مولانا محمد عابد ندوی
جدہ
رسول ﷲﷺکے نواسہ حضرت حسن ؓروایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول ﷲﷺ کی باتوں میں یہ بات یاد ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
’جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اس کو اختیار کر لو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے‘۔
اس حدیث کو امام احمد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث نہایت اہم اور جوامع الکلم میں سے ہے، مختصر الفاظ میں اہم مضمون کا اس میں بیان ہے۔
انسانوں کے لئے ایک رہنما اُصول اور ضابطہ بیان کر دیا گیا کہ وہ ہر معاملہ میں شک و شبہ میں ڈالنے والے اُمور سے اجنتاب کریں، اس معاملہ کو اختیار کریں جس میں کوئی شک نہ ہو۔
مزید پڑھیں
ایک دوسری کسی قدر طویل حدیث میں یہ مضمون اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ یوں بیان ہوا کہ رسول ﷲﷺنے ارشاد فرمایا:
’بے شک حلال واضح ہے اور بے شک حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ اُمور مشتبہ ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے (یعنی اکثر لوگ ان کے حکم سے واقف نہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام؟) پس جو شخص شبہات سے بچے ،اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا اور
جو شبہات میں پڑے وہ حرام میں پڑ جائے گا‘۔ (متفق علیہ)
اسی طرح ایک اور حدیث حضرت نواس بن سمعانؓ یوں روایت کرتے ہیں، نبیﷺ نے فرمایا:
’نیکی، حسنِ خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کونا پسند کرو کہ لوگ اس سے (تمہارے اس عمل سے) واقف ہوجائیں‘۔ (مسلم)
اسی طرح حضرت ابو امامہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول ﷲﷺ سے دریافت کیا کہ گناہ کیا ہے؟ آپﷺنے جواب میں ارشاد فرمایا:
’جب تمہارے دل میں کوئی چیز کھٹکے تو اسے چھوڑ دو‘ (مسند احمد، مستدرک حاکم)
اس مضمون کی اور بھی احادیث مروی ہیں۔
صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ سے بھی اس سلسلہ میں مختلف جامع اقوال منقول ہیں، حضرت عبد ﷲ بن مسعودؓ کا قول ہے:
’دلوں کی دھڑکن اور چبھن ہی گناہ ہے، جب کسی چیز کے بارے میں دل میں کھٹک اور تشویش پیدا ہو، اسے چھوڑ دو‘۔
حضرت ابو الدرداءؓ کہتے ہیں:
’خیر طمانیت میں ہے اور شر شک میں ہے‘۔
یعنی خیر و بھلائی اس معاملہ میں ہے جس میں دل مطمئن اور پر سکون ہو اور شر و برائی اس معاملہ میں ہے، جہاں شک و شبہ پیدا ہو جائے لہٰذا مشکوک ومشتبہ چیزوں سے بندۂ مومن کو بچنا چاہئے، کسی معاملہ کے ان پہلوؤں کو اختیار کرنا چاہئے جو شک و شبہ سے بالا تر ہوں۔
حضرت عمرؓ سے منقول ہے : ربا اور ریبہ چھوڑ دو۔
یعنی سود بھی چھوڑ دو اور جو صریح سود نہ ہو لیکن تمہیں اس بارے میں شک و شبہ پیدا ہوجائے تو اسے بھی چھوڑ دو۔
حقیقت میں یہ ایمان کا کمال اور تقویٰ پرہیز گاری کا بلند مرتبہ ہے کہ آدمی زندگی کے ہر معاملہ میں رضائے الٰہی کے حصول کو پیش نظر رکھے، طاعات و عبادت میں مشغول رہے، گناہ اور معاصی سے دور رہے۔
زندگی میں بعض مراحل ایسے آسکتے ہیں جہاں حلال و حرام، جائز و نا جائز یا نیکی اور گناہ کی تمیز دشوار ہوجائے یا کسی وجہ سے آدمی شک و شبہ میں پڑ جائے کہ آیا یہ کام نیکی کا ہے یا گناہ کا؟ حلال ہے یا حرام؟ جائز ہے یا ناجائز ؟
ایسے ہی مواقع کے لئے رسول ﷲﷺ کی یہ رہنمائی ہے کہ شک و شبہ کی چیز کو آدمی چھوڑ دے اور جس میں کوئی شک نہ ہو اس کو اختیار کرے۔
اسی کو کبھی دوسرے انداز میں یوں فرمایا کہ کسی چیز کے بارے میں دل کھٹکے تو سمجھے کہ یہ نیکی نہیں بلکہ گناہ ہے اور اس کو آدمی ترک کردے۔
الغرض شک و شبہ والے اُمور ترک کردینا ہی تقویٰ پرہیزگاری کا زینہ ہے۔ آدمی اس وقت تک متقی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ شبہات کو ترک نہ کردے۔
واضح رہے کہ دل میں کھٹکنے والی بات کا معیار ہونا ان ہی اُمور میں ہے جو مشتبہات کے قبیل سے ہوں اور جن میں قرآن و حدیث میں کوئی صریح نص اور واضح حکم موجود نہ ہو۔
اگر کسی معاملے میں صاف و صریح حکم موجود ہو تو پھر دل میں کھٹک پیدا ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔