سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے تبوک میں واقع جزیرہ النعمان تیزی سے ایک نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ جزیرہ بحرِ احمر میں ضباء کے ساحل کے سامنے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس کا کل رقبہ لگ بھگ 7.5 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جو اسے مملکت کے اہم سمندری جزیروں میں شامل کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
جزیرے کی پہچان اس کا قدرتی حسن، شفاف پانی اور متنوع سمندری حیات ہے، جو فطرت سے محبت رکھنے والوں اور غوطہ خوری کے شوقین سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
جزیرہ النعمان کی زمین زیادہ تر پتھریلی اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل ہے، جو زائرین کو سعودی عرب کے مغربی ساحل کے شاندار نظارے پیش کرتی ہے۔
جزیرے کے اطراف پھیلا ہوا سمندر نیلے اور فیروزی رنگوں کے حسین امتزاج میں نظر آتا ہے، جس کے نیچے موجود مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات صاف دکھائی دیتی ہیں۔
اسی شفاف پانی اور قدرتی تنوع کی وجہ سے یہ جزیرہ فوٹوگرافی، نیچر ٹور ازم اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔
فرانسیسی جہاز کا ملبہ، قدرتی آبی میوزیم
جزیرہ النعمان کو عالمی سطح پر خاص شہرت فرانسیسی بحری جہاز ’نانٹس‘ (Nantes) کے ملبے کی وجہ سے حاصل ہوئی، جو 1969ء میں مرجانی چٹانوں سے ٹکرا کر یہاں پھنس گیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ملبہ سمندری حیات کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا اور آج اسے ایک قدرتی زیرِ آب میوزیم کی حیثیت حاصل ہے۔
اس مقام پر رنگ برنگی مچھلیاں، مرجانی چٹانیں اور دیگر سمندری جاندار آباد ہو چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سیاحتی مقام ملکی اور غیر ملکی غوطہ خوروں کو ایک منفرد اور یادگار تجربہ فراہم کرتا ہے۔
نایاب سمندری حیات اور فطری ماحول
جزیرہ النعمان بحرِ احمر کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں نایاب سمندری حیات پائی جاتی ہے۔
یہاں سمندری کیچوے کی ایک خاص قسم موجود ہے، جو صرف اسی خطے تک محدود سمجھی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ جزیرہ مہاجر پرندوں کے لیے ایک اہم عارضی پڑاؤ بھی ہے، جہاں یہ پرندے اپنے طویل سفر کے دوران قیام کرتے ہیں۔
جزیرے کے اردگرد پائی جانے والی نایاب مرجانی چٹانیں اور گرم پانی کی مچھلیاں اس علاقے کو ماحولیاتی اعتبار سے نہایت اہم بناتی ہیں۔
وژن 2030ء اور سیاحت کی ترقی
ایسے دور میں، جب سعودی حکومت وژن 2030ء کے تحت ساحلی سیاحت کو فروغ دینے پر کام کررہی ہے، جزیرہ النعمان کی قدرتی خصوصیات اسے مملکت میں ماحول دوست اور سمندری سیاحت کے لیے ایک سازگار مرکز کے طور پر پیش کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مملکت وژن 2030 کے تحت ساحلی سیاحت کو فروغ دینے پر کام کر رہی ہے۔
سعودی بحیرۂ احمر اتھارٹی کا اہم کردار
اس علاقے کی ترقی اور شہرت کے لیے سعودی ریڈ سی (بحیرہ احمر) اتھارٹی اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کے تحت سیاحتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ سمندری ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ادارے کا مقصد ایسا توازن قائم رکھنا ہے جس سے سیاحت بھی فروغ پائے اور قدرتی وسائل و ماحولیاتی نظام بھی محفوظ رہیں تاکہ آئندہ نسلیں بھی ان نعمتوں سے مستفید ہو سکیں۔