اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

اسلام آرائش کا حکم دیتا ہے، نما ئش کا نہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے:

حیا اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ (مشکوٰۃ)

آئیے دیکھیں، سوچیں! اورغور کریں کہ حجاب کیا ہے، اس کے فوا ئد کیا ہیں اور اس کے ترک کرنے پر کیا نقصانات ہیں؟

حجاب کے لغوی معنی دو چیزوں کے درمیان حائل ہوجانے والی اس آڑ یا اوٹ کا نام ہے جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے او جھل ہو جاتے ہیں۔
حجاب اسلامی شعار اور امت مسلمہ کا تشخص ہے اور اس کا مقصد ستر حاصل کرنا اور فتنے سے بچنا ہے۔

مزید پڑھیں

حجاب محض سر پر ڈھانکے جانے والا کپڑا نہیں بلکہ مسلم و پاکیزہ عورت کی شنا خت اور عصمت کا محافظ ہے۔

حقیقی حُسن بے حیائی و بے حجابی میں نہیں بلکہ حقیقی حسن وہ ہے جو آنکھوں کو حیا اور دل کو ایمان و تقو یٰ سے معمور کر تا ہے۔ 

حجاب کا تعلق نظر، زبان اور لباس سے ہے۔ 

شرم و حیا عورت کا زیور ہے اور پردہ و حیا دونوں باہم مشروط ہیں۔ 

رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

عورت پوشیدہ چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک جھانک میں لگا رہتا ہے۔(ترمذی)

نیز فرمایا:

جب تجھ میں حیا نہیں تو پھر جو تیرا دل چا ہے کر۔ (بخاری)

اسلام آرائش کا حکم دیتا ہے نما ئش کا نہیں جبکہ موجودہ معا شرے میں اظہارِ حسن و جما ل کی خوا ہش نے آج کی عورت کے ذہن پر تسلط جما کر بے حیائی میں مبتلا کر دیا ہے۔ 

کسی بھی معا شرے یا ریاست کی تعمیر میں خاندان ریڑھ کی ہڈی ہے۔ 

مضبوط و مستحکم خاندان قوی معاشرے کی بنیادی اکا ئی ہے۔ 

ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔

حجاب حکم الہٰی ہے اور بدکاری و بد نظری سے بچاتا ہے۔

باحجاب عورت کے لئے معاشی ترقی کی راہیں کھلی ہیں اور حجاب اعلیٰ تعلیم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ 

فی الحقیقت حجاب خاموش دعوتِ دین ہے  اور دل کا پردہ۔

آنکھ میں حیا اور نیت کی پاکیزگی کا عملی اظہار حجاب ہے۔ 

غرضیکہ فرمان رسول اللہﷺ  کے مطابق:

حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے۔

 حیاء  ایمان میں سے ہے اور ایمان کا راستہ جنت ہے۔

بے حیائی کوڑا کرکٹ ہے اور کوڑا کرکٹ آگ میں لے جاتا ہے۔ (ترمذی)

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے