اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

خراٹے : دوسروں کے لیے شور، آپ کے لیے سکون

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

نیند کے ماہر ڈاکٹر منیش نے یہ بتایا ہے کہ وہ کون سا اعصابی عمل ہے جو لوگوں کو خراٹے کے باوجود گہری نیند لینے کے قابل بناتا ہے جبکہ خراٹوں کی یہی آواز دوسروں کے لیے شدید پریشانی کا سبب بنتی ہے۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر منیش نے وضاحت کی ہے کہ انسانی دماغ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ آوازوں کو ان کی اہمیت کے مطابق درجہ بندی کرتا ہے۔ 

وقت کے ساتھ خراٹے کو دماغ ’کم اہمیت والا شور‘ کے طور پر شناخت کرتا ہے کیونکہ اعصابی نظام اس کی عادت ڈال لیتا ہے اور اسے جاگنے کا سبب نہیں سمجھتا۔

مزید پڑھیں

ڈاکٹر منیش کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کا دماغ زیادہ ترجیح آرام اور مسلسل نیند کو دیتا ہے اس لیے جسم خراٹے کی آواز پر جاگنے کے لیے متحرک نہیں ہوتا، چاہے خراٹے بلند ہی کیوں نہ ہوں بشرطیکہ یہ وہ شخص لینے کا عادی ہو۔
یہ اعصابی عمل ’عادت پذیری‘ (Habituation) کہلاتا ہے، جو انسان کو معمول کی آوازوں کو نظر انداز کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ غیر

 معمولی یا اچانک آوازوں، جیسے گھر میں غیر متوقع حرکت پر دماغ فوراً رد عمل ظاہر کرتا ہے کیونکہ یہ خطرے کے اشارے کے طور پر شناخت کی جاتی ہیں اور فوری جاگنے کے عمل کو متحرک کرتی ہیں، اگرچہ نیند میں وہ شخص پرسکون لگتا ہے لیکن کسی بھی غیر متوقع آواز پر اٹھ جاتا ہے جبکہ اپنے ہی خراٹوں کے شور سے نہیں اٹھتا۔

ڈاکٹر منیش نے کہا کہ بہت سے لوگ رات کے دوران چند سیکنڈ کے چھوٹے چھوٹے جاگنے کے ادوار سے گزرتے ہیں، جنہیں صبح یاد نہیں رکھا جاتا۔

65421

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دائمی خراٹے صرف دوسروں کے لیے پریشانی کا سبب نہیں ہی، بلکہ یہ نیند میں سانس رکنے کا خطرہ بھی بڑھا سکتے ہیں جس میں سانس کا سلسلہ بار بار رک جاتا ہے کیونکہ ہوا کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔

نیند کے ماہر نے کہا کہ اس رکاوٹ اور بار بار سانس رکنے کے نتیجے میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے دل کے عضلات پر دباؤ، بلند فشار خون اور طویل مدت میں فالج یا دل کے دورے کا خطرہ شامل ہے۔

984562

آخر میں ڈاکٹر منیش نے زور دیا کہ اگر خراٹے کے ساتھ دن میں شدید نیند آنا یا مستقل تھکن محسوس ہونا ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ دل اور سانس کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے اور نیند اور زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
خراٹوں کی وجہ سے اگر دوسرے لوگ پریشان ہو رہے ہوں تو اس کا علاج بھی ممکن ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے