سوشل میڈیا کو عموماً ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم ایک نئی امریکی تحقیق نے اس حوالے سے بالکل مختلف اور غیر متوقع پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق ایسے نوجوان جو سوشل میڈیا کے ذریعے جذباتی اور نفسیاتی تعاون حاصل کرتے ہیں، ان میں بے چینی (Anxiety) کی علامات کم ہونے کا امکان زیادہ پایا گیا ہے۔
امریکی یونیورسٹی آف آرکنساس کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 18 سے 30 سال کی عمر کے 2400 سے زائد بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جس کی تفصیلات معروف سائنسی جریدے ’’انٹرنیشنل جرنل آف سائیکائٹری‘‘ میں شائع ہوئیں جب کہ اس پر رپورٹ میڈیکل ایکسپریس ویب سائٹ نے شائع کی ہے۔
سوشل میڈیا اور ذہنی صحت
تازہ مطالعے میں بتایا گیا کہ اگرچہ سوشل میڈیا استعمال کے نتیجے میں اکثر ذہنی دباؤ اور منفی اثرات کی بات کی جاتی ہے، لیکن کچھ افراد کے لیے یہی پلیٹ فارمز ذہنی سہارا اور جذباتی مدد کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ آن لائن سپورٹ اور ذہنی صحت میں بہتری کے درمیان مضبوط اور براہ راست تعلق موجود ہے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والے نفسیاتی تعاون کا فائدہ تمام افراد کو یکساں طور پر نہیں ہوتا۔
وہ نوجوان جن میں درج ذیل خصوصیات پائی گئیں، انہوں نے زیادہ مثبت اثرات رپورٹ کیے:
• کھلا ذہن (Openness)
• میل جول پسند طبیعت (Extraversion)
• دوستانہ رویہ (Agreeableness)
• خود کو کم موردِ الزام ٹھہرانے کی عادت
ان خصوصیات کے حامل افراد نے سوشل میڈیا پر زیادہ جذباتی تعاون محسوس کیا اور اُن میں بے چینی کی سطح نسبتاً کم سامنے آئی۔
خواتین میں اثر زیادہ نمایاں
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خواتین شرکا کو سوشل میڈیا سے نفسیاتی تعاون ملنے کے ساتھ ساتھ بے چینی میں کمی بھی خاطر خواہ رپورٹ ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ملنے والا جذباتی سہارا صنف کے لحاظ سے مختلف اثرات رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے چینی اس وقت دنیا بھر میں معذوری کی دوسری بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث اس طرح کے حل بہت اہم ہو جاتے ہیں جو آسانی سے دستیاب ہوں۔ محققین کے نزدیک سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہونے والا تعاون ممکنہ طور پر ایسا ہی ایک حل ہے۔
ماہرین کی رائے
یونیورسٹی آف آرکنساس کی لیکچرر اور تحقیق کی شریک مصنفہ رینی میرِل کا کہنا ہے کہ انسان اس وقت بہتر محسوس کرتا ہے جب خود کو قابلِ قدر، سپورٹ کا حامل اور گروپ کا حصہ سمجھے۔
انہوں نے بتایا کہ خواہ آمنے سامنے بات چیت ہو یا آن لائن رابطہ، جذباتی شعور، بہتر ابلاغ اور مثبت تعلقات صحت اور فلاح دونوں کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ محققین نے خبردار بھی کیا کہ یہ تحقیق اس بات کو حتمی طور پر ثابت نہیں کرتی کہ آن لائن سپورٹ ہی بے چینی میں کمی کی اصل وجہ ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کم بے چینی رکھنے والے افراد خود کو زیادہ سپورٹ کا حامل محسوس کرتے ہوں، تاہم اب تک کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والا نفسیاتی تعاون ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مختصر نتیجے کے طور پر بتایا گیا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کا استعمال مثبت اور بامقصد انداز میں کیا جائے تو یہ نوجوانوں کے لیے ذہنی دباؤ کم کرنے اور احساسِ وابستگی بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا استعمال متوازن ہو۔