اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

گولڈ 5600 ڈالر پہنچ گیا، کہاں دم لے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نمایاں طور پر امریکی ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے (فوٹو: سبق)

سونے نے فی اونس 5600 ڈالر کی سطح پر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کیا اور قیمتی دھاتوں کی منڈی میں جاری تیز رفتار اضافے کا سلسلہ برقرار ہے۔ 

یہ رجحان محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی طلب اور عالمی سطح پر جاری معاشی و مالی دباؤ کے تناظر میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یہ اضافہ متعدد عوامل کے باعث ہوا جن میں نمایاں طور پر امریکی ڈالر کی قدر میں کمی شامل ہے جس نے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے سونے کی کشش میں اضافہ کیا ہے۔

5446
مارکیٹ کھلتے ہیں گولڈ نے بلندی کا سفر جاری رکھا

اس کے علاوہ جغرافیائی سیاسی خدشات میں اضافہ اور بڑی معیشتوں کی مالی و زرعی پالیسیوں سے وابستہ غیر یقینی صورتحال نے بھی سونے کی طلب کو تقویت دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا اب محض مہنگائی سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اسے ایک اسٹریٹجک اثاثہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں، مالی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور بعض بڑی کرنسیوں پر اعتماد میں کمی کے مقابلے میں قدر کو محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں، اداروں اور مرکزی بینکوں نے زرد دھات میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔

موجودہ کارکردگی مضبوط تیزی کے رجحان کی عکاس ہے، خصوصاً جب قیمتیں 5600 ڈالر کی سطح عبور کر رہی ہیں، جسے سونے کی تجارت میں ایک اہم نفسیاتی حد سمجھا جاتا ہے۔ 

عالمی معاشی منظرنامے میں کسی بڑی تبدیلی کے بغیر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ اوپر کی جانب رجحان برقرار رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

5464564

دوسری جانب، ماہرین قلیل مدت میں منافع خوری کے باعث محدود قیمتوں میں اصلاح کے امکان کو رد نہیں کرتے تاہم ان کا مؤقف ہے کہ مجموعی رجحان اب بھی سونے کے حق میں ہے، خاص طور پر عالمی بے یقینی اور روایتی اثاثوں پر حقیقی منافع کی کمزوری کے پیش نظر۔

یہ تاریخی اضافہ سرمایہ کاروں کے رویّے میں واضح تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سونا اب خطرات کے انتظام اور سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں تنوع کے لیے ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے، ایسے دور میں جسے عالمی منڈیوں کے لیے حالیہ برسوں کی سب سے نازک اور پیچیدہ مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔