وزیرِ بلدیات اور دیہی امور و ہاؤسنگ ماجد الحقيل نے آج پیر کو ریاض میں پانچویں رئیل اسٹیٹ فورم کا افتتاح کیا ہے۔
فورم میں دنیا کے 140 سے زائد ممالک سے 300 سے زیادہ ماہرین و مقررین اور سینکڑوں سرمایہ کار شریک ہیں۔
وزیر بلدیات و دیہی امور و ہاؤسنگ نے بتایا ہے کہ اس ایڈیشن کا مقصد رئیل اسٹیٹ کے مستقبل کا جائزہ لینا، اس کے افق کو سمجھنا اور عالمی تجربات سے سیکھنا ہے تاکہ مارکیٹ کے استحکام اور ذمہ دارانہ ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اسٹریٹجک انتخاب کے طور پر متوازن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو اپنایا ہے تاکہ مارکیٹ میں استحکام، قیمتوں میں انصاف اور شعبے کی پائیدار ترقی ممکن ہو۔
یہ سب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی رہنمائی میں عمل میں لایا جا رہا ہے۔
توازن کی پالیسی مارکیٹ کے حجم اور ضروریات کی واضح تشخیص
کے بعد ترتیب دی گئی ہے تاکہ قیمتوں میں منظم اصلاح ہو اور شعبے کی نمو و سرمایہ کاری کی کشش متاثر نہ ہو۔
الحقيل نے مزید بتایا کہ ابتداء 2026 سے 60 ہزار سے زائد بلز برائے خالی پلاٹ اور خالی جائیدادیں جاری کی گئی ہیں جس کا مقصد غیر استعمال شدہ زمین کی ترقی کو فروغ دینا اور دستیاب رئیل اسٹیٹ کی مقدار بڑھانا ہے۔
انہوں نے ریاض شہر کو رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کے لیے ایک بڑا سرمایہ کاری کا موقع قرار دیا، جہاں ترقی کے لیے دستیاب اراضی 100 ملین مربع میٹر سے تجاوز کر چکی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ تین سال میں 300 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تعمیر ہوں گے۔