ایک امریکی مصنف نے سیڑھیاں چڑھتے یا اترتے وقت موبائل فون استعمال کرنے کی بڑھتی ہوئی عادت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطرناک رویہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عادت اب صرف روزمرہ کی کوفت ہی نہیں رہی بلکہ عوامی مقامات پر دوسروں کے لیے توجہ کی کمی اور خود پر قابو نہ رکھنے کی علامت بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں
مصنف کے مطابق ریلوے اسٹیشنز، جم، شاپنگ سینٹرز اور دیگر مصروف یا عوامی مقامات پر لوگ موبائل اسکرین میں نظریں جمائے سیڑھیاں چڑھتے اترتے نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف رفتار سست ہو ہوتی ہے بلکہ اچانک رک جانے کے واقعات بھی بڑھتے ہیں، یہاں تک کہ اس بری عادت کے نتیجے میں بعض اوقات حادثات کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
سیڑھیاں اترتے چڑھتے وقت موبائل فون استعمال سے متعلق انتباہ امریکی ویب سائٹ انسائیڈہُک (InsideHook) پر شائع ہونے والے امریکی مصنف ٹینر گیریٹی کے ایک مضمون میں سامنے آیا، جس میں واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس تحقیق میں عوامی مقامات پر بار بار فون چیک کرنے کو ذہنی دباؤ، بوریت یا کسی جسمانی مشقت سے عارضی فرار کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیڑھیاں چڑھنا بھی بذات خود ایک مختصر جسمانی مشقت ہے اور بہت سے لوگ چند سیکنڈز کی اس محنت کو شعوری طور پر برداشت کرنے کے بجائے لاشعوری طور پر موبائل فون کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔
بلاضرورت مصروفیت
مصنف کے مطابق یہ رویہ ایک بڑھتی سماجی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں اسمارٹ فون محض رابطے یا کام کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ہمہ وقت ذہنی سہارا، مصروف رہنے کا آلہ یا پھر موڈ کنٹرول کرنے والی ایک ڈیوائس میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اس حوالے سے اسٹین فورڈ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات اور نشے (یعنی کسی چیز کی لت) کے علاج کی ماہر ڈاکٹر اینا لیمبکے کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز انسان میں ایک ایسی جبری عادت پیدا کرتے ہیں، جس کے ہاتھوں مجبور کئی صارفین لاشعوری طور پر بار بار فون چیک کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی شہری روزانہ اوسطاً 200 مرتبہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں جب کہ اکثر افراد اس تعداد کو بھی کم سمجھتے ہیں۔
بری عادت کا سادہ حل
مضمون کے مصنف ٹینر گیریٹی نے اس بری عادت سے نمٹنے کے لیے ایک سادہ سا اصول تجویز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے موبائل فون جیب میں رکھ دیں، چند لمحوں کی جسمانی مشقت کو قبول کریں اور اس عمل کو ایک سے دو منٹ کی مختصر مگر توجہ طلب ورزش میں بدل دیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس طرح نہ صرف آپ کی توجہ بحال ہوتی ہے بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی یہ عمل فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
قارئین کے لیے چیلنج
مصنف نے اپنے مضمون کے اختتام پر قارئین کو براہِ راست ایک چیلنج دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سیڑھی سے پہلے ذہن کو حاضر کریں، اپنے گھٹنوں کو شعوری طور پر حرکت دیں اور جان بوجھ کر اس لمحے کو تھوڑا سا مشکل بنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ موبائل اسکرین سے ملنے والا یہ مختصر وقفہ آپ کے جسم اور دماغ دونوں کو یکسو کرنے کا بہترین موقع ہو سکتا ہے۔