اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

شہزادہ محمد بن سلمان، کرپشن کے خلاف علم بلند کرنے والے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی قیادت کا عمل داخلی مہم یا مالی و انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں (فوٹو: واس)
Picture of عبد اللطیف آل الشیخ

عبد اللطیف آل الشیخ

سعودی کالم نگار۔ عکاظ

ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مختصر مگر گہرے بیان کے ذریعے میدانِ مقابلے کی نئی تعریف پیش کی اور بحث کو صرف عملی اقدامات سے آگے لے کر وسیع حکمتِ عملی کے افق تک پہنچایا ہے۔
اب کرپشن کو صرف کیسوں کی تعداد یا واپسی شدہ پیسوں کے حجم سے نہیں ناپا جاتا بلکہ اس کی طاقت اس بات میں ہے کہ وہ ریاست کو اپنا معنی کھونے پر مجبور کرے اور جغرافیہ کو ایک ایسی نرم اور ناقابلِ تحفظ جگہ میں بدل دے جہاں دخل اندازی اور انتشار ممکن ہو۔

مزید پڑھیں

وایتی طور پر کرپشن کو عموماً ریاست کی حدود میں محدود کر کے ایک انتظامی یا اخلاقی خلا کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے نگرانی اور محاسبہ کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ درست ہے لیکن مشرق وسطیٰ جیسے خطے میں یہ کافی نہیں۔ یہاں کرپشن محض داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سرحد پار کرنے والا نیٹ ورک بن چکا ہے، جو انتشار سے غذا لیتا ہے، ریاست کو

 کمزور کرتا ہے اور جتنا زیادہ مرکزیت کمزور ہوتی ہے اتنا ہی ترقی کرتا ہے۔
کرپشن کے دو پہلو ہیں، وہ جو پیسے چرا لیتا ہے جسے اعداد و شمار اور کیس فائلز سے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا وہ کرپشن جو ریاست سے اس کا معنی اور طاقت چھین لیتا ہے، جو فیصلے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، اداروں کو صرف شکل کی حد تک محدود کر دیتا ہے، سرحدوں کو نرم کر دیتا ہے اور خود مختاری کو سودا یا مذاکرات کے قابل بنا دیتا ہے۔

یہ کرپشن صرف دفاتر میں موجود نہیں ہوتا بلکہ علاقائی انتشار کے ماحول سے سانس لیتا ہے، بڑے نعروں، پرفریب اشتہارات، مفاد پر مبنی اتحادوں اور پروجیکٹس کے ذریعے حرکت کرتا ہے جو اثر و رسوخ کے نام پر مارکیٹوں میں انتشار اور تباہی کی سرمایہ کاری فراہم کرتے ہیں۔
لہٰذا سعودی قیادت کا عمل آج صرف داخلی مہم یا مالی و انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں۔ 

یہ ایک مکمل نظام کو تحلیل کرنے کا عمل ہے، ایک ایسا نظام جو طویل عرصے تک خطے کی کمزوری اور ریاستوں کو اندر سے کمزور کرنے کے خیال پر مبنی رہا، اور جو انتشار کو سیاسی و اقتصادی فائدے کے لیے استعمال کرتا رہا۔

ہم ایک مہم کے سامنے نہیں بلکہ ریاست کے توازن کو نئے سرے سے قائم کرنے، خود مختاری کی تعریف کو دوبارہ بنانے اور واحد سٹریٹجک اصول کو مضبوط کرنے کے عمل کے سامنے ہیں:

ریاست جو خود کو انتشار سے محفوظ رکھتی ہے، وہ ایک ہی وقت میں اپنی دولت، فیصلے اور مستقبل کو محفوظ کرتی ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے