اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

اے آئی کے عالمی مراکز میں شمولیت، سعودی عرب کا ہدف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

وزیرِ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبد اللہ السواحہ نے کہا ہے کہ ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے پاس تین اہم حکمتِ عملیاں ہیں جن کا جلد اعلان کیا جائے گا۔
ان میں سے ایک ہدف یہ ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بہترین پانچ مراکز میں شامل ہو اور اس شعبے میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہو۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے مدد فراہم کر رہا ہے جیسے توانائی کا شعبہ، اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، چپ سازی اور اس شعبے میں مہارت و تربیت پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے صحت اور حیاتیات کے شعبوں میں

مصنوعی ذہانت کے ذریعے اختراعات کی ہیں جہاں روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے سرجری اور پیچیدہ کام چند گھنٹوں میں مکمل کئے جا سکتے ہیں جبکہ پہلے یہ کئی ہفتے لیتے تھے۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ مجموعی ترقی اور داخلی و عالمی سطح پر اعتماد قائم کیا جا سکے۔

897465

وزیر مواصلات نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی امریکہ کے ساتھ وسیع شراکتیں اور اتحاد ہیں جو معیشت کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر بہترین ٹیکنالوجی مراکز قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے جدید مراکز قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس شعبے میں خصوصی مہارتیں موجود ہیں جو اسے دنیا کے دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی اور AI کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔