نیند کے ماہر ڈاکٹر منیش نے یہ بتایا ہے کہ وہ کون سا اعصابی عمل ہے جو لوگوں کو خراٹے کے باوجود گہری نیند لینے کے قابل بناتا ہے جبکہ خراٹوں کی یہی آواز دوسروں کے لیے شدید پریشانی کا سبب بنتی ہے۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر منیش نے وضاحت کی ہے کہ انسانی دماغ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ آوازوں کو ان کی اہمیت کے مطابق درجہ بندی کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ خراٹے کو دماغ ’کم اہمیت والا شور‘ کے طور پر شناخت کرتا ہے کیونکہ اعصابی نظام اس کی عادت ڈال لیتا ہے اور اسے جاگنے کا سبب نہیں سمجھتا۔
مزید پڑھیں
ڈاکٹر منیش کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کا دماغ زیادہ ترجیح آرام اور مسلسل نیند کو دیتا ہے اس لیے جسم خراٹے کی آواز پر جاگنے کے لیے متحرک نہیں ہوتا، چاہے خراٹے بلند ہی کیوں نہ ہوں بشرطیکہ یہ وہ شخص لینے کا عادی ہو۔
یہ اعصابی عمل ’عادت پذیری‘ (Habituation) کہلاتا ہے، جو انسان کو معمول کی آوازوں کو نظر انداز کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ غیر
معمولی یا اچانک آوازوں، جیسے گھر میں غیر متوقع حرکت پر دماغ فوراً رد عمل ظاہر کرتا ہے کیونکہ یہ خطرے کے اشارے کے طور پر شناخت کی جاتی ہیں اور فوری جاگنے کے عمل کو متحرک کرتی ہیں، اگرچہ نیند میں وہ شخص پرسکون لگتا ہے لیکن کسی بھی غیر متوقع آواز پر اٹھ جاتا ہے جبکہ اپنے ہی خراٹوں کے شور سے نہیں اٹھتا۔
ڈاکٹر منیش نے کہا کہ بہت سے لوگ رات کے دوران چند سیکنڈ کے چھوٹے چھوٹے جاگنے کے ادوار سے گزرتے ہیں، جنہیں صبح یاد نہیں رکھا جاتا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دائمی خراٹے صرف دوسروں کے لیے پریشانی کا سبب نہیں ہی، بلکہ یہ نیند میں سانس رکنے کا خطرہ بھی بڑھا سکتے ہیں جس میں سانس کا سلسلہ بار بار رک جاتا ہے کیونکہ ہوا کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
نیند کے ماہر نے کہا کہ اس رکاوٹ اور بار بار سانس رکنے کے نتیجے میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے دل کے عضلات پر دباؤ، بلند فشار خون اور طویل مدت میں فالج یا دل کے دورے کا خطرہ شامل ہے۔
آخر میں ڈاکٹر منیش نے زور دیا کہ اگر خراٹے کے ساتھ دن میں شدید نیند آنا یا مستقل تھکن محسوس ہونا ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ دل اور سانس کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے اور نیند اور زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
خراٹوں کی وجہ سے اگر دوسرے لوگ پریشان ہو رہے ہوں تو اس کا علاج بھی ممکن ہے۔