اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

شعبان، غیر حرمت کے مہینوں میں سب سے محترم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آ پﷺ سے نصف شعبان تک روزہ رکھنے کی صحیح روایت ملتی ہے (فوٹو: اسلام آن لائن)

ام معتصم باللہ

جدہ

کوئی شبہ نہیں کہ ماہ شعبان غیر حرمت کے مہینوں میں اہم مقام رکھتا ہے جس میں آ پﷺ سے نصف شعبان تک روزہ رکھنے کی صحیح روایت ملتی ہے لیکن کسی بھی صحیح حدیث سے روزہ کے علاوہ کوئی اور عمل وارد نہیں اور نہ ہی کسی صحیح حدیث سے نصف شعبان (15ویں شب) کی فضیلت ثابت ہے۔

بعض مفسرین نے سورہ دخان کی آیت ’انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ‘ سے غلط استدال کیا ہے کہ قرآن کا نزول شب برات میں ہوا ہے جبکہ قرآن خود فرما رہا ہے کہ ’شہر رمضان الذی انزل فیہ القران‘ (البقرہ 185) اور سورہ القدر، رمضان کے ایام کی وضاحت کر کے لیلۃ القدر کی تخصیص بھی کررہا ہے۔

مزید پڑھیں

بعض طبقات میں شب برأت کو ایک منفرد اہتمام حاصل ہے، جہاں بدعت کا ہجوم ہوتا ہے، وہاں سنت کا نجوم ماند پڑجاتا ہے۔

سورہ الدخان کی اس آیت کے تحت مفتی محمد شفیع نے لکھا جسکا خلاصہ یہ ہے:

لیلۃ مبارکۃ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے۔ 

رسول اللہﷺ سے بھی یہ منقول ہے کہ اللہ تعالی نے جتنی

 کتابیں ابتدائے دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء علیہم السلام پر نازل فرمائیں، وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں میں نازل ہوئی ہیں۔

بعض مفسرین نے لیلۃ مبارکۃ سے شب برأت مراد لی ہے مگر اس رات میں نزول قرآن دوسری تمام نصوص قرآن اور روایات حدیث کے خلاف ہے۔

حضرت ابن عباس نے یہ بیان فرمایا کہ یہ رات جس میں نزول قرآن ہوا یعنی شب قدر اس میں مخلوقات کے متعلق تمام اہم امور جن کے فیصلے اس سال میں اگلی شب قدر تک واقع ہونے والے ہیں، طے کئے جاتے ہیں کہ کون کون اس سال میں پیدا ہوں گے، کون کون آدمی اس میں مریں گے، کس کو کس قدر رزق اس سال میں دیا جائے گا۔

4554564 1

چونکہ بعض روایات حدیث میں شب برأت یعنی شعبان کی 15 ویں شب کے متعلق بھی آیا ہے کہ اس میں آجال وازراق کے فیصلے لکھے جاتے ہیں اس لئے بعض حضرات نے آیت مذکورۃ میں لیلۃ مبارکۃ کی تفسیر لیلۃ البرات سے کر دی ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ 

روح المعانی میں ایک بلا سند روایت حضرت ابن عباسؓ سے اس مضمون کی منقول ہے۔

آگے فرماتے ہیں کہ اصل بات جو ظاہر قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ سورۃ دخان کی آیت میں لیلۃ مبارکۃ اور فیہا یفرق وغیرہ کے سب الفاظ شب قدر ہی کے متعلق ہیں۔

54564546

تفہیم القرآن میں بھی اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ سورہ القدر سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے شاہی نظم ونسق میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں وہ افراد اور قوموں اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کر کے اپنے فرشتوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ 

بعض مفسرین جن میں حضرت عکرمہ سب سے زیادہ نمایاں ہیں کو یہ شبہ لاحق ہوا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے کیونکہ بعض احادیث میں اس رات کے متعلق یہ بات منقول ہوئی ہے کہ اس میں قسمتوں کے فیصلے کئے جاتے ہیں لیکن ابن عباس، ابن عمر، مجاہد، قتادہ، حسن بصری، سعید بن جبیر، ابن زید، ابو مالک ضحاک اور دوسرے بہت سے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رمضان کی وہی رات ہے  جسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے اس لئے کہ قرآن مجید خود اسکی تصریح کر رہا ہے اور جہاں قرآن کی صراحت موجود ہو وہاں اخبار آحاد کی بنا پر کوئی دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

54564546 1

ابن کثیر کے مطابق عثمان بن محمد کی جو روایت امام زہری نے شعبان سے شعبان تک قسمتوں کے فیصلے ہونے کے متعلق نقل کی ہے وہ ایک مرسل روایت ہے۔ 

قاضی ابوبکر ابن العربیؒ فرماتے ہیں کہ نصف شعبان کی رات کے متعلق کوئی حدیث قابل اعتماد نہیں، نہ اسکی صحت کے بارے میں اور نہ اس امر میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں لہذا اسکی طرف التفات نہیں کرنا چاہئے۔ ( احکام القرآن)

بعض حضرات نے کثرت روایت کی بنا پر ضعیف احادیث پر جو فضائل اعمال میں ہوں، عمل کی گنجائش رکھی ہے لیکن گنجائش دینا شیطان کو بدعت اور خرافات کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے جس کی جیتی جاگتی تصویر آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے