جمعہ کے روز تاریخ میں پہلی بار اسپاٹ مارکیٹ میں چاندی کی قیمتیں 100 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو گئیں جہاں مضبوط خریداری اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث لین دین میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق چاندی کا 100 ڈالر فی اونس تک پہنچنا سرمایہ کاروں کے محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ ہے جو موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
مزید پڑھیں
ادھر گولڈ بھی 5 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح کو چھونے کے لیے پر تول رہا ہے اور توقع ہے کہ مارکیٹ کلوزنگ تک تاریخی بلندی قائم کرلے گا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی گولڈ اور سلور کی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
گزشتہ برس جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت سنبھالنے کے بعد سے اب تک چاندی کی قیمتوں میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔
یہ نمایاں اور مضبوط اضافہ بنیادی طور پر دھات کی پروسیسنگ صلاحیتوں میں توسیع کو درپیش مسلسل چیلنجز اور مارکیٹ میں رسد کی جاری قلت کے باعث سامنے آیا ہے۔