اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

آئیے کریں وفا والے سجدے، حیا والے سجدے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

محمد رضی محمد رفعت

جدہ

سجدہ اسلام میں عبادت سے تعلق رکھنے والا ایسا عمل ہے جس میں خشوع و خضوع اور تعظیم کی خاطر اللہ کے سامنے اپنی پیشانی جھکائی جاتی ہے۔ 

اعضاء و جوارح کو خم کیا جاتا ہے، اسلامی عبادات میں اسے انتہائی عجز و انکساری کا درجہ حاصل ہے۔ 

جب ہم سجدہ کرتے ہیں تو تمام راستے درست اور تمام دروازے کھل جاتے ہیں اور ہماری دعائیں مقام الوہیت کی طرف بلند ہوتی ہیں اور ہمیں معزز فرشتے گھیر لیتے ہیں بشرطیکہ یہ سجدے خلوص نیت اور صدق دل سے ہوں، دکھاوا اور ریاکاری کا ان میں شائبہ نہ ہو۔

5445456 1

سجدہ انسان کو اللہ سے قریب کرتا ہے اور انسان اللہ کے احکامات کو بجا لانے میں زیادہ مستعد اور پابند ہوجاتا ہے۔
ارشادباری تعالیٰ ہے:
نماز میں اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر اس کا قرب حاصل کرو۔ ( العلق 19)

مزید پڑھیں

حدیث مبارک میں بھی آتا ہے کہ بندہ اللہ کے سب سے قریب سجدہ ہی کی حالت میں ہوتا ہے۔

اللہ سے قریب ترین ہونے کا احساس اس بات کا متقاضی ہے کہ بندہ اللہ کے بتائے ہوئے ہر ہر راستے کو اپنی زندگی میں اپنالے، خواہ اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا پھر حقوق العباد سے۔

ہر مسلمان نماز پڑھتا ہے اگرچہ پنج وقتہ نماز کی پابندی کرنے والوں کی

تعداد اقلیت میں ہے، نیز اس اقلیت کی اکثریت بھی نماز کی پابندی تو ضرور کرتی ہے مگر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے مقصد اور اس میں مضمر الہامی پیغام سے نابلد ہی نظر آتی ہے۔

سجدہ محض نماز کی علامت نہیں بلکہ سجدہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے قوانین کے آگے جھک جانے اور سر تسلیم خم کردینے کانام ہے۔

گویا یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم صرف اور صرف اللہ ہی کے بتائے ہوئے راستے پر ہی چلنے کیلئے تیار ہیں اور اسی پر عمل پیرا بھی رہنا چاہتے ہیں اور آج سے ہمارے تمام تر معاملات اللہ ہی کے بتائے ہوئے طور طریقوں اور اسی کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات کے عین مطابق ہوں گے۔

56445

اللہ کو سجدے کرنے والا شخص ’وفا دار اور حیا بار‘ اسی وقت کہلائے گا جبکہ وہ اس کے تقاضوں کو سمجھ کر اسے پورا کرنے کی صدق دل سے کوشش کرے گا۔

سجدہ، در حقیقت اللہ تعالیٰ سے وفا دار ہونے کی علامت اوراس کا مطیع ہونے کا اقرار ہے اور اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوں تو حقوق اللہ کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں،خشوع و خضوع اور تمام ارکان کی صحیح اور درست انداز میں ادائیگی ہمارے پیش نظر ہو۔

ہمیں اس بات کا گہرا علم و احساس ہونا چاہئے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق ہیں اور اس حقوق کی ادائیگی احسن طریقہ سے کیسے ممکن ہے۔

4564564 2

اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پربہت سے حقوق ہیں جس میں سب سے اہم توحید ہے اوروہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات و صفات اور اس کے اسماء و افعال میں یکتا و اکیلا ماناجائے اور کسی کو اس کا شریک نہ سمجھا جائے۔

نیز یہ اعتقاد رکھا جائے کہ بیشک اللہ وحدہ ہی رب اور مالک اور سارے معاملات میں تصرف کرنے والا اور رزق دینے والا وہی ہے جس کے ہا تھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، جیساکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:

بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الملک 1)

سجدے تو ہم اللہ تعالیٰ کو روز کرتے ہیں مگر ان سجدوں کے تقاضوں کو پورا کبھی نہیں کرتے، ان سجدوں ہی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام امور کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گزارنے کا اہتمام کریں۔

5464545

ان سجدوں ہی کاتقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے کردار و گفتار کو سوارنے کی ہمہ تن کوشش کریں، خود کو مثالی مسلمان بنائیں،
ایسا مسلمان جو لوگوں سے معاملات کرے تو حسن اخلاق کا پیکر ہو، 

معاملات فہمی اس کے کردار کا حصہ ہو، 

نرم خوئی اس کی عادت و اطوار میں شامل ہو، 

ایمانداری اس کی پہچان ہو، 

نماز کی ادائیگی میں کھرا ہونے کے ساتھ ساتھ بندوں کے ساتھ کئے جانے والے معاملات میں بھی وہ کھرا ہو۔

ہم روزی کمانے کے لیے نکلتے ہیں، اس کام میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال آسانی کے ساتھ ہمیں مل سکتا ہے۔

اگر ہم نے اللہ تعالیٰ سے ڈر کر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو یہ جتنا وقت ہم نے روٹی کمانے میں صرف کیا یہ سب عبادت تھا اور روٹی گھر لا کر جو ہم نے خود کھائی اور اپنے بیوی بچوں اور اللہ کے مقرر کیے ہوئے دوسرے حصہ داروں کو کھلائی ان سب پر اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے۔