اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

کیا آپ لوگوں کا نام بھول جاتے ہیں؟ انسانی نفسیات پر دلچسپ  تحقیق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی ایسے شخص سے ملتا ہے جسے وہ اچھی طرح جانتا ہے، اس کا چہرہ بھی فوراً پہچان لیتا ہے مگر نام زبان پر آتے آتے رک جاتا ہے۔ 

ماہرین نفسیات کے مطابق ایسی صورت حال عام ہے اور بعض اوقات یہ کئی لوگوں کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بنتی ہے، تاہم نام بھول جانا کسی بڑی ذہنی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس کے پیچھے انسانی دماغ کے کام کرنے کا ایک واضح سائنسی عمل موجود ہے۔

نفسیات سے متعلق گلوبل انگلش ایڈیٹنگ Global English Editing ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس عام مسئلے کی وجوہ تفصیل سے واضح کی گئی ہیں، جس کے مطابق نام بھولنے کے پیچھے کئی ذہنی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

name forget 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یادداشت میں معلومات کا محفوظ نہ ہونا

ماہرین کہتے ہیں کہ جب انسان کسی سے پہلی بار ملتا ہے تو ایک ہی وقت میں کئی چیزیں ذہن میں چل رہی ہوتی ہیں، جیسے تعارف، مصافحہ، سامنے والے کی شکل و صورت کا اندازہ اور گفتگو۔ اس دوران نام اکثر ذہن میں ٹھیک طرح محفوظ نہیں ہو پاتا۔ اس کیفیت کو ماہرین فیلیئر آف انکوڈنگ کہتے ہیں، یعنی دماغ نام کو طویل مدتی یادداشت میں محفوظ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

اگرچہ یہ مسئلہ عام ہے لیکن اگر بار بار پیش آئے تو ذہنی صحت کا جائزہ لینا مفید ہو سکتا ہے۔

توجہ تقسیم ہونا

بعض اوقات گفتگو کے دوران ہی ذہن کسی اور طرف چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے سامنے والے کا نام یاد نہیں رہتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ ایک وقت میں کئی کام مؤثر انداز میں نہیں کر سکتا، اس لیے زیادہ مصروفیت اور اردگرد کی توجہ ہٹانے والی چیزیں یادداشت کو متاثر کرتی ہیں۔

پیشہ یاد رہ گیا، نام بھول گئے

تحقیق کے مطابق لوگ اکثر کسی شخص کا پیشہ آسانی سے یاد رکھ لیتے ہیں، جیسے بڑھئی، کسان یا نانبائی لیکن نام یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ذہن میں کئی تصویری اور عملی چیزوں سے جڑ جاتا ہے، جیسے نانبائی کا ذکر آئے تو روٹی، تنور اور بیکری کا تصور ابھرتا ہے، جب کہ نام عام طور پر کسی واضح تصویر سے نہیں جڑتے، اس لیے جلدی بھول جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یادداشت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جو معلومات بار بار استعمال ہوں وہ ذہن میں پختہ ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے انسان اپنے قریبی دوستوں، اساتذہ اور خاندان کے افراد کے نام آسانی سے یاد رکھتا ہے، جب کہ حال ہی میں ملنے والے شخص کا نام بھول جاتا ہے۔ کم استعمال ہونے والی معلومات دماغ آہستہ آہستہ نظر انداز کر دیتا ہے۔

یاد رکھنے میں جذبات کا کردار

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جذبات کا بھی یادداشت پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر کسی شخص سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو تو اس کا نام یاد رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ افراد بھی یاد رہ جاتے ہیں جو کسی مضبوط مثبت یا منفی احساس کا باعث بنیں۔ اس کے برعکس ذہنی دباؤ یا گھبراہٹ کے دوران سنے گئے نام اکثر ذہن میں نہیں بیٹھ پاتے۔

name forget 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عمر بڑھنے کے اثرات

نفسیات کے ماہرین کے مطابق عمر کے ساتھ ساتھ تجربہ اور دانائی تو بڑھتی ہے، لیکن یادداشت کو نام یاد رکھنے کے لیے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔ عمر بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان سب کچھ بھول جائے گا بلکہ صرف یہ کہ نام یاد رکھنے میں پہلے سے زیادہ کوشش کرنا پڑتی ہے۔

چہرے اور نام کا فرق

تحقیق کے مطابق انسانی دماغ چہرے پہچاننے میں زیادہ ماہر ہوتا ہے کیونکہ چہرے بصری اشارے (یعنی آنکھوں کے ذریعے ذہن تک نقوش) فراہم کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نام ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی واضح بصری اشارہ نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ عام طور پر نام یاد رکھنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔

نام یاد ہے لیکن زبان پر نہیں آرہا

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی بار ایسی دلچسپ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ کسی کا نام یادداشت میں موجود ہوتا ہے لیکن درست وقت پر ذہن یا زبان میں نہیں آ پاتا۔ اسے فیلیئر آف ریٹریول کہا جاتا ہے، یعنی معلومات محفوظ تو ہوتی ہے مگر مناسب اشارے نہ ملنے یا توجہ بٹنے کی وجہ سے دماغ اسے فوراً واپس نہیں لا پاتا۔

نفسیات کے ماہرین نے تحقیق کے نتائج میں بتایا کہ نام بھول جانا ایک عام انسانی مسئلہ ہے اور زیادہ تر صورتوں میں اس پر کوئی تشویش کی بات نہیں۔ توجہ، جذبات، عادت اور ذہنی مصروفیت جیسے عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مناسب توجہ، نام دہرانے کی عادت اور پرسکون ذہنی کیفیت اس مسئلے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔