نرمل پرجا سمیت
متعدد کوہ پیما
تا وقتِ تحریر
لاپتہ ہیں
نیپال کے ایک عام گھرانے میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا نے نوجوانی میں برطانوی گورکھا رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی، پھر برطانیہ کی اسپیشل بوٹ سروس SBS تک پہنچے، جو دنیا کی مشکل ترین خصوصی فوجی یونٹوں میں شمار ہوتی ہے۔
فوجی زندگی نے انہیں نظم، برداشت اور دباؤ میں فیصلے کرنے کی صلاحیت دی، مگر ان کی اصل شناخت پہاڑوں نے بنائی۔
2019 میں انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جسے کوہ پیمائی کی دنیا برسوں تک ناممکن سمجھتی رہی۔
انہوں نے دنیا کی تمام چودہ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو صرف چھ ماہ اور 6 دن میں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
بعد ازاں ان کے اسی غیرمعمولی سفر پر بننے والی دستاویزی فلم 14 Peaks: Nothing Is Impossible نے انہیں دنیا بھر میں عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کی علامت بنا دیا۔
لیکن ریکارڈ قائم کرنے والوں کی ایک خاص عادت ہوتی ہے۔
وہ اپنی کامیابی پر نہیں رکتے۔
وہ اگلے خواب کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔
2026 کے موسمِ گرما میں جب نرمل پرجا دوبارہ پاکستان پہنچے تو ان کے سامنے بھی ایک نیا خواب تھا۔
اگر یہ مہم کامیاب ہو جاتی تو نرمل پرجا دنیا کی 8 ہزار میٹر سے بلند تمام 14 بلند ترین چوٹیوں کو دوسری مرتبہ بھی اور بغیر اضافی آکسیجن کے، سر کرنے کے اپنے تاریخی خواب کے مزید قریب پہنچ جاتے۔
یہ صرف ایک ذاتی ریکارڈ نہیں تھا۔
یہ انسانی برداشت، عزم اور صلاحیت کی نئی حد کو چھونے کی کوشش تھی۔
پاکستان نرمل پرجا کے لیے اجنبی ملک نہیں تھا۔
قراقرم ان کا پرانا ساتھی تھا۔
انہوں نے K2 سر کیا تھا۔
گاشر برم اول اور گاشر برم دوم پر کامیاب مہمات مکمل کی تھیں۔
وہ جانتے تھے کہ قراقرم کی خوبصورتی جتنی مسحور کن ہے، اس کی آزمائش اتنی ہی بے رحم بھی ہے۔
یہ پہاڑ کسی کے نام، شہرت یا ریکارڈ کو نہیں دیکھتے۔
یہ صرف تیاری، صبر اور عاجزی کا امتحان لیتے ہیں۔
اسلام آباد سے سکردو، پھر شگر اور آسکولے تک کا سفر مکمل کرنے کے بعد وہ اس دنیا میں داخل ہوئے جہاں سڑک ختم ہو جاتی ہے اور اصل مہم شروع ہوتی ہے۔
یہاں موبائل سگنل خاموش ہو جاتے ہیں۔
یہاں موسم گھڑی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
اور یہاں ہر قدم فطرت کی اجازت سے اٹھتا ہے۔
اسی مقام پر بلتستان کے مقامی پورٹر اور ہائی آلٹیٹیوڈ گائیڈز ان کی ٹیم کا حصہ بنے۔
یہ وہ گمنام لوگ ہیں جن کے بغیر دنیا کا کوئی بھی عظیم کوہ پیما براڈ پیک یا K2 تک نہیں پہنچ سکتا۔
وہ سامان اٹھاتے ہیں۔
وہ برفانی دراڑوں کے درمیان راستہ تلاش کرتے ہیں۔
وہ خطرناک حصوں میں رسیاں نصب کرتے ہیں۔
اور جب حادثہ پیش آتا ہے تو اکثر سب سے پہلے خطرے کی طرف بڑھنے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں۔
نرمل پرجا ہمیشہ ان لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرتے تھے۔
ان کا ماننا تھا کہ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں پر کوئی بھی کامیابی کبھی ایک فرد کی نہیں ہوتی، بلکہ پوری ٹیم کی ہوتی ہے۔
بیس کیمپ میں کئی دن تیاری جاری رہی۔
موسم کی رپورٹیں بار بار دیکھی گئیں۔
سامان دوبارہ چیک کیا گیا۔
بلندی سے جسم کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اوپر جا کر واپس نیچے آنے کا عمل دہرایا گیا۔
تجربہ کار کوہ پیما جانتے ہیں کہ چوٹی پر پہنچنے کی تیاری چوٹی سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔
آخرکار وہ صبح آ گئی جس کا سب انتظار کر رہے تھے۔
ہیڈ لیمپ روشن ہوئے۔
آئس ایکس برف میں گاڑے گئے۔
رسیوں کا آخری جائزہ لیا گیا۔
اور قافلہ خاموشی سے کیمپ ٹو سے اوپر بڑھنے لگا۔
اس لمحے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد براڈ پیک صرف ایک پہاڑ نہیں رہے گا۔
وہ دنیا بھر کی خبروں کا مرکز بننے والا تھا۔
پاکستانی ریسکیو
ٹیمیں اور بلتی
پورٹرز انتہائی
دشوار حالات
میں سرگرم ہیں
بلندی پر وقت کی رفتار بدل جاتی ہے۔
ہر سانس ایک مشقت بن جاتی ہے۔
ہر قدم پہلے سے زیادہ احتیاط مانگتا ہے۔
اور ہر فیصلہ زندگی اور موت کے درمیان حدِ فاصل بن سکتا ہے۔
قافلہ خاموشی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
کوئی غیر ضروری بات نہیں ہو رہی تھی۔
صرف برف پر پڑتے قدموں کی مدھم آواز، کبھی کبھار برفانی کلہاڑی کی ٹھک ٹھک، اور ہوا کی سیٹی نما سرگوشیاں اس خاموش دنیا کو توڑ رہی تھیں۔
نرمل پرجا ان راستوں سے ناواقف نہیں تھے۔
انہوں نے دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں پر برسوں گزارے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ 8 ہزار میٹر سے اوپر انسان اپنی طاقت سے نہیں، اپنے فیصلوں سے زندہ رہتا ہے۔
یہ وہ دنیا ہے جسے کوہ پیما ’ڈیتھ زون‘ کہتے ہیں، جہاں آکسیجن اتنی کم ہوتی ہے کہ جسم آہستہ آہستہ اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔
اسی لیے تجربہ کار کوہ پیما ہمیشہ ایک بات دہراتے ہیں۔
چوٹی تک پہنچنا آدھی کامیابی ہے، اصل کامیابی بحفاظت واپس آنا ہے۔
چند لمحے... اور سب کچھ بدل گیا
صبح آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک براڈ پیک کی ڈھلوان پر حالات نے کروٹ لی۔
چند لمحوں میں برفانی تودہ نیچے آیا۔
سفید برف، برفانی گرد اور برف کے بڑے بڑے تودوں نے راستے کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جو ڈھلوان چند لمحے پہلے واضح دکھائی دے رہی تھی، وہ پلک جھپکتے ہی سفید دھند میں گم ہو گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان پیش آیا، جہاں مختلف بین الاقوامی مہمات کے کوہ پیما موجود تھے۔
بیس کیمپ میں پہلے مختصر پیغامات موصول ہوئے۔
پھر ریڈیو خاموش ہو گئے۔
پہاڑوں میں یہ خاموشی سب سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ صرف آوازوں کی خاموشی نہیں، بلکہ غیر یقینی کی خاموشی ہوتی ہے۔
جب ریسکیو بھی موسم کا محتاج ہو
شہروں میں حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں فوراً روانہ ہو جاتی ہیں۔
مگر قراقرم میں ہر کارروائی سے پہلے موسم فیصلہ کرتا ہے۔
خراب موسم ہو تو ہیلی کاپٹر زمین پر رہتے ہیں۔
برف باری ہو تو زمینی ٹیمیں رک جاتی ہیں۔
اور اگر نئے برفانی تودوں کا خطرہ ہو تو ہر قدم کئی بار سوچ کر اٹھانا پڑتا ہے۔
حادثے کے بعد پاکستانی فوج، الپائن کلب آف پاکستان، مقامی ہائی آلٹیٹیوڈ ریسکیورز اور مختلف بین الاقوامی مہمات کے ارکان نے مشترکہ طور پر تلاش شروع کی، مگر خراب موسم نے اس کارروائی کو بار بار متاثر کیا۔
کئی مواقع پر ریسکیو ٹیمیں تیار تھیں، لیکن بادل، تیز ہوائیں اور محدود حدِ نگاہ نے انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا۔
قراقرم میں کبھی کبھی انسان کی خواہش سے زیادہ طاقتور صرف فطرت ہوتی ہے۔
ایک نام... جس نے پوری دنیا کو چونکا دیا
ابتدا میں صرف یہ اطلاع تھی کہ چند کوہ پیما لاپتہ ہیں۔
پھر جب مختلف ذرائع نے لاپتہ افراد کی شناخت کی تصدیق شروع کی تو ایک نام پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
نرمل ’نمز‘ پرجا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب براڈ پیک صرف کوہ پیمائی کی خبر نہیں رہا۔
یہ عالمی خبر بن گیا۔
نیپال میں بے چینی پھیل گئی۔
برطانیہ میں ان کے سابق فوجی ساتھی مسلسل اطلاعات کا انتظار کرتے رہے۔
پاکستان میں سکردو سے لے کر بیس کیمپ تک ہر نئی خبر امید اور تشویش دونوں لے کر آ رہی تھی۔
دنیا بھر سے دعاؤں اور نیک تمناؤں کے پیغامات آنے لگے۔
مگر پہاڑ انسانی جذبات کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔
وہ صرف اپنے قوانین پر چلتے ہیں۔
تا وقتِ تحریر
جیسے جیسے موسم نے مختصر مواقع فراہم کیے، ریسکیو ٹیمیں حادثے کے مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
ڈرونز کے ذریعے فضائی جائزہ لیا گیا۔
زمینی ٹیموں نے برفانی تودے کے راستے کی تلاشی لی۔
تا وقتِ تحریر حکام متعدد افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں، جبکہ بعض لاپتا کوہ پیماؤں، جن میں نرمل پرجا بھی شامل ہیں، کی تلاش جاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ میں کسی ایسے شخص کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا جس کی سرکاری طور پر تصدیق نہ ہوئی ہو۔
کیونکہ پہاڑوں میں بعض اوقات امید آخری لمحے تک باقی رہتی ہے۔
براڈ پیک آخر اتنا مختلف کیوں ہے؟
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ K2 دنیا کا مشکل ترین پہاڑ ہے، اس لیے براڈ پیک نسبتاً آسان ہوگا۔
یہ تاثر مکمل حقیقت نہیں۔
براڈ پیک کی بعض تکنیکی چڑھائیاں K2 سے کم پیچیدہ ضرور سمجھی جاتی ہیں، مگر اس کی لمبی برفانی ڈھلوانیں، غیر متوقع موسم، برفانی تودوں کا خطرہ اور 8 ہزار میٹر سے اوپر زیادہ دیر تک رہنا اسے دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں میں شامل کرتا ہے۔
یہ پہاڑ انسان کو اپنی طاقت سے نہیں، اس کے صبر سے آزماتا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہترین کوہ پیما بھی اس کا نام احترام سے لیتے ہیں۔
قراقرم نے
ایک بار پھر
انسانی حوصلے
اور فطرت کی
طاقت کا
امتحان لیا
براڈ پیک پر پیش آنے والا حادثہ صرف چند کوہ پیماؤں کی کہانی نہیں۔
یہ اس پوری دنیا کی کہانی ہے جو ہر موسمِ گرما میں قراقرم کا رخ کرتی ہے۔
گلگت بلتستان کے لیے یہ پہاڑ صرف برف اور چٹان کا ایک عظیم سلسلہ نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی سے جڑا ہوا سرمایہ ہے۔
ہر سال جب دنیا بھر سے مہماتی ٹیمیں سکردو پہنچتی ہیں تو ان کے ساتھ صرف کوہ پیما نہیں آتے۔
روزگار بھی آتا ہے۔
بلتی پورٹر اپنے کندھوں پر درجنوں کلو سامان اٹھاتے ہیں۔
ہائی آلٹیٹیوڈ گائیڈ خطرناک راستوں پر رسیاں نصب کرتے ہیں۔
باورچی برفانی کیمپوں میں کھانا تیار کرتے ہیں۔
ڈرائیور، ہوٹل، مقامی دکاندار اور ٹور آپریٹر سب اسی مختصر موسم کے منتظر رہتے ہیں۔
اسی لیے جب کسی چوٹی پر بڑا حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی بازگشت صرف عالمی میڈیا تک محدود نہیں رہتی، بلکہ بلتستان کی وادیوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔
وہ لوگ جن کے نام اکثر خبروں میں نہیں آتے
کسی بھی کامیاب مہم کی تصویر میں عموماً ایک کوہ پیما چوٹی پر قومی پرچم کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
مگر اس تصویر کے پیچھے کئی ایسے چہرے ہوتے ہیں جنہیں دنیا شاید کبھی نہ پہچانے۔
وہ پورٹر جو کئی بار ایک ہی راستہ طے کرتا ہے۔
وہ گائیڈ جو برفانی دراڑوں کے درمیان محفوظ راستہ تلاش کرتا ہے۔
وہ ریسکیو اہلکار جو خراب موسم میں دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔
یہی لوگ قراقرم کی اصل طاقت ہیں۔
اور شاید اسی لیے دنیا کے بڑے بڑے کوہ پیما پاکستان واپس آتے رہتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف عظیم پہاڑ ہی نہیں، عظیم انسان بھی موجود ہیں۔
پاکستان کے لیے ایک اہم سبق
براڈ پیک کا حالیہ حادثہ ایک اور حقیقت بھی سامنے لاتا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پانچ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیاں واقع ہیں۔
یہ قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جسے صرف سیاحتی مقام سمجھنا کافی نہیں۔
محفوظ کوہ پیمائی، جدید ریسکیو نظام، درست موسمی نگرانی، تربیت یافتہ مقامی گائیڈز اور ماحول دوست مہمات مستقبل میں پاکستان کی عالمی ساکھ کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔
یہ صرف سیاحت کا معاملہ نہیں۔
یہ مقامی معیشت، بین الاقوامی اعتماد اور ایک نایاب قدرتی ورثے کے تحفظ کا معاملہ بھی ہے۔
نرمل پرجا... اور ایک ادھورا سوال
نرمل پرجا نے اپنی زندگی میں بارہا ثابت کیا کہ انسان اپنی سمجھی ہوئی حدوں سے کہیں آگے جا سکتا ہے۔
انہوں نے ایک پوری نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
مگر براڈ پیک نے دنیا کو ایک اور سبق یاد دلایا۔
فطرت کے سامنے تجربہ، شہرت اور ریکارڈ بھی انسان کو مکمل تحفظ نہیں دے سکتے۔
اسی لیے کوہ پیمائی کی دنیا میں سب سے بڑی کامیابی چوٹی پر کھڑا ہونا نہیں، بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بحفاظت واپس آنا سمجھی جاتی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ تا وقتِ تحریر اس رپورٹ میں کسی ایسے شخص کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں لکھا گیا جس کی سرکاری طور پر تصدیق نہ ہوئی ہو۔
اختتامیہ
جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، براڈ پیک اب بھی وہیں کھڑا ہے۔
خاموش…
سفید…
اور ویسا ہی پُراسرار، جیسا صدیوں پہلے تھا۔
برف مسلسل گرتی رہے گی۔
موسم بدلتے رہیں گے۔
نئی مہمات آئیں گی۔
نئے خواب جنم لیں گے۔
اور شاید نئے ریکارڈ بھی قائم ہوں گے۔
مگر اس پہاڑ کا ایک سبق کبھی نہیں بدلے گا۔
یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ عظمت صرف بلندی میں نہیں، بلکہ عاجزی میں بھی ہوتی ہے۔
شاید اسی لیے دنیا کے بہترین کوہ پیما بار بار قراقرم لوٹتے ہیں۔
وہ صرف ایک چوٹی سر کرنے نہیں آتے۔
وہ اپنے اندر موجود اس انسان کو تلاش کرنے آتے ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی امید، نظم اور حوصلہ قائم رکھتا ہے۔
براڈ پیک کی برف پر قدموں کے نشان زیادہ دیر باقی نہیں رہتے۔
ہوا انہیں مٹا دیتی ہے۔
مگر بعض سفر ایسے ہوتے ہیں جو برف پر نہیں، تاریخ میں ثبت ہو جاتے ہیں۔
اور یہ انہی سفروں میں سے ایک ہے۔