دنیا بھر میں ایک نئی اصطلاح ’برین روٹ‘ (Brain Rot) بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جو دراصل دماغی کمزوری اور ذہنی تھکن کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔
دماغ اور ذہنی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی جسمانی بیماری نہیں بلکہ ایسی حالت ہے جو موبائل فون اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری، مختصر اور بے مقصد مواد دیکھنے کے زیادہ استعمال سے پیدا ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز پر چند سیکنڈ کی ویڈیوز بہت زیادہ دیکھی جا رہی ہیں۔
یہ ویڈیوز تیز رفتار، شوخ آوازوں اور تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں، جو دماغ کو وقتی خوشی کا احساس دیتی ہیں۔
اس عمل سے دماغ ایک خاص کیمیکل ڈوپامین کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے باعث انسان سنجیدہ کاموں جیسے کتاب پڑھنا یا کسی ایک کام پر
دیر تک توجہ دینا مشکل محسوس کرنے لگتا ہے۔
فضول ڈیجیٹل مواد کا نقصان
طبی ماہرین اس طرح کے مواد کو ایسے ہی قرار دیتے ہیں جیسے غیر معیاری خوراک جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ مواد وقتی دلچسپی تو پیدا کرتا ہے مگر دماغ کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
وقت کے ساتھ یہ عادت ذہنی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی طاقت متاثر ہونے لگتی ہے۔
’برین روٹ‘ کا ایک بڑا اور برا نتیجہ توجہ کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔
انسان چند لمحوں سے زیادہ کسی ایک کام پر دھیان نہیں دے پاتا۔
اسی طرح انٹرنیٹ پر چلنے والے عجیب الفاظ اور میمز، جن کا حقیقی زندگی میں کوئی مطلب نہیں ہوتا، زبان اور بات چیت کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایسے سسٹمز (الگورتھم) استعمال کرتے ہیں جو صارف کو زیادہ سے زیادہ وقت ایپ پر گزارنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
ان کا مقصد اچھا یا مفید مواد دکھانا نہیں بلکہ ایسا مواد سامنے لانا ہوتا ہے جو بار بار دیکھنے پر مجبور کرے، چاہے وہ بے فائدہ ہی کیوں نہ ہو۔
برین روٹ کے نقصانات
برین روٹ کی کیفیت کے نتیجے میں درج ذیل مسائل سامنے آتے ہیں:
• کام کے دوران بار بار دھیان بٹ جانا
• یادداشت کمزور ہونا، خاص طور پر نئی باتیں یاد رکھنے میں مشکل
• سوچنے اور نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی
• مسلسل ذہنی تھکن، بے چینی اور لوگوں سے دوری
آکسفورڈ ڈکشنری کا انتخاب بلاوجہ تو نہیں
اہم بات یہ ہے کہ آکسفورڈ ڈکشنری نے 2024ء کے لیے ’Brain Rot‘ کو سال کا لفظ منتخب کیا ہے۔
اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مختصر ویڈیوز پر مسلسل وقت گزارنے سے ذہنی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں اور یہ مسئلہ اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ اس بات کا کیسے پتا چلے گا کہ آپ برین روٹ سے متاثر ہیں یا نہیں؟۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص میں درج ذیل علامات ہوں تو اسے محتاط ہو جانا چاہیے:
• چھوٹے کام بھی مکمل کرنے میں مشکل
• دماغی بوجھ اور مستقل تھکن کا احساس
• یادداشت کی کمزوری اور توجہ کا فقدان
• موبائل فون سے دُور ہونے پر بے چینی
ماہرین اس مسئلے سے بچنے کے لیے چند آسان طریقے بتاتے ہیں:
• ڈیجیٹل وقفہ: موبائل کے استعمال کے لیے وقت مقرر کریں اور غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کریں۔
• توجہ کی مشق: کتاب پڑھنے، لکھنے یا کسی ہنر کو سیکھنے کی عادت ڈالیں۔
• حقیقی میل جول: آن لائن بات چیت کے بجائے دوستوں اور خاندان سے آمنے سامنے ملاقات کریں۔
ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ مختصر اور بے مقصد ویڈیوز کا مسلسل استعمال آہستہ آہستہ ذہنی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
اگر بروقت احتیاط نہ کی گئی تو یہ عادت مستقبل میں ایک بڑے سماجی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔