخان کی مذکورہ آیت کی تفسیر قدرے تفصیل سے ذکر کر دی جائے۔
’معالم التنزیل المعروف تفسیر خازن‘ میں ہے:
حضرت قتادہ اور ابنِ زید نے کہا ہے کہ لیلۃ المبارکہ سے وہ لیلۃ القدر مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل کیا۔
اور آگے لکھا ہے:
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔
اور یہاں یہ بات یاد رہے کہ اہلِ علم کے نزدیک جو بات صحیح تر ہو اسے پہلے معروف کے صیغے سے ذکر کردیاجاتا ہے اور جو غیر معتبر اقوال ہوں انہیں مجہول کے صیغہ میں لایا جاتا ہے لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ امام خازن کے نزدیک حضرت ابو قتادہ اور ابن زید کی تفسیر ہی زیادہ معتبر اور صحیح تر ہے اور ان کے نزدیک یہاں لیلۃ المبارکہ سے رمضان المبارک والی لیلۃ القدر ہی مراد ہے نہ کہ نصف شعبان والی رات اور یہ دوسرا قول ضعیف و مرجوح ہے۔
تفسیر جامع البیان میں جمہور اہلِ علم کا مسلک یہی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد رمضان المبارک والی لیلۃ القدر ہے البتہ مرجوح قول ذکر کرنے کے لئے یہ بھی لکھا ہے:
بعض کے نزدیک اس سے نصف شعبان کی رات مراد ہے۔
دوسری مختصر و جامع تفسیر جلالین میں ’تفسیر المدارک‘ کے حوالے سے لکھا ہے:
اس سے مراد رمضان المبارک والی لیلۃ القدر ہے، یا پھر نصف شعبان والی رات۔
اور آگے اس لیلۃ المبارکہ کے بارے میں لکھا ہے کہ اس مبارک رات میں قرآنِ کریم ساتویں آسمان (لوحِ محفوظ)سے آسمانِ دنیا پر نازل ہوا اور پھر شعبان و رمضان کی دونوں راتوں کے بارے میں لکھا ہے:
جمہور اہلِ علم کے نزدیک اس مبارک رات سے پہلی (یعنی رمضان المبارک والی لیلۃ القدر) ہی مراد ہے۔
اِن تفسیری حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سورۃ الدخان کی آیت 3 میں مذکور رات رمضان المبارک والی لیلۃ القدر ہے، نہ کہ 15 شعبان والی رات۔
تفسیری کتب کی طرح ہی شروحِ حدیث میں بھی یہی بات کہی گئی ہے ،مثلاً:
معروف حنفی محدث ملا علی قاریؒ ’مرقاۃ شرح مشکوٰۃ‘ میں لکھتے ہیں:
بعض اسلاف کا خیال ہے کہ لیلۃ المبارکہ سے مراد نصف شعبان کی رات ہے لیکن یہ قول نصوصِ قرآن کے مخالف ہے کیونکہ قرآن کا نزول رمضان میں لیلۃ القدر میں ہوا ہے لہٰذا ’اللیلۃ المبارکہ‘ سے لیلۃ القدر ہی مراد ہے۔ اس طرح آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
علامہ عبد الرحمن مبارکپوری ’تحفۃ الاحوذی شرح جامع ترمذی‘ میں رقمطراز ہیں:
بے شک آیت: اِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِيْ لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃ میں لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ سے مراد جمہور کے نزدیک لیلۃ القدر ہے، بعض اُسے نصف شعبان کی رات سمجھتے ہیں مگر یہ قول مجروح و ضعیف ہے۔
سابقہ تفصیلات کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ 15 شعبان کی رات کے یہ مروّجہ نام، شبِ قدر یا شبِ برأت، کتبِ تفسیر و حدیث میں نہیں پائے جاتے اور اس رات کا جو ذکر آیا ہے، وہ صرف نصفِ شعبان کی رات کے حوالہ سے ہے۔
جہاں تک اس رات کو منانے کا تعلق ہے تو ہمارے یہاں ا س کے 5 مختلف انداز اور طریقے مروّج ہیں:
اُس شام کو اچھے اور عمدہ کھانے یا حلوے مانڈے تیار کئے جاتے ہیں اور انہیں خود تیار کرنے والے ہی مل بیٹھ کر مزے لے لیکر کھا جاتے ہیں۔ (مساکین کو شامل نہیں کرتے)
آتش بازی اور چراغاں کیا جاتا ہے، خوب گولہ بارود چلایا اور فضول خرچی کی جاتی ہے۔
بعض لوگ اس رات کے استقبال کے لئے گھروں کو صاف کرتے اور خوب سجاتے ہیں اور یہ سب اس عقیدہ کے پیشِ نظر کیا جاتا ہے کہ اس رات فوت شدگان کی روحیں واپس آتی ہیں۔
بعض جگہوں پر لوگ اس رات خصوصی اہتمام کے ساتھ اور بعض اوقات اجتماعی شکل میں قبرستان کی زیارت اور دعا کے لئے جاتے ہیں۔
اس دن کا روزہ رکھا جا تا ہے اوراس رات کو ذکر و عبادت کی جاتی ہے۔
جہاں تک اس پہلے طریقہ یعنی اچھے اور عمدہ کھانے اور حلوے مانڈے تیار کرنے اور کھانے کا تعلق ہے تو یہ اسلامی تہوار وں کی علامت سمجھے جاتے ہیں جبکہ نصف شعبان کی رات کو سرے سے اسلامی تہوار کہا ہی نہیں جاسکتا اور اسے عیدین یا حج کی شکل دینا غلط ہے۔
اگر کوئی کہے کہ ہم تہوار سمجھ کر ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اچھے کھانے پکانا کسی بھی دن جائز نہ ہو؟
اِس سلسلہ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بلا شبہ اسراف و تبذیر یعنی فضول خرچی کے ضمن میں نہ آنے والے کھانے تیار کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ ہر روز یا اکثر ایام میں معمول ہو۔
اگر یہ صرف 15 شعبان کی شام کے ساتھ خاص کر دیا جائے تو معاملہ یقینا مشکوک سا ہوجاتا ہے اور مشکوک سے احتراز ہی مؤمن کی شان ہے۔
معروف حنفی عالم علامہ عبد الحیٔ لکھنوی کا اس رات کے حلوے کے بارے میں فتویٰ ہے کہ اسکے متعلق کوئی نص نفی یا اثبات میں وارد نہیں لہٰذا حکم ِشرعی یہ ہے کہ اگر پابندیٔ رسم ضروری سمجھے گا تو کراہت لازم ہوگی، ورنہ کوئی حرج نہیں۔
ایسے ہی شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ نے ’اقتضاء الصراط المستقیم‘ میں فرمایا ہے:
اور اسی 15 شعبان کی رات کو تہوار منانا، کھانے پکانا اور زیب و زینت کا اظہار کرنا بھی ہے اور یہ سب بدعات کے قبیل سے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔
شب ِبرأ ت کے منانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس رات بڑے زور و شور سے آتش بازی کی جاتی ہے، گولہ بارود چلایا جاتاہے، پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں، موم بتیاں اور شمعیں جلا کر چراغاں کیا جاتا ہے۔
آتش بازی کے ساتھ کسی دن تہوار منانے کا اسلام میں سرے سے کوئی تصور ہی نہیں بلکہ شرعاً یہ افعال قبیح و مذموم ہیں کیونکہ ضرورت سے زیادہ کسی جگہ بھی روشنی کرنا اور لا تعداد شمعیں جلانا جائز نہیں کیونکہ یہ کھلا اِسراف و تبذیر اور صریح فضول خرچی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ممنوع قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں یہ آتشبازی و چراغاں دینِ حق کے ساتھ ایک صریح اور بھونڈا مذاق ہے اور دشمنان ِدین کی سازشی کارروائیوں کو عملی جامہ پہنا کر اُن سے تعاون اور اپنے آپ کو فریب دینے کے مترادف ہے۔
اپنے دین کو لہو و لعب یا کھیل تماشا بنادینا عذابِ الٰہی کو آواز دینے والی بات ہے۔